تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ حریت قیادت پاکستان 1999ء کے بعد کی کشمیر پالیسی سے مطمئن نہیں ہے ۔ محمد غالب مانچسٹر( پ ر ) تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر محمد غالب نے کہا کہے کہ تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ حریت قیادت پاکستان 1999ء کے بعد کی کشمیر پالیسی سے مطمئن نہیں ہے ۔ اس سے بھارت نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے ۔کشمیریوں کی نظر میں پاکستان گیارہ مئی کو ہونے والے الیکشن پر لگی ہوئی ہیں۔ تحریک آزادی کے بیس کیمپ میں کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کے قیام اور کشمیری قیادت کا الیکشن کے دوران پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں اور مسئلہ کشمیر کو منشور میں شامل کرنے سے جو مہم شروع کر رکھی ہے اس کے الیکشن کے بعد ہی نتائج سامنے آ سکیں گے کہ آئندہ اقتدار میں آنے والی حکومت مسئلہ کشمیر کو کتنی اہمیت دیتی ہے جب کہ الیکشن کے دوران تو سارے لیڈر وعدے کرتے ہیں ۔ تحریک کشمیر برطانیہ ناتھ زون کے صدر ملک رفیق طاہر ‘ سیکرٹری محمد آزاد چوہدری کو انے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی کی سر براہی میں کشمیر رابطہ کونسل کا قیام عمل میں لایاگیا ہے ۔ آزا دکشمیر کی ساری جماعتیں اور حریت کانفرنس پر مشتمل یہ مشترکہ پلیٹ فارم جن مقاصد کے لیے قائم ہوا ہے اس کی ہر جگہ پذیرائی کی جا رہی ہے البتہ اس کا قائم رہنا وقت اور حالات کی اہم ضرورت ہے ۔ افضل گورو کی شہادت کے بعد بیس کیمپ میں اتحاد کی ایک فضا قائم ہوئی ہے حکومت آزاد کشمیر نے اس پلیٹ فارم کے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید سے ملاقات میں بھی ایسے ایشوز کو کو اٹھایا گیا ہے اور انہوں نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے اپنا بھر پور تعاون پیش کریں گے۔ محمد غالب نے کہا کہ بیس کیمپ میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں ان کی پالیسی کے حوالے سے بڑے تحفطات ہیں ان کی پاکستان اور آزا دکشمیر سے بڑی توقعات وابستہ ہیں پاکستان کی 1999ء سے پہلے کشمیر پر جو پالیسی تھی اس کو اپنانے کی ضرورت ہے اور بھارت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ جس طرح کے اعتماد سازی کا سلسلہ شروع کیاگیا ہے اس کے اندر شدید رد عمل پایا جاتا ہے ۔