
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا

کوٹلی( پ ر) جماعت اسلامی آزادکشمیر کے سابق سیکرٹری جنرل محمود الحسن چودھری نے کہاہے کہ حکومت پاکستان جماعت اسلامی کے کشمیر مارچ میں پیش کردہ مطالبات پر فوری عمل درآمد کروائے ،آزادکشمیر ،گلگت بلتستان اور پاکستان سے لاکھوں افراد نے اسلام آباد کشمیر مارچ میں شامل ہو کر حکومت کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کشمیرکی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرے ،پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام حکومت کے منتظر ہیں اگر حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو یہ عوام حکومت کو اسلام آبادسے بے دخل کر کے ایسے لوگوں کو اسلام آباد میں بیٹھائیں گے جو ملک کی سلامتی اور کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کریں ،ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر سے ہزاروں افراد اسلام آباد کشمیر مارچ میں شامل ہوئے ہیں ہم آزادکشمیر کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔