
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا

لاہور( پ ر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن کی زیر صدارت عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین کی دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین نے متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کیاہے،ترجمان کے مطابق علامیے میں لکھا گیا ہے کانفرنس میں شریک اسلامی تحریکوں کے قائدین گزشتہ 66سال سے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم اور جبرکی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے کشمیری بھائیوں سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کرتاہے کہ ساڑھے چھ لاکھ بھارتی فوجیوں کے ذریعے توڑے جانے والے مظالم اور قائد حریت سید علی گیلانی کی مسلسل نظربندی کانوٹس لیتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کے حقوق دلوائے، کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت اور استعماری سے آزادی کی خاطر مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے کئی قاردادوں کے ذریعے ان کے اس حق کا اعتراف کیا ہے۔،اسلا می تحریکیں مطالبہ کرتی ہیں کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا پیدائشی اور بنیادی حق حق خودارادیت فراہم کیا جائے،علامیے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ تمام تر مظالم اور سازشوں کے باوجود اسلامی تحریکات اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گی اور وہ مصر ، شام ، بنگلہ دیش ، فلسطین ، عراق ، افغانستان ، کشمیر اور اراکان سمیت ہر خطے کے مظلوم انسانوں کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان تمام خطوں میں ہونے والے مظالم کے خلاف ہر ممکن سیاسی ، سفارتی ، قانونی اور اخلاقی جدوجہد جاری رکھیں گی ۔ عالمی اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں نے یہ اعلان لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام دو روزہ انٹر نیشنل کانفرنس آف مسلم لیڈرز کے اختتام پر جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا ۔ کانفرنس میں اردن ، سوڈان ، مراکش ، ملائشیا ، تاجکستان، ترکی ، صومالیہ ، فلسطین ، موریطانیہ ، تیونس ، الجزائر ، سری لنکا ، نیپال ، یمن ، انڈونیشیا ، پاکستان اور کشمیر کی اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی ۔ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے لیے اعلیٰ ماہرین قانون کا ایک عالمی پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے گا اور مسلم ممالک میں جاری مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے مشترک عالمی سفارتی جدوجہد کی جائے گی ۔ عالمی اسلامی تحریکات کے مابین کوآرڈی نیشن ، تبادلہ معلومات اور بھر پور تعاون کی خاطر اس کانفرنس کو ایک مستقل فورم کی حیثیت دیتے ہوئے عالمی سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا اور اس میں مزید اسلامی تحریکات اور عالمی شخصیات کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ۔ اس کی مزید تفصیلات طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیاہے کہ امت کی خواتین کے لیے تعلیم ، حیا ، حجاب ، اسلامی تعلیمات ان کے اصل سرمایہ حیات ہیں ۔ مسلم خاندان اور مسلم خواتین کے خلاف جانبدارانہ اور امتیازی اقدامات کے سدباب کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی ۔ امت کے نوجوانوں کو تباہ کن تہذیبی یلغار اور بے خدا تعلیمی نظام کی خرابیوں سے بچانے کے لیے مشترک عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اختلافات کی خلیج کو ختم کر نے کی بھر پور جدوجہد کی جائے گی ۔ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ عالمی بین الاقوامی کانفرنس اُمت مسلمہ اور انسانیت کو درپیش سنگین بحرانوں کا جائزہ لینے،ان کے بارے میں ایک متفق علیہ موقف اختیارکرنے اور اُمت مسلمہ کے لیے عملی نقشۂ کار تجویز کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں تقریباً20ممالک سے چالیس سے زائد رہنماؤں نے شرکت کی ۔ مراکش سے ملائیشیا تک اسلامی تحریک کے ان اہم سیاسی اور فکری رہنماؤں کی پاکستان آمد بحیثیت قوم ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔ یہ رہنما افراد نہیں کروڑوں انسانوں کے نمائندہ اور ترجمان ہیں ۔ اجلاس نے بدترین خونی فوجی انقلاب کے ذریعے مصری عوام کے جمہوری فیصلوں پر ڈاکہ زنی کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک ہی سال کے بعد صہیونی اور عالمی آقاؤ ں کی سرپرستی میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیاگیا۔ ہزاروں بے گناہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین پر وہ مظالم ڈھائے گئے کہ انسانیت اپنی پوری تاریخ کے سامنے شرمندہ ہو کر رہ گئی ۔ صد آفرین کہ ان تمام غیر انسانی ہتھکنڈوں کے باوجود، اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ مصری قوم نے ظلم کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔ شام میں جاری قیامت صغریٰ بھی دنیا کے ہر زندہ ضمیر انسان کی نیند حرام کررہی ہے۔ ظلم وجبر کے ذریعے کئی عشروں سے شامی قوم پر مسلط ایک ڈکٹیٹر نے صرف اپنے اقتدار کی خاطر پورے ملک کوتباہ اور پوری قوم کو ذبح کرکے رکھ دیاہے۔ شام کھنڈرات میں تبدیل ہو رہاہے اور لاکھوں عوام پڑوسی ممالک کے مہاجر کیمپوں میں سسک سسک کر جینے پر مجبور ہیں۔ اُمت اسلامیہ کے اس نمائندہ اجلاس نے بنگلہ دیش میں جاری ریاستی مظالم پر بھی شدید رنج و غم کااظہار کیا ۔ نام نہاد ٹربیونل کے ذریعے حکومت اپنے تمام مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ پھانسی ،عمر قید اور 90،90سال کی سزا سنائی جارہی ہے ۔ 91سالہ پروفیسر غلام اعظم ،مطیع الرحمن نظامی اور فضل قادر چوہدری سمیت لاکھوں بے گناہ اس ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں ۔ آئندہ انتخابات میں چند ہفتے رہ گئے ہیں اور حکومت ملک کو ایک پولیس سٹیٹ بناتے ہوئے ان میں بھی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکات اور ہر انصاف پسند انسان حکومت بنگلہ دیش سے پُر زور مطالبہ کرتاہے کہ وہ ظلم وبربریت کی سیاست بند کرے۔ تمام سیاسی اسیروں کو رہا کرے ۔ اراکان (میانمار) کے بے نوا مسلمانوں کو بھی عالم اسلام اور عالمی برادری کی طرف سے لفظی مذمت کے سوا کچھ نہیں ملا، لاکھوں بے گناہ انسانوں سے صرف جرم اسلام کی وجہ سے حق زندگی چھینا جارہاہے۔ پڑوس میں واقع مسلمان ملک بنگلہ دیش بھی اراکان کے لاکھوں مظلوم انسانوں کی مدد کرنے کے بجائے ظالم کا ساتھ دے رہاہے۔ اراکان کی خود مدد کرنا تو کجا، عالمی امدادی تنظیموں کے سامنے بھی تمام راستے مسدود کردیے ہیں ۔ یہ اجلاس عالم اسلام ،حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتاہے کہ اراکان میں انسانیت کو مسلم دشمنی کی آگ کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ سرزمین اقصیٰ بھی بدستور نوحہ کناں ہے ۔ کئی سال سے غزہ میں اٹھارہ لاکھ انسانوں کا محاصرہ جاری ہے ۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ امریکہ اور عالمی برادری ایک ناجائز صہیونی ریاست کی پشتیبانی کرتے رہنے کی بجائے عدل و انصاف کا ساتھ دے اور فلسطینیوں کے قتل ناحق کا سدباب کیا کرے۔یہ اجلاس افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے اور پاکستان یمن صومالیہ اور دیگر ممالک پر جاری امریکی ڈرون حملوں کی مذمت اور انہیں ان ممالک کی خود مختاری پر سنگین حملہ قرار دیتاہے ۔ امریکی استعمار کو افغانستان اور عراق سے فوراً اور مکمل طور پر نکل جانا چاہیے۔عالمی اسلامی تحریکات ، عبادت گاہوں اور بے گناہ شہریوں پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید مذمت کرتی ہیں۔ ایک سچا مسلمان نہ ظلم برداشت کرتاہے اور نہ خود کسی پر ظلم ڈھا سکتاہے۔ ان سازشوں کے پیچھے اسلام دشمن قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔