
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا
چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی قانون ساز اسمبلی آزادکشمیر 1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں
جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے زیراہتمام پلوامہ دھماکے اور پاکستان پر بھارت جارحیت کے حوالے سے کل جماعتی کشمیرکانفرنس کا انعقاد کیاگیاہے،کانفرنس میں صدر ریاست سمیت آزاد کشمیرکی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔
جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کرآج تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوبھرپور کردار ادا کیا وہ تاریخ کا درخشاں
پاکستانی اور ہندوستانی مندوبین کے موقف کی تفصیلی سماعت کے بعدمسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کمیشن نے 5جنوری 1949ء کو مسئلہ کشمیر پر اپنی جامع قرارداد منظور کی جسے ہندوستان اور پاکستان نے اتفاق رائے سے قبول کیا ۔اس قرار داد کی رو سے دونوں ممالک کو پابند کیاگیا

گزشتہ141دنوں سے محاصرے میں ہیں محاصرہ توڑنے کے لیے انسانی بنیادوں پر امدادی کاروان چلایا جائے،کشمیر کی آزادی کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا جائے،قومی سیاسی قیادت کی کانفرنس طلب کر کے متفقہ کشمیر پالیسی کا اعلان کیا جائے،کشمیر بچاؤ مارچ سے صدر آزاد ریاست جموں وکشمیر سردار مسعود خان، نائب امرائجماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم،لیاقت بلوچ،سیکرٹری جنرل امیر العظیم،امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان،جماعت اسلامی آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید ترابی،امیر جماعت اسلامی خیبر پختوانخواہ سینیٹر مشتاق احمد،امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم،جماعت اسلامی سینٹرل پنجاب کے امیر جاوید قصوری عبدالاکبر چترالی،زبیر گوندل،نصراللہ رندھاوا،زبیر صفدر،نعمان شاہ،سمیت دیگر قائدین کا خطاب اسلام آباد(پ ر) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کو بچانے کے لیے عوام کا سمندر اسلام آباد میں موجود،عالمی ضمیروں کو جھنجوڑنا چاہتے ہیں کشمیر ساری انسانیت اور امت مسلمہ کا مسئلہ ہے،کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے،سوا کروڑ کشمیریوں کو بچانے اور انہیں حق خودارادیت لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے کشمیری ہماری شہ رگ شہ رگ کے دفاع کے لیے اپنا تن من دھن سب قربان کریں گے،کشمیریوں نے پاکستان کی محبت میں 5لاکھ شہداء پیش کیے،کشمیریوں نے ہزاروں نوجوان بینائی سے محروم،خواتین کی بے حرمتی،بزرگوں پر تشدد برداشت کیا،سید علی گیلانی،شبیر شاہ،یاسین ملک،آسیہ اندرابی،اشرف صحرائی کو پیغام دیتا ہوں پاکستان آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے کروڑوں عوام ان کی پشت پر ہیں میں پیغام دیتا ہوں کشمیریوں تم ہمارے ہو پاکستان تمہارا ہے ہر گلی کوچہ ویران ہو گیا،کشمیر کی حیثیت ختم ہو گئی دنیا کے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کے نام سے ریاست موجود نہیں ہے اردو زبان ختم کردی گئی ہندی زبان رائج کردی سری نگر سٹیڈیم ریڈیو کا نام تبدیل کردیا گیا ہزاروں کشمیری ہندوستان کی جیلوں میں منتقل کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے کشمیر بچاؤ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،ایوانوں میں بیٹھے حکمران گنگے بہرے ہیں انہیں اپنے مفادات عزیز ہیں،مودی گجرات کے مسلمانوں اوربابری مسجد کا قاتل ہے پوری ریاست جموں وکشمیر کو جیل میں تبدیل کردیا ہے دنیا کے سب سے طویل ترین محاصرہ کشمیر کا جاری ہے کشمیریوں کے انسانی تعلق ہے سوا کروڑ کشمیری آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے اس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ میں ٹیپوسلطان ہوں میں اس انتظار میں رہا کہ ٹیپوسلطان نے اعلان کیا کہ جو ایل او سی کی طرف جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہو گا اس سے مایوسی کا پیغام گیا ہے،وزیر اعظم صاحب اگر آپ قوم کی ترجمانی نہیں کرسکتے تو کرسی کو چھوڑیں اس ملک میں یہ ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کی حفاظت کشمیرکو آزاد کرواسکتا ہے،نظام مصطفی کا قیام اور کشمیر کی آزادی ہم ہدف ہے،انہوں نے کہاکہ ایک تقریر کے بعد سنگ مر مر کے قبرستان میں لیٹ گے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو ثالث بنانے کی کوشش کی اس نے مودی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اعلان کیا کہ ہم نے ریڈیکل اسلام کے خلاف لڑنا ہے مودی اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا ہے انہوں نے کہاکہ کشمیر پر کوئی سازش قبول نہیں اگر حکمرانوں نے سازش کی تو میرا ہاتھ اور حکمرانوں کا گریبان ہو گا آخری فوجی اور آخری فوجی تک لڑیں گے 5ماہ سے آخری گولی کیا ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ہندوستان دریاؤں کا رخ موڑ کر پاکستان کو بنجر صحرا میں تبدیل کر نا چاہتا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی امید کا مرکز ہے،حکمرانوں نے قومی یکجہتی کو تباہ کیا اداروں کو تباہ معیشت کمزور کرپشن میں اضافہ ہوا غریب کے گھر غریب مسکین کے گھر میں مسکین پیدا ہوتا اور امیر امیر تر ہو رہا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کا بڑا مسئلہ کشمیر ہے مہنگائی بے روزگاری ہے لوگ بھوکے مررہے ہیں سیاسی لیڈر کے نزدیک غریب کا مسئلہ شامل نہیں ہے،سراج الحق نے کہاکہ او آئی سی کا سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے ہندوستان کے ساتھ تمام معاہدات ختم کیے جائیں،فضائی حدود بند کی جائے ہندوستان ہمارے بھائیوں کا قتل عام کررہا ہے ان کے جہاد ہماری فضائی حدود سے گزر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ امت مسائل کے حل نہیں کررہا کشمیر کی آزادی کا واحد حل جہاد فی سبیل اللہ ہے حکومت کا فرض ہے کہ وہ جہاد کا اعلان کرے آزادکشمیر حکومت کو اختیارات دئیے جائیں باڑ اٹھانے کے لیے عملی اقدام کیا جائے۔کشمیر بچاؤ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ریاست سردار مسعود خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جموں وکشمیر کے عوام کی طرف سے ان کا شکر یہ ادا کرتا ہوں،پوری دنیا میں جماعت اسلامی نے آزادی کشمیر کے پرچم کو بلند رکھا ہے یورپ اور برطانیہ میں تحریک کشمیر برطانیہ فعال اور متحرک ہے جماعت اسلامی کے ساتھ بنگلہ دیش میں کیا کیا جارہا ہے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی گئی ہے جموں وکشمیر کے عوام کی طرف سے جماعت اسلامی کا شکر یہ ادا کرتا ہوں 5اگست کے بعد پوری قوم نے جذبے کااظہار کیا لیکن جس بے باکی اور اعتماد اور ولولے کے ساتھ جماعت اسلامی نے کشمیریوں کا ساتھ دیا کشمیریوں کی نسلیں اس کو یاد رکھیں گی،جماعت اسلامی کی قیادت بہت موثر ہے مسئلہ کشمیر کوہر فورم پر اٹھایا سراج الحق کو محسوس ہوا میڈیا میں کشمیر نظر نہیں آرہا تو انہوں نے بڑے مارچ کا انعقاد کیا کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا،سراج الحق صادق اور امین پوری قوم کی آواز ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے 22کروڑ عوام جموں وکشمیر کی عوام کی موجودگی میں کوئی سوا نہیں ہوسکتا نہ سودا ہوا نہ ہونے دیں گے پاکستان کے عوام کسی سودے کی اجازت نہیں دیں گے،72سال سے کشمیری پاکستان کی تکمیل بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں 141دن سے کشمیریوں کو اپنے گھروں میں محصور کر کے رکھا ہے،صدر ریاست مسعود خان نے کہاکہ کشمیریوں کو ہندوستان کی جیلوں میں لے جا کر مظالم ڈھائے جارہے ہیں پوری قوم سے سوال پوچھتا ہوں کہ کشمیری آپ سے پوچھتے ہیں کہ کشمیری محصور ہیں تو بیس کیمپ کے عوام اور پاکستان کے عوام تو محصور نہیں ہیں 31اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کے حصے بخرے کردیے ہیں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے اب بھی نہیں تو کب جواب دو گے،انہوں نے کہاکہ ہندوستانی آرمی چیف کی دھمکی وہ آزادکشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ہندوستان نے پاکستان کے اندر درپردہ جنگ شروع کررکھی ہے ہندوتوا کے نظریے کے تحت ہندوستان اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ رہا ہے پورا پاکستان مودی کے خلاف کھڑا پاکستان کیوں خاموش ہے،عالمی میڈیا نے کشمیریوں کے دروازے کھول دیے دنیا کی پارلیمنٹس آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں طاقت ور حکمران آپ کے ساتھ نہیں لیکن دنیا آپ کی آواز سن رہی ہے پاکستان کے حکمران کشمیر پر توجہ کیوں نہیں دے رہے او آئی سی نے کشمیریوں کا ساتھ دیا 5اگست کے بعد کشمیر پر خاموشی ختم ہوئی تھی قوم کھڑی ہوئی تھی اب اسی جذبے کی ضرورت ہے ساری دنیا نے پاکستان کے اقدام کو سراہا تھا مقبوضہ کشمیر پر قبضہ پاکستان پر حملہ ہے ہم حالت جنگ میں ہیں اس جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے یہ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے دہشت گرد ہندوستان پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مایوس کن کردار ہے کشمیریوں کو آگر آزاد کرانا ہے تو تحریک آزادی کشمیر کی پشتیبانی کا حق ادا کرنا ہو گا کشمیریوں نے جانیں دی ہیں شہادتیں پیش کیں ہیں ہماری صفوں میں ایسے غدار موجود ہیں جو تحریک آزادی کشمیر کو ترک کرنے کا کہہ رہے ہیں سیاسی اور سفارتی محاذ اہم قوم عسکری تیار ی کرے یہ جنگ افواج پاکستان کے ساتھ پوری قوم لڑے گی صدر ریاست نے کہاکہ کشمیر مارچ کے موقع پر یہ عہد کریں کہ پاکستان اور کشمیر کی تقدیر اپنے ہاتھ میں لیں گے 72سال سے دنیا کے آگے فریاد کررہے ہیں اس کو فتح اور جشن میں تبدیل کریں،انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی طرح دیگر جماعتیں بھی سرگرمی دیکھائیں کشمیریوں کے لیے آگے بڑھیں،انہوں نے کہاکہ ہندوستان پاکستان میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھا رہا ہے سیاسی جماعتیں اختلافات بھلا کر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔کشمیر بچاؤ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کشمیری گزشتہ 2سو سال سے میدان جہاد میں ہیں 1947ء میں ہمارے اسلاف نے جہاد کے ذریعے ریاست کے دونوں خطے آزاد کروائے ہیں اس وقت مجاہدین جموں راجوری اور سری نگر تک پہنچ کر کسی نادیدہ قوت کے انتظار میں بیٹھے رہے،انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں براجمان حکمران کماحقہ کردار ادا کرتے تو آج کشمیری آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہوتے آج لاکھوں افراد اسلام آباد میں جمع ہو کر مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آزادی کی اس جدوجہد میں اہل کشمیر اور اہل پاکستان آپ کے شانہ بشانہ ہیں حکمرانوں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں عوام کی کوئی مجبوری نہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا اعلان کرے انہوں نے کہاکہ کشمیری تقسیم کشمیر کے کسی فارمولے کو قبول نہیں کریں گے اگر اس طرح کی سوچ کہیں ہے تو وہ ذہنوں سے نکال لیں ورنہ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی کال دیں گے، ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان اپنے اندرونی و بیرونی خطرات میں بری طرح گھیری ہوئی ہے مقبوضہ کشمیر کے 140دن سے مقید محصور پیرو جوان ہر مجاہد صفت بیٹے بہن کی طرف سے جماعت اسلامی پاکستان اور پاکستان کے مجاہد صفت عوام کا شکر گزار ہوں،72سال سے کشمیری پاکستان کی تکمیل بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت نے اہل کشمیر کے حقیقی پشتیبان ہونے کا کردار ادا کیا،بزرگ بہنیں بیٹیاں موجود ہیں،ہم پاکستانی قوم کے شکر گزار ہیں لیکن پاکستان کے حکمران خواب غفلت سے سوئے ہیں محض ایک تقریر کے بعد اسلام آباد میں مکمل خاموشی ہے 31اکتوبر کو مقبوضہ کشمیر کو اپنی یونین کا حصہ بنا دیا خطوط اور ٹوئٹ کیے جارہے ہیں،صدر ریاست مسعود خان پوری ریاست کے نمائندے ہیں کشمیریوں کی استقامت کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں غفلتوں اور اقتدار کے کھیل میں گرے ہوئے حکمرانوں کو دیکھ کر کشمیری کھڑے ہیں شکوک وشبہات پیدا ہو رہے ہیں 2سوسال سے کشمیری جدوجہد کررہے ہیں اسلام آباد سے بے پناہی کا خنجر پرویز مشرف غدار کی صورت میں مجاہدین کی پیٹھ پر خنجر گھونپا جاتا ہے،وحدت کشمیر پر کوئی کمپرمائز نہیں کریں گے تقسیم کشمیر کی کسی بھی سازش کو ناکام بنائیں گے کوئی تقسیم ضرب کا فارمولہ ہماری لاشوں سے گزر کر بھی نہیں عمل ہونے پائے گا مودی کے بڑوں کو1947ء کشمیریوں نے ٹوپی دار بندوقوں اور کلہاڑیوں سے ماربھگایا تھا قبائلی عوام نے ہماری مدد کی کشمیری نہ مودی سے گھبرائے ہیں نہ جھکے ہیں کشمیری شہداء کے خون سے کسی کو غداری نہیں کرنے دیں حکمران مودی کی حکمت عملی کے خلاف کونٹر حکمت عملی کا اعلان کریں سری نگر کے سقوط کے بعد اکھنڈ بھارت کا ایجنڈا مودی کا خواب ہے عمران خان آزادی کا واضح روڈ میپ دیں،بیس کیمپ کے کردار 1947بحال کیا جائے سید علی گیلانی چٹان کی طرح کھڑا ہے کشمیریوں کو ریاست پاکستان سے محبت ہے کشمیریوں کو جدوجہد آزادی کا حق اقوام متحدہ کا چارٹر فراہم کرتا ہے۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کشمیر بچاؤ مارچ پاکستان کے 22کروڑ غیور عوام اور جماعت اسلامی پا کستان اقوام متحدہ،عالم اسلام اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم کرنے،مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے اور 140روز سے سوا کروڑ کشمیریوں کے لاک ڈاؤن اور ریاست جموں وکشمیر کی معیشت کو تباہ کرنے کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرے،بھارتی حکومت کو غیر انسانی،غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات کے خلاف مظلوم کشمیریوں کی حمایت کرے،اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے حق خودارادیت دلوانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے اور انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب بھارت پر عالمی پابندیاں عائد کرے،بھارتی تسلط اور ظلم وستم کی وجہ سے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام عرصہ دراز سے بدترین انسانی المیہ کا شکار ہیں لہٰذا کشمیری عوام کی بھرپور مالی معاونت کے لیے اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہیومنیٹیرین اسسٹنس فنڈ(Humanitarian Assistance Fund)قائم کیا جائے،ہم ترکی،ملائیشیا،ایران اور چین کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہیں تا ہم اس امر پر افسوس کااظہار کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی بے حسی اور بے عملی نے ظالم بھارت کو بے لگام کردیا ہے،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے زبانی دعوؤں او بے عملی نے بھی عالمی برادری اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے عوام کو مایوس کیا ہے اس کے لیے آج آج کا یہ نمائندہ عوامی حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی آزادی کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کرے اور اس پرعمل درآمد کے لیے نقشہ کار (Road map)دے،قومی سیاسی قیادت کی کانفرنس طلب کر کے ایک متفقہ قومی کشمیر پالیسی کا اعلان کرے،موثر سفارت کاری کے ذریعے قومی کشمیر پالیسی پر عالمی رائے عامہ کو ہموار کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا باقاعدہ اجلاس طلب کرنے کے لیے اقدامات کرے،اسلامی ممالک ترکی،ایران اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر اسلامی کانفرنس تنظیم اوآئی سی کا اجلاس طلب کر کے کشمیریوں کے حق خودارادیت،انسانی اور سیاسی حقوق کے لیے بھارت کے خلاف واضح موقف اختیار کرے،حکومت پاکستان حق خودارادیت کے اصولی موقف پر قائم رہے اور تقسیم کشمیر کے فارمولوں کو مستردکرے وحدت کشمیر اور حق خودارادیت پر کسی قسم کی سودے بازی ہر گز قبول نہیں کی جائے گی،بھارتی آئین کی دفعہ370اور35Aکی منسوخی کے بعدمعاہدہ تاشقند،شملہ سمجھوتہ اور اعلان لاہور کی کوئی حیثیت نہیں رہی اس لیے پاکستان کے عوام حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں ان معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر کے لائن آف کنٹرول کو سیز فائر لائن قرار دے اور سفارتی و تجاری تعلقات ختم کر دے،پاکستان کی فضائی حدود بھارتی طیاروں کے لیے اس وقت تک بند رکھی جائیں جب تک ہندوستان اقوام متحدہ کی مسلمہ قراردادوں کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بحال نہیں کرتا اور گرفتار ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں سے رہا نہیں کر دیاجاتا،امریکی ثالثی دھوکہ اور گھاٹے کا سودا ہے اس لیے حکومت پاکستان عالمی عدالت انصاف میں کشمیر کا مقدمہ پیش کرے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے عوام کو آگاہ کرے،مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو درجہ اول پاکستانی شہری قراردیا جائے تا کہ وہ بغیر پاسپورٹ اور ویزہ پاکستان کا سفر کرسکیں،وزارت خارجہ اور دوسرے کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کو برطرف کیا جائے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ ہیں،آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کو نمائندہ اور با اختیار بنایا جائے اور کشمیریوں کو اپنامقدمہ خود پیش کرنے دیا جائے آزاد خطے کو نظریاتی اور معاشی اعتبار سے ماڈل بنایا جائے،سفارتی و دیگر ذرائع سے کی جانے والی کوششوں پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں آزادی کشمیر کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہی واحد آپشن ہے اس لیے حکومت پوری قوم کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے ڈہناً اور عملاً تیار کرے۔