ترکی صدیوں ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے مسلم دنیا کی قیادت کرتے ہوئے عالمی سطح پر بھرپور قائدانہ کردار ادا کیا، امتدار زمانہ کے ساتھ عالمی سازشوں اور داخلی کمزوریوں کی وجہ سے 1923 میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا اور ترکی ایک جدید جمہوریہ قرار پایا، بد قسمتی سے مصطفے کمال اتا ترک اور اُس کے جانشینوں نے ترکی کے خمیر سے اسلامی تہذیب و تاریخ سے لا تعلق کرتے ہوئے جدید ترکی کو مغربی تہذیب اور اقدار کا گہوارہ بنانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ترک سماج اور حکمران قیادت کے درمیان ایک کشمکش شروع ہوئی بار بار مارشل لاء لگتا رہا اور ترکی عدم استحکام کا شکار رہا، اس کشمکش میں عدنان میندرس جیسے ہردلعزیز وزیراعظم کو پھانسی گھاٹ میں لٹکا دیا گیا، جس نے ترکی کو عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے دوبارہ اسلامی تہذیب و اقدار کی طرف راجع کیا، اس کشمکش میں جہاں سعید نورسی کی تحریک اور نقشبندی سلسلہ تصوف نے اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا وہیں سیاسی سطح پر عدنان میندرس کے بعد ترگت اوذل نے بطور صدر جمہوریہ اپنے دور میں اہم پیش رفت کی لیکن سب سے زیادہ متحرک کردار پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے ادا کیا جنہوں نے ایک یونیورسٹی پروفیسر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اساتذہ کرام، اہل دانش اور اپنے شاگردوں کی چند سال کے اندر ایک ایسی ٹیم تیار کی جو آگے چل کر ان کی سیاسی پیشقدمی کا ذریعہ بنی، انہوں نے ستر کی دہائی میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا، وہ کونیا سے ممبر پارلمنٹ منتخب ہوئے ملی سلامت پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی جو اپنے دور کے دو بڑے محتارب رہنماؤں سلیمان ڈیمرل اور بلند ایجوت کے ساتھ بازباری حکومتی حلیف بنتے ہوئے اپنی بہترین کارگردگی کے نتیجے میں ایک قومی رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔ جو ترکی کے اسلامی خمیر و ضمیر کا صیح ترجمان ثابت ہوئے، اتحادی حکومتوں میں محدود کردار ملنے کے باوجود ان کی ٹیم نے بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کیا، ریاستی سطح پر تعلیم و صحت، معیشت، صنعتی ترقی اور شفافیت کے ساتھ بالبصیرت اور مخلصانہ قیادت کے ذریعے ترک قوم کو گھمبیر مسائل سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اس طرح قبرص میں ترکوں پر یونانی حکومت کے مظالم اور امتیازی سلوک سے نجات دلانے کے لیے وزیراعظم بلند ایجوت سے ملکر ایک دلیرانہ فوجی کاروائی کا اہتمام کیا جس کے نتیجے میں ترک قبرص آزاد ہوا اور یونانیوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ ہو گیا،یہ ایسا دلیرانہ فیصلہ تھا جس کے نتیجے میں ڈاکٹر اربکان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا، اگر بروقت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوتے تو یقینا اربکان صاحب کی جماعت ایک بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھرتی، لیکن بد قسمتی سے فوجی جنتا نے تعلیمی اداروں میں فسادات کرواتے ہوئے امن و عامہ کی بحالی کے نام پر مارشل لاء نافذ کردیا اور اُن کی جماعت پر پابندی عائد کر دی بعد میں انھوں نے فضلیت پارٹی کے نام سے نئی جماعت قائم کی اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی، نوے کی دھائی میں انہوں نے رفاہ پارٹی کے نام سے ایک اور نئی پارٹی قائم کی ابھی یہ پوری طرح منظم بھی نہ ہو پائی تھی کہ انتخابات منعقد ہو گئے جس میں دس فیصد ووٹ حاصل نہ کر سکنے کی وجہ سے یہ پارلیمانی پارٹی نہ بن سکی البتہ پورے ترکی میں ایک اچھی ٹیم کو متعارف کروانے میں کامیاب رہے۔ محترم قاضی حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں ایک کل جماعتی پارلیمانی وفدنے مئی 1990 میں مسلم دنیا کا دورہ کیا بحمداللہ راقم بھی اس دورے کا حصہ تھا، ہمارا پہلا پڑاؤ ترکی تھا جہاں پروفیسر نجم الدین اربکان صاحب مرحوم نے حکومتی اورعوامی سطح پربڑے تاریخی پروگرمات کا انعقاد کرایا، صدر ترگت اوذل،وزیر اعظم بلندیلدرم سے لے کر سنیئر اپوزیشن رہنماؤں سلیمان ڈیمرل، بلند ایجوت، ترکی کے وزیر خارجہ، پارلیمنٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی سے بڑی مفید ملاقاتیں ہوئیں، علاوہ ازیں 29 مئی یوم فتح قسطنطنیہ کے موقع پر نجم الدین اربکان نے بڑے اہتمام سے قومی دن کی حیثیت سے بنانے کا اہتما م کیاکہ ترک قوم کو اپنا مجاہدانہ کردار یاد دلاتے ہوئے یہ باور رکرایائے جائے کہ کہ کس طرح 19 سالہ جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر محمد فاتح نے خشکی پر کشتیاں چلاتے ہوئے بازنطین ایمپائر کے مرکز قسطنطنیہ کو فتح کر کے اسے اسلام بول بنا دیا جو رفتہ رفتہ استنبول کہلانے لگا،اسی نسبت سے ترکی کے ساحلی شہر عدانہ میں عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا جس میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم اور ان کے وفد کا تاریخی استقبال کیا گیا، بلاشبہ یہ لاکھوں کا پر جوش مجمع مجاہد اربکان مجاہد قاضی کے نعروں سے گونج اُٹھا، اس موقع پر قاضی صاحب نے تمام اسلامی تحریکوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک پر جوش اور جامع خطاب کیا، اس کے بعد استنبول کے چیمبر آف کامرس کے تحت ایک عظیم الشان استقبالیہ منعقد ہوا جس کے میزبان رفاہ پارٹی استنبول کے صدر اور موجودہ صدر ترکی جناب رجب طیب اردگان تھے، اس اجتماع میں بھی جہاں مرحوم قاضی حسین احمد صاحب اور پروفیسر خورشید احمد صاحب نے پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے اس کی اہمیت اور بھارت کے مسلم دنیا کے حوالے سے جارحانہ عزائم کا احاطہ کیا، ترکی کی حکومتی اور عوامی سطح پر پزیرائی کے نتیجے میں مسلم دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہمارے وفد کی عزت افزائی ہوئی یوں 1965کے بعد حکومتی اور عوامی سطح پر یہ پہلی سفارتی مہم تھی جس کے نتیجے میں اسی برس قاہرہ میں O.I.C. کے وزرائے خارجہ کے منعقدہ اجلاس میں طویل عرصہ کے بعد پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے لیے حق خود ارادیت کے حصول کا اعادہ کیا گیا، کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ اس میں اپنا کردار ادا کرے، نوے کی دہائی کے اوائل میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں استنبول اور انقرہ سمیت ملک کی تمام اہم بلدیات میں رفاہ پارٹی نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور آئندہ چند سالوں میں اپنی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں پوری قوم میں مقبولیت حاصل کی، مئی 1990 میں ہمارے دورے کے موقع پر استنبول جیسا شہر پانی اور بجلی کی ناکافی سہولتوں کا شکار تھا، صفائی سھترائی کا فقدان تھا، سرکاری پلانٹس پر تیار شدہ روٹی دیگر اشیاء کے ساتھ انتہائی مہنگی تھی، بلدیاتی اداروں میں کرپشن کا کلچر عام تھا لیکن چار سالہ مدت میں رفاہ کے تحت بلدیاتی اداروں نے عموماََ اور طیب اردگان کی قیادت میں استنبول کی بلدیہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام بنیادی مسائل حل کیے اور استنبول کو تمام سہولتوں سے آراستہ، جدید شہر میں تبدیل کر دیا، دیگر شعبوں کے علاوہ رس ورسائل کے میدان میں بہترین سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے زیر زمین ریلوے نظام اور یورپی معیار کا میٹرو بس سروس سسٹم مکمل کیا، جابجا اشرافیہ کے لیے قائم کلبوں کو عوام کے لیے کھول دیا، روٹی سستی کر دی، صفائی کا مثالی نظام قائم کیا جس کے نتیجے میں سیاحت کو فروغ ملا اور استنبول عالمی سیاحت کا مرکز بن گیایوں بلدیہ اور مجموعی طور پر ریاست کی آمدن میں بے پناہ اضافہ ہوا اور طیب اردگان خصوصی طور پر ڈاکٹر اربکان کے سیاسی جانشین کی حیثیت سے سامنے آئے، اس عرصے میں بھی نوابزادہ نصراللہ خان صاحب چیئرمین کشمیر کمیٹی کی سربراہی میں راقم کو ایک وفد کے ہمراہ ترکی کا دورہ کرنے کا موقع ملا، استنبول میں طیب اردگان نے ہماری میزبانی کاحق ادا کیا اس بلدیاتی کارکردگی کے نتیجے میں 1995 کے قومی انتخابات میں رفاہ پارٹی نے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کا اعزاز حاصل کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی قیادت میں رفاہ پارٹی نے اکثریت تو حاصل کر لی لیکن حکومت سازی کے لیے سابق وزیر اعظم تانسوچلر کی پارٹی سے مفاہمت کرنا پڑی یوں طے پایا کہ اڑھائی اڑھائی سال دونوں وزارت عظمی پر فائز رہیں گے، ڈاکٹر اربکان نے اسٹبلشمنٹ،عدلیہ، ذرائع ابلاغ اور عالمی سطح پر اسرائیل نواز لابی کے عدم تعاون کے باوجود اہم اقدامات کیے کرپشن کا خاتمہ اور شفافیت کا اہتمام کیا، عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے متحرک کردار ادا کیا بوسنیا کی تحریک آزادی میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے مہاجرین کی آبادکاری اور بوسنیا کی حکومت کے استحکام کے لیے کاوشیں کیں، مسلم دنیا میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے D-8 بلاک قائم کیا جس میں پاکستان سمیت مسلم دنیا کے آبادی اور وسائل کے اعتبار سے 8 بڑے ممالک کو شامل کیا، اربکان کی تجویز تھی کے یورپی مشترکہ منڈی اور کرنسی کی طرح ان ممالک کی بھی ایک مشترکہ منڈی اور کرنسی قائم ہو اور بتدریج تمام مسلم ممالک اس بلاک کا حصہ بنیں، نیز عالمی سطح پر یہ مسلم بلاک چین اور روس کے تعاون سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ایک نیا بلاک معرض وجود میں آئے جو مغربی استعماری سیاسی اور معاشی ہتھکنڈوں کا توڑ کرسکے،اس ہدف کے حصول کے لیے یہ نیابلاک امریکی سرپرستی میں مغربی استعماری نظام کا سیاسی اور معاشی سطح پر مقابلہ کر سکے۔ اربکان کی یہ بھی تجویز تھی ڈالر کے توڑ کے لیے اس نئے بلاک کی اپنی کرنسی اور بتدریج مشترکہ منڈی بھی قائم ہو۔ اگر انہیں موقع ملتا تو وہ دنیا میں مغربی سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام کی چولیں ہلا دیتے، مختصرمدت کے اقدامات سے رفاہ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوالیکن عالمی سہوکار اس انقلابی لیڈر کو کیسے برداشت کر سکتے تھے چنانچہ ترکی فوج ایک مرتبہ پھر متحرک ہوئی اس نے اپنے آمرانہ اقدام کرتے ہوئے اربکان حکومت پر شب خون مارا ان کی پارٹی پر پابندی عائد کر دی تمام ممبران پارلیمنٹ اوردگان سمیت گرفتار کر لیے گئے اور من پسندعدلیہ سے توثیق بھی حاصل کر لی، دوبارہ سیاسی سرگرمیاں بحال ہونے پر استاد اربکان کے دست راست اور سابق وزیر رجائے کوتان کی قیادت میں سعادت پارٹی قائم کی گئی جبکہ اردگان کی سرپرستی میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی قائم ہوئی جیسے اے کے پارٹی کہاجاتاہے جس میں عبداللہ گل سمیت اکثریتی بلدیاتی اداروں کے ذریعے ابھرنے والے لیڈر شامل ہوئے، سعادت پارٹی نے نئی پارٹی کے قیام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے استاد اربکان اور ان کے نظریات سے بے وفائی قرار دیا جبکہ نئی پارٹی نے بحثوں میں الجھے بغیر اپنا کام جاری رکھا اور 2002 کے منعقدہ انتخابات میں سماجی ترقی اور عدل انصاف کی فراہمی کے ماٹوکے ساتھ حصہ لیتے ہوئے رفاہ پارٹی سے بھی زیادہ بھاری اکثریت حاصل کرت ہوئے سب سیاسی پنڈتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، حالانکہ ان انتخابات میں اوردگان ایک عدالتی سزا کے نتیجے میں قید وبندکی وجہ سے نہ خود حصہ لے سکے نہ بھرپور مہم میں شامل ہوئے، نئی حکومت عبداللہ گل کی قیادت میں قائم ہوئی جس نے پارلیمنٹ کے زریعے متنازعہ قانون منسوخ کرتے ہوئے ضمنی انتخابات میں اردگان کے لیے پارلیمنٹ کا دروازہ کھولا، یوں 2003 میں عبداللہ گل مستعفی ہوئے اور طیب اردگان وزیراعظم منتخب ہوگئے، بعد میں فوج اور عدلیہ کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے عبداللہ گل صدر منتخب ہوگئے یوں ایک طویل عرصے بعد صدارت، وزارت عظمیٰ اور پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کے ساتھ AK پارٹی کو کام کرنے کا موقع ملا اوردگان کے لیے بے پناہ چیلنجز تھے جن میں سب سے برا چیلنج اسٹبلشمنٹ اور آئینی عدالت کا گٹھ جوڑ جس کے نتیجے میں اربکان سمیت کئی حکومتیں فارغ ہوتی رہیں، معاشی عدم استحکام، بے روزگاری،مہنگائی،کاروباری حلقوں کے مسائل، مافیاز جو عالمی استعمار اور صہیونی ایجنسیز کا ہمیشہ آلہ کار بنتے رہے، ان کی نوزائیدہ حکومت کے لیے بھی لٹکتی تلوار تھے اوردگان حکومت نے ایک طرف کرپشن کا خاتمہ کرتے ہوئے معاشی وسائل میں اضافے کا اہتمام کیا، بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع ہوئے بلدیات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد ان اداروں کے ذریعے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا اہتمام کیا اور گلی محلے میں تعمیر و ترقی کا انقلاب پرپا کیا، اپنی شاندار کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ فوج کے آئینی اختیارات کو ختم کیا، آئینی عدالت جو اسٹبلشمنٹ کا ایک اہم مورچہ تھا کو بتدریج غیر موثر بناتے ہوئے تمام اختیارات پارلیمان کے سپرد کیے، یوں ترکی ایک دوغلی جمہوریت کے بجائے حقیقی جمہوریت کی پٹری پر رواں ہوا، یہ اردگان کی سب سے بڑی اور اہم کامیابی تھی علاوہ ازیں ملکی دولت لوٹنے والے مافیاز کو لگام ڈالی اور مختصر مدت میں ترکی جو آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کے قرضوں میں جکڑا ہوا تھا سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، ترکی کی کرنسی لیرا با لکل بے وقت ہو چکی تھی کا وقار بحال ہوا، تعلیم صحت سماجی انصاف غرضیکہ تمام شعبہ زندگی میں انقلابی تبدیلیوں کا اہتمام کیا جس کے نتیجے میں درجنوں نئے ایئرپورٹس قائم ہوئے، دسیوں ہزار کلومیٹر پختہ سڑکیں بچھائی گئی، تمام اہم شہروں کو ریلوے کے نظام سے مربوط کیا گیا نئی صنعتی پالیسی تشکیل دیتے ہوئے صنعتوں کا جال بچھایا گیا سب سے بڑھ کر ترکوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اسلامی تہذیب اور راوایات کا احیاء کیا گیا، ایک وقت وہ تھا کے رفاہ پارٹی کی خاتون منتخب ممبر پارلمینٹ کو محض اسکارف پہننے کے جرم میں پارلیمنٹ ممبر شپ سے محروم کر دیا گیا، اور آج کی پارلیمان جہاں درجنوں ممبران پارلیمنٹ حجاب اور سکارف کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز اور سرکار ی دفاتر میں حجاب پر پابندی تھی بلکہ وہ ناروا پابندیاں بھی تھیں جو مغربی ممالک میں بھی نا پسندیدہ سمجھی جاتی ہیں۔ اپنی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں اے کے پارٹی انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کرتی رہی۔
دنیا میں منظر بھی دیکھاکہ جب اے کے پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو صدراور او ر وزیر اعظیم کی تقاریب حلف برداری میں پروٹوکول کو پامال کرتے ہوئے افواج کے سربراہان نے شرکت سے معذرت کردی کہ ان تقاریب میں صدر اور وزیر اعظم کی بیگمات سکارف کے ساتھ شرکت کررہی ہیں اورکہاں آج کا انقلاب کہ ترکی میں سرکاری دفاتر تعلیمی اداروں میں حجاب اور سکارف کے ساتھ خواتین اپناکردارادا کررہی ہیں حتیٰ کے زندگی کے ہرشعبے میں اس رحجان میں تیزی سے اضافہ ہوا،مجھے ترکی ک دوستوں نے بتایاکہ صدر علوی کی خاتون اول حالیہ دورے کے موقع پر ان کی بیگم بغیر سکارف تصویروں میں نظر آئی تو بہت عجیب محسوس ہوا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کی خاتون اول کیوں تہذیبی علامت کے بغیرہیں جبکہ ترکی کی خاتون اول سکارف کے ساتھ بہت فخر سے بین الاقوامی دوروں اور کانفرنسز میں اہم کردار ادا کررہی ہیں،اردگان حکومت نے ایک طرف یورپی یونین میں مستقبل ممبر شپ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے تو دوسرے طرف مسلم دنیا کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی،بالخصوص مسئلہ فلسطین اور کشمیرکے حوالے سے عالمی سطح پر موثر آواز بلند کی غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے ترکی کی ایک عالمی رفاحی تنظیم آئی،ایچ،ایچ کے ذریعے فریڈم فلوٹیلاچلانے کا اہتمام کیا جس پر اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں متعدد لوگ شہید اور زخمی ہوئے لیکن اس جارحیت کے نتیجے میں اسرائیل ساری دنیا میں بے نقاب ہوا بلاآخر غزہ میں پھنسے فلسطینیوں کوریلیف ملا۔اقوام متحدہ،او آئی سی اور ودطرفہ سطح پر کشمیر پر جاندار موقف اختیار کیا 2005کے زلزلہ اور 2008سیلاب کے دوران میں ترکی کی حکومت عوام اور اداروں نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے متاثرین کی بحالیاور تعمیر نو میں قائدانہ کردار ادا کیا،اس طرح براعظم افریقہ جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے مغربی استحصالی طاقتوں کو خصوصی نشانہ بھی ہے کواپنے توجہ کا ہدف بنایا اس براعظم میں ریلیف کے نام پر کرسچن مشنریزکا توڑ کرنے کے لیے حکومتی اور رفاعی اداروں کے ذریعے بھرپور توجہ دی،ترکی کی جان سو اور آئی،ایچ،ایچ جو دنیا کے تقریبا 100ممالک میں اپناایک ریلیف نٹ ورک چلار ہی ہیں کو براعظم افریقہ پر توجہ دینے کے لیے خصوصی سہولتوں کااہتمام کیا،ترکی مسلم دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے افریقہ کے تقریبا تمام ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کیے،اس وقت چین افریقہ پر توجہ دینے والا پہلا ملک ہے جس کے 48سفارت خانے ہیں اس کے بعد ترکی جس کے 43سفارت خانے قائم ہوچکے ہیں یوں چین کے بعد براعظم افریقہ ترکی منصوعات کی ایک بڑی منڈی کی شکل اختیار کررہاہے،(امریکہ فرانس اور برطانیہ کی بھی توجہ یہ خطہ خاص ہدف ہے۔
اروگان افریقی ممالک کے کئی دورے کرتے ہوئے اداراتی سطح پرتعلقات کو مضبوط کررہے ہیں باہم تعلقات کو مضبوط ترکرنے کے لیے تعلیمی ڈپلومیسی کو بھی اردگان حکومت نے کمال ہنرمندی سے بروئے کار لایا اور بڑے پیمانے پر مسلم دنیا ااور افریقی ممالک کے طلبہ کے لیے معقول وطائف کا اہتمام کرتے ہوئے ترکی کی جامعات کے دروازے کھول دیے اس پالیسی کی وجہ سے افریقی اور مسلم ممالک کے لاکھوں طلبہ استفادہ کررہے ہیں،لیکن بدقسمتی سے پاکستان سے ابھی تک ایک محدود تعداد استفادہ کرسکی سفارت خانے سے معلوم ہوا کہ پاکستانی طلبہ کی تعداد پانچ سے ایک ہزار کے درمیان ہے۔
جبکہ بنگلہ دیش سے پانچ ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، ستر اور اسی کی دہائی میں ترکی سے طلبہ بڑے شوق سے پاکستان تعلیم حاصل کرنے آتے تھے دیگر تعلیمی اداروں بلخصوص اسلامی یونیورسٹی کے فاضلین کی ایک بڑی تعداد اس وقت ترکی کے اہم مناصب پر فائز ہیں، جو پاکستان کے ہمہ وقتی سفراء کا کردار ادا کر رہے ہیں اردگان کے قریبی رفقاء اور ایڈوائزر برہان کایا ترک، علی شاہین،یٰسین اکتائے، عمر فاروق، محمود اوغلواور عاطف اذبک ان میں نمایاں ہیں اس طرح سید مودوی انسٹیٹیوٹ منصورہ، دارلعلوم کراچی،اور جامعہ بنوری ٹاون کے فاضلین بھی ترکی کے علاوہ ساری مسلم دنیا میں پاکستان کے بہترین سفراء کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن 9/11 کے بعد دباؤ میں مشرف حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات جو آج بھی جاری ہیں نے تعلیمی سفارت کاری کا نظام بری طرح مفلوج کر دیا ہے جسکے کے نتیجے میں اب بھارت نے پاکستان کے اس قدرتی حلیف حلقہ اثر کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے گونا گوں ترغیبات کا اہتمام کیا ہے پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے یہ لحمہ فکریہ ہے ہم نے سفارہ پاکستان اور ترکی کے حکام کو متوجہ کیا کہ کشمیری طلبہ کے لیے خصوصی رعائتوں کا اہتمام کیا جائے تاکے وہ دستیاب مواقع سے مستفید ہو سکیں اس طرح وسطی ایشیا ممالک جو در حقیقت وسیع ترکستان کا حصہ ہیں اور جو خطہ طویل عرصہ خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا، بھی اردگان حکومت کی خصوصی ترجیح ہے، تعلیمی معاشی اور ابلاغ ہر سطح پر ان خطوں کو مربوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اذر بئیجان کی حالیہ جنگ اور نکورہ قارہ باغ کی آزادی میں ترکی نے اہم کردار ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کے فتح کے موقع پر پورے ملک میں آزربائیجان کے جھنڈوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ترکی کے جھنڈے لہرائے گئے
پبلک ڈپلومیسی کے میدان میں تعلیم اور معیشت کے ساتھ ساتھ ترکش ایئر لائن بھی اہم کردار ادا کررہی ہے،ترک دوستوں نے بتایا 80کی دھائی میں یورپ کا سفر کرتے وقت ہم پی آئی اے کا انتظارکرتے تھے جو بذریعہ استنبول یورپ کے مختلف مراکز میں جاتی تھی،لیکن آج ترکش ایئر لائن دنیا کی چار بہترین ہواباز کمپنیوں میں شمارہوتی ہے،پی آئی اے جس نے نہ صرف خود دنیا میں ایک ایئر لائن ہونے کا مقام حاصل کیا بلکہ خلیجی ممالک کی آج کامیاب ائیر لائن کو بھی قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا،بدقسمتی سے نااہلی اور کرپشن کی وجہ وہ بین الاقوامی ایئر لائن کھربوں روپوں کی مقروض ہے اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلاجارہاہے،زوال کی انتہایہاں تک پہنچ گئی اپنے روٹس بھی بیچنے پر مجبور ہوگئی،لیکن ترکش ایئر لائن جو 80کی دھائی میں پی آئی اے کے مقابلے میں ایک کمترایئرلائن تھی آج پونے چار سو جہازوں اور بہترین سروس کے ساتھ دنیا میں کارگردی کا لوہا منوارہی ہے،2019میں اس نے تقریبا 14ارب ڈالر منافع یاجو کرونا کی وجہ سے کم ہوکر گزشتہ سال 7ارب ڈالر تک رہ گیا،لیکن اب دوبار ہ سرگرمیا ں بحال ہونے پر دنیا کی مصروف ترین ایئرلائن بن چکی ہے،افریقہ سمیت دنیا کے پسماندہ اور نظراندازشدہ ممالک کو مربوط کرنے کے لیے ترکش ایئر لائن ایک موثر کردار ادا کررہی ہے،معیشت کے میدان میں بھی ترکی نے بڑے اہم اہداف حاصل کیے اردگان حکومت کے آغاز کے موقع پر فی کس آمدنی آڑھائی ہزار ڈالر سالانہ تھی،جو بڑھ کر 15ہزار ڈالر سالانہ ہوچکی ہے،اس طرح ٹوٹل جی ڈی پی میں کئی گناہ اضافہ ہو کر 740بلین ڈالر ز تک پہنچ چکاہے،سالانہ بجٹ 287ارب ڈالرز ہے،جو پاکستان کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے جبکہ ترکی کی آبادی ساڑھے آٹھ کروڑ کے مقابلے میں پاکستان کی آبادی 22کروڑ تک پہنچ چکی ہے،صر ف سیاحت سے ترکی 25ارب ڈالر سالانہ حاصل کرتاہے،جو پاکستان کے کل درآمدات کے قریب ہے،پاکستان کے 25تا 30ارب ڈالر کے مقابلے میں ترکی کی درآمدات 180ارب ڈالر سالانہ ہیں،یعنی پاکستان سے چھ گنازیادہ ہیں، عرب بہار کے بعد مصر سمیت عرب ممالک میں بین الاقوامی استعماری ہتھکنڈوں کے نتیجے میں اخوان المسلمین اور اسلامی تحریکوں کو جس طرح نشانہ بنایا گیا،لاکھوں لوگوں پناہ کی تلاش میں نکلے تو رجب طیب اردگان نے ان کے لیے ترکی کے دروازے کھول دیے،یہ سب لوگ اپنے ساتھ وسائل بھی لائے جس کے نتیجے میں ترکی کی معیشت کو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا پھر پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کرنے پر ترکی شہرت دینے کی پیش کش نے بھی کام کیا،جس کے نتیجے سے بالخصوص بڑے پیمانے صاحب ثروت خاندان ترکی منتقل ہورہے ہیں،پاکستانی سفارت خانے کی معلومات کے مطابق ایسے پانچ ہزار پاکستانی بھی سرمایہ کاری کی بنیاد پر ترکی کی شہرت حاصل کرچکے ہیں،یہ وہ ہیں جو سفارت خانے میں رجسٹرڈ ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں جو ابھی تک رجسٹرڈ نہیں ہوئے۔
گویا رجسٹرڈ پاکستانی مختصر مدت میں آڑھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکے ہیں،ٹیکس کلچر بہتر ہونے کی وجہ سے بھی حکومتی وسائل میں اضافہ ہوا،2019-20میں 133ارب ڈالر سالانہ ٹیکس کی مد میں وصول ہوئے،اگرچہ اندونی اور بیرونی سازشوں کے نتیجے میں ترکی کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں کافی کمزور ہوئی ہے،گزشتہ چند سالوں کے دوران میں ڈالر تین لیرا سے 15 لیرا تک پہنچ چکاہے،کرونا کی وجہ سے سیاحت متاثر ہوئی بے روزگاری میں اضافہ ہوا شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے چالیس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین ترکی کی معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہیں،ااورسماجی سطح پر بھی مسائل بڑھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ مزید مہاجرین کی شام کے اندر ہی آبادکاری کے لیے اردگان نے امریکہ اور مغربی طاقت کی ناراضگی مول لے کر محفوظ کیمپس کا نظام قائم کیا،اور اس لیے ایک موقع پر طاقت بھی استعمال کی۔صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے بڑا واویلہ کیالیکن اردگان اپنی موقف کی مضبوطی کی وجہ سے انہیں قائل کرلیا۔
مشرق وسطی میں عرب بہار اور تحریک آزادی فلسطین کی دوٹوک حمایت کرنے کے نتیجے میں بین الاقوامی استعماری طاقتوں اور خطے میں ان کے حلیفوں نے اردگان حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سازشوں کاعمل شروع کیا،اس پس منظر میں 2016میں فتح اللہ گولن کی تحریک کے ذریعے فوجی انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی گئی پارلیمنٹ ہاؤس پر ائیر فورس نے بمباری کی لیکن اردگان کے ایک ٹویٹ پر لاکھوں لوگ سڑکوں پرنکل آئے اورٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے،چنانچہ یہ سازش عوامی لہر کے نتیجے میں ناکام ہوئی فوج کے تینوں شعبوں سے سازشی جنرلوں کے کورٹ مارشل ہوئے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے گولن تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا ان کے تعلیمی ادارے اور کاروباری نٹ ورک کو نشانہ بنایاگیا،جس کی وجہ سے بڑی تعدا دمیں لوگوں پر مقدمات قائم ہوئے،یابیرون ملک فرارہوگئے،یہ فرار شدہ عناصر امریکہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں اردگان مخالف تحریک چلارہے ہیں،عوامی سطح پر کسی بھی اضطراب سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔2014میں فوجی بغاوت سے پہلے عوامی سطح پر مختلف مسائل کو بنیاد بنا کرگھیراؤ جلاؤ کی مہم چلی جس کے مرکزی
کردار ایک بڑے سرمایہ دار عثمان کوالہ کو قراردیتے ہوئے کرفتار کیا گیااو ر اس پر سنگین مقدمات قائم کیے گئے جس کی رہائی کے لیے امریکہ اور یورپ کے اہم ممالک کے دس سفراء نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس کا اردگان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے جنیوا کنونشن کے مطابق سفارتی آداب کے مغائر قراردیتے انہیں ملک بدر کرنے کا اعلان کیا،اردگان کے اس دلیرانہ اقدام پر دنیا میں ہیجان پیدا ہوا لیکن بلاآخر ان سفراء کو معافی مانگ کر خجالت کا نمونہ بننا پڑا،عالمی سطح پر مغرب کے دوہرے معیارات اور اقوام متحدہ کے امیتازی معتصبانہ رویے کے اردگان کے کھلے ناقدہیں اور دنیا کے ہر فورم پر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ دنیا پانچ سے بڑی ہے،وہ اقوام متحدہ کے جمہوری کردار کی بحالی کے علمبرداراورپانچ ویٹو پاورز کے شکنجے سے بین الاقوامی ادارے کی نجات کے لیے کوشاں ہیں،چنانچہ یہ انقلابی اور باغیانہ تصورات مغربی استعمار مسلم دنیا میں ان کے حلیفوں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے،اس لیے یہ ساری طاقتیں آئندہ 2023کے انتخابات میں اردگان کو کسی طورپر شکست سے دورچار کرنے کے لیے متحد متحرک ہیں،صدارتی نظام کے بعد اختیارات کاارتکاز صدر کے منصب سے وابستہ ہوگیا،اس لیے حکومت کی ہر اچھائی یا برائی اردگان ہی ٹھہرتے ہیں،ہر صورت میں اپنے موقف پر قائم رہنااور منوانا ان کے مزاج کا حصہ ہے،یہ ان کی خوبی بھی ہے کہ قوت فیصلہ کو بھرپور بروئے کار لاتے ہوئے وہ بڑے رسکی فیصلے کرتے ہیں اور بلاآخر کامیاب ٹھہرتے ہیں لیکن ان کے قریبی احباب میں سے کچھ لوگ ان کے اس مزاج کو آمرانہ اپروچ پر محمول کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان کے قریبی ساتھی عبداللہ گل سابق صدر اور سابق وزیر اعظم دداؤد اوغلوجیسی شخصیات ان سے الگ ہوکر اپنی پارٹیز تشکیل دے چکے ہیں۔
استاد اربکان کی قائم کردہ سعادت پارٹی جو ایک تجربہ کارسیاسی رہنما اور دانشور استادتامل کرام اللہ اوغلوکی سربراہی میں اپنامقام بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے بھی اردگان کے سیاسی اور معاشی حکمت عملی کے سخت ناقد ہیں،سعادت پارٹی کے نزدیک اردگان اور ان کے ساتھی پروفیسر اربکان کے انقلابی نظریہ سے منحرف ہوتے ہوئے اقتدار کی خاطر مغربی لابی سے سمجھوتے کرچکے ہیں،چنانچہ اس وقت سعادت پارٹی بھی متحدہ حزب اختلاف کا حصہ ہے،جس کی قیادت مصطفی کمال اتاترک کی قائم کردہ پیپلز پارٹی کے پاس ہے، اسلامی تحریکوں کے قائدین کی بڑ ی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ رفاہ پارٹی کے ان دونوں حصوں کے درمیان اتحاد اور مفاہمت کی صورت پیدا ہولیکن بدقسمتی سے یہ ہد ف حاصل نہ ہوسکا بلکہ استا د اربکان کے صاحبزادے ڈاکٹر فاتح نے اپنی پارٹی قائم کرلی اور سعادت پارٹی کے ہیڈکواٹر سمیت ان کے اثاثوں پر وراثت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں کے ذریعے واگزار کروالیے ہیں،سعادت پارٹی کے نزدیگ پارٹی کو ان اثاثوں سے محروم کرنے کے لیے حکومتی اداروں کی ساز باز بھی شامل ہے۔استاد اربکان کے بعد پارٹی کے رہبر اور ان کے دست راست سابق وزیر حکومت اوزجان اصیل ترک کی وفا ت پرسعادت پارٹی کے ہیڈکواٹر پر حاضری دی،جہاں ان کے نائب صدرڈاکٹر ارسان اور ان کی ٹیم سے ملاقات ہوئی،مختصر مدت میں سعادت پارٹی نے اپناشاندار ہیڈوکواٹر قائم کرلیاہے اورمختلف شعبے بھی قائم ہوچکے ہیں۔
جماعت اسلامی کی طرح سعادت پارٹی کا نظریاتی کیڈ ر اور تنظیم ہر سطح پر موجود ہے،بھرپورسرگرمیاں بھی جاری ہیں،الخدمت کی طرح جان سو ان کی ریلیف ایجنسی نہ صرف ترکی بلکہ دنیا کے 84ممالک میں اپنا نٹ ورک قائم کرچکی ہے،دلچسپ پہلویہ ہے کہ رجب اردگان کی پارٹی نے اپنی کوئی این جی او قائم کرنے کی بجائے جان سو،آئی ایچ ایچ،حکمت فاؤنڈیشن اور یاردم علی جیسی ریلیف ایجنسیوں اور اداروں کی بھرپور سرپرستی کا اہتمام کیا،بحرحال ایک ہی نظریاتی بیس ہونے کے باوجود سعادت اور اے کے پارٹی میں کافی دوریاں موجود ہیں،اے کے پارٹی کا موقف ہے کہ ہم بڑے دعوے کیے بغیر پروفیسر استاد اربکان کے ویژن اور ایجنڈے کے مطابق ریاست اورحکومت کو چلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان بڑی بڑی کامیابیوں اور دعوؤں کے باوجود سعادت کا عدم اطمینان بڑھ رہاہے۔ڈاکٹر ارسان نے میرے استفسار پر بتایاکہ اگرچہ مستقبل میں کسی سیاس مفاہمت کے لیے دروازے بند نہیں ہیں لیکن اے کے پارٹی کی قیاد ت مفاہمت کے لیے سعاد ت پارٹی کی قیاد ت سے بات کرنے کی بجائے ہمارے ہمدردوں اور ووٹر ز کو ہم سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے،اس سوال کے جواب میں جس اتحاد کا سعادت پارٹی حصہ ہے جس کی قیادت سے ہمیشہ نظریاتی اختلاف رہاہے کے ذریعے کیا پیش رفت کرسکے گی اس سوال کے جواب میں ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ موقع ملاتوسعادت پارٹی اپنے اہداف میں پیش رفت کرے گی، قبرص کی آزادی کے علاوہ ترکی میں دیگر اہم ملی اہداف ہم نے بلند ایجوت کی سیکولر مخلوط حکومت میں حاصل کیے۔اس لیے آئندہ بھی موقع ملاتو ہم مزید پیش رفت کریں گے،جب کہ اے کے پارٹی کی قیادت کی رائے میں سعادت کسی انتخابی مفاہمت کی حیثیت سے اپنے حجم سے زیادہ حصے کاتقاضاکرتی ہے،بحرحال دونوں تحریکوں میں ہمار ے احباب موجود ہیں،جو پاکستان اور امت کے مسائل اور مسئلہ کشمیرمیں ہمارے پشتیبان ہیں،اگرچہ پارٹی کی سطح پرسعادت کشمیراور فلسطین سمیت امت کے دیگر مسائل کے حوالے سے زیادہ متحرک کردار ادا رہی ہے دونوں جماعتوں میں قائدین سے لے کر کارکنان تک ایسے افراد موجود ہیں،جن کے آپس میں خوشگوار تعلقات ہیں،تاہم مستقبل کے انتخابی معرکے میں ان کے اختلاف سے اردگان کی سیاسی حکمت عملی کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے،اس لیے کہ صدارت کے لیے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔اس کمی کوپورا کرنے کے لیے اردگان اور ان کے رفقاء نے مادر لینڈ پارٹی (ایک ترک قوم پرست پارٹی) سے اتحاد کیا،جو پارلیمنٹ اور حکومت میں اپناایجنڈا ٓگے بڑھانے کے لیے حکومت کو بلیک میل کرتی رہتی ہے۔ترکی کے مشرقی خطے کردستان میں علیحدگی کی تحریک جو دھائیوں سے جاری تھی جس کی سرپرستی اسرائیل امریکہ سمیت مختلف مغربی طاقتیں کررہیں تھیں،جہاں کے پی پی کی شکل میں ایک بڑی گوریلاتحریک برپا تھی ترکی کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اردگان نے دلیرانہ قدم اٹھایاا ور داخلی خود مختاری دیتے ہوئے دھائیوں کے اضطراب کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا،موجودہ حکومتی حلیف پارٹی کردوں کے ساتھ مفاہمت کے خلاف ہے یہی وجہ ہے کہ مادر لینڈ پارٹی نئے اتحادکے نتیجے میں کرد ووٹرزاے کے پارٹی مایوس ہیں، گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں استنبول اور انقرہ کی اہم بلدیات کرد ووٹر ز کی مخالفت کی وجہ سے جو قبل ازیں اے کے پارٹی کے حصے میں آتے تھے دونوں اہم بلدیات اپوزیشن نے جیت لیں،اس منظر نامے میں مادر لینڈ پارٹی سے اتحاد برقرار رکھنے کی ضورت میں کرد ووٹر ز جوکل ووٹرزکے دس فیصد سے زائد ہیں کا ایک بڑا تناسب اے کے پارٹی کے خلاف پڑ سکتاہے،یوں مستقبل میں ان داخلی اور خارجی چیلنجزسے عہد براہ ہونااردگان کے لیے ایک بڑا معرکہ ہوگا۔ترکی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مفیدتجربات ہوئے جن میں ترکی اور مسلم دنیا کے صنعتکاروں اور تجار کو باہم مربوط کرکرنے کے لیے موسیاد کے نام پر اہم ادارہ شامل ہے یوں تو یہ ادارہ جناب قاضی صاحب کی تحریک پر معرض وجود میں آیا اس کے پہلے صدر بھی ایک ممتا ز پاکستانی تحریکی صنعت کارتنویراحمد مگو منتخب کیے گئے جنھوں نے اس تنظیم کو تناور درخت بنانے میں اہم کردار ادا کیا،پھر اس کی قیادت اور ہیڈکواٹر ترکی منتقل ہوگئی،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک اہم بین الاسلامی تنظیم بن چکی ہے،جو ہرسال کانفرنس اور صنعتی نمائش کے ذریعے مسلم دنیا کی بزنس مین کمیونٹی کو مربوط کرتی ہے،اس طرح ڈاکٹر انجم الدین اربکان کے ویثرن کے مطابق مختلف ادارے اور ٹرسٹ قائم کیے گئے،جو داخلی طور پر خود مختار وار خود کفیل رہتے ہوئے ترکی میں اسلامی تہذیب کے احیاء اور امت کو درپیش مسائل کے حوالے سے اہم کردار ادا کررہے ہیں،جان سو یا آئی ایچ ایچ جسیے ابین الاقوامی رفاہی ادارے ہوں یا ایسام جیسے ٹھینک ٹھنکس استقامت فاؤنڈیشن ہویا حکمت فاؤنڈیشن استنبول اور ترکی کے دیگر شہروں میں پھیلے ہوئے درجنوں ادارے افراد سازی،ریلیف،پالیسی سازی اور خدمت خلق کے حوالے سے اہم کردار اد کررہے ہیں اسلامی تحریکوں کو اس ماڈل سے سیکھنا چاہیے۔
اردگان حکومت نے ذرائع ابلاغ کے محاذپر اہم پیش رفت کی اناطولیہ نیوز ایجنسی جو حکومت کی سرکاری نیوز ایجنسی کے طور پرمحض حکومتی پروپیگنڈے کا ذریعہ تھی اسے بین الاقوامی سطح کی ایک نیوز ایجنسی بنانے میں بہترین افرادی اور مالی وسائل فراہم کیے۔آج یہ ایجنسی 34زبانوں میں سروس فراہم کررہی ہے،جس میں عربی زبان کو خصوصی اہمیت حاصل ہے،اس طرح ریڈیواور ٹی کا پروفائل بہت بہتر کی اورٓٹی آر ٹی کے زیر انتظام ان اداروں کو اسی طرح بین الاقوامی زبانوں کا ترجمان بنادیا،ان اداروں میں پاکستان اور کشمیرسے بھی نمائندگی موجود ہے۔جنگ کے ممتاز کالم نگار فرقان حمید جو اب ترک شہری بن چکے ہیں ٹی آرٹی کے تحت چلنے والے ریڈیو کی اردوسروس سے وابستہ ہیں۔اس طرح چوھدری عبدالحمید سییئر پروڈیوسر ہیں۔انادولہ نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے انچارج محمود اوغلوجو پاکستان سے اسلامی یونیورسٹی سے فارغ ہیں،شعبہ انگریزی کے ایڈیٹر مقبوضہ کشمیر سے افتخار گیلانی ہیں یوں ان اداروں کے ذریعے بھی سار ی مسلم دنیا کو آپس میں جوڑنے کوشش کی گئی جو لائق تحسین ہے،ایک دور میں اے پی پی مسلم دنیا کی ایک بڑی نیوز ایجنسی تھی ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی بھی عربی،بنگلہ زبان سمیت اہم زبانوں میں سروس فراہم کرتے تھے،آج ان اداروں کو بے وسائل کرمحض حکومت کا پروپیگنڈہ سیل بنادیاگیاہے جوخطرناک ہے،بحرحال ترکی میں 2023کا سال بڑاہم ہے،کیونکہ اس برس سو سالہ معاہدہ لوزان ختم ہوجائے گا،دیگر کامیابیوں کے علاوہ اس کے بعد آبنائے باسفورس جسے اس معاہدے کے تحت بین الاقوامی سمندر کا حصہ قرار دیا گیاتھاکی عمل داری ترکی کو حاصل ہوگی معاشی اور اسٹرٹجیک اعتبار سے یہ استحقاق ترکی کی تقویت کا ذریعہ بنے گا،اس لیے ترکی احیاء اسلام اسلام کے مخالفین ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں کہ وہاں تبدیلی آئے،لیکن ترکی بیدار مغز قوم جس نے صدیوں دنیاپر ایک سپر طاقت کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوا یا یقینا ان سازشوں کا ادراک رکھتے ہوئے توڑ کا اہتمام کرے گی،ایک مضبوط ترکی اہل پاکستان اور کشمیرکے لیے دوطرفہ اور بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا سہاراہے،اللہ کرے ترکی کی تحریکیں ااور ادارے اس میں مطلوبہ کردار ادا کرسکیں،درپیش چیلنجز سے عہدہ براہ ہونے کے لیے صدر اردگان کی حکمت عملی کا اہم کردار ہوگا،انہیں اپنے ناراض اور نظریاتی ساتھیوں کو حلیف بنانا ہوگا اور دوریاں کم کرنا ہوں گی،افراط رز اور بے روزگاری پر قابوپانا ہوگاشامی مہاجرین کا مسئلے کا حل نکالناہوگا۔
مسئلہ کشمیرپر صدر اردگان اور ان کی حکومت کا اقوام متحدہ،او آئی سی اور دوطرفہ سطح پربڑا جاندار کردار ارہاجس کے نتیجے میں بھارتی لابی بھی بڑی متحرک ہوچکی ہے،ترکی تعمیراتی کمپنیوں کے بھارت میں اربوں ڈالر کے پروجیکٹس معلق ہوگئے،جنرل اسمبلی میں کے اردگان کے خطاب کرردعمل میں بھارتی وزیر خارجہ کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیاگیا،ترک کاروباری حلقوں کے نزدیک بھارت ایک بڑی تجارتی منڈی ہے،جسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،ترکی اور بھارت کے دوطرفہ تجارت دس ارب ڈالر ز کی سطح پر ہے،پاک ترک دوطرفہ تجارتی حجم میں د س گناذیادہ ہے،کاروباری حلقوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی ثقافتی یلغار بھی جاری ہے،بالخصوص بڑے پیمانے پر بھارتی فلموں کی ترکی ڈبنگ کے ذریعے نفوذ کاسلسلہ جاری ہے،نیز بھارتی سیاح بھی بڑے پیمانے ترکی کا روخ کررہے ہیں،بھارت کی متذکرہ جہتوں میں حکمت عملی کے تددارک کے لیے باہم تجارت اور ثقافتی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہوگا،ارطغرل ڈرامہ نے جہاں ساری دنیامیں اثرات مرتب کے ہیں وہیں ترکی کے نوجوانوں کو بھی اپنے قابل فخر ماضی کی بازیافت پر مسرت ہوئی،پاکستان کے معیاری تاریخی ڈرامے کسی دور میں مقبول تھے بھارتی ثقافت کے توڑ کا ذریعہ بن سکتے ہیں،پاک ترک تعلقات میں برادرانہ تعلقات جوش خروش کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی پاکستانی جو ہیومن ٹریفگنگ کے ذریعے ایجنٹوں کاترنوالہ بنتے ہیں یہ یورپ جانے کے بہانے ترکی میں پھنس جاتے ہیں باہم تعلقات کو متاثر کررہے ہیں،حکومت پاکستان کو ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس سلسلے کو روکنا ہوگاورنہ ان غیرقانونی افراد میں جرائم پیشہ افراد میں مستقبل میں درد سر بنے سکتے ہیں۔
ترکی اپنے شاندار تاریخی ماضی اور ارتقائی جمہوری عمل اور ادارتی ومعاشی ترقی کے حوالے سے مسلم دنیا میں امید کامرکز ہے،امت مسلمہ کے مسائل سے وابستگی کے حوالے سے سے بھی ترک قیادت اور قوم قائدانہ کردار ادا کررہی ہے،ہماری دعا ہے کہ ترکی میں اسلامی اور جمہوری تحریکیں اور ادارے باہم مربوط کردار ادا کریں،تاکہ جو پیش رفت طویل عرصہ کی جدوجہد سے حاصل ہوئی وہ مستحکم ہواور ترکی پاکستان،افغانستان ایران اور وسطی ایشیائی ممالک ایسے نیوکلیس بنے جو امت اور انسانیت کی ترقی کا ذریعہ ہوں،گزشتہ تیس برسوں کے دوران میں بارہامرتبہ ترکی میں مختلف کانفرنسز میں شرکت کا موقع ملتارہاہے،حالیہ دورہ دوہفتے پر محیط رہا جس کا بنیادی مقصد عظیم قائد حریت سید علی گیلانی مرحوم کے داماد سید افتخار گیلانیاور ان کی اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرناتھا،جا موقع موقع بردار طلحہ شیخ ن فراہم کیا،جو اب ترکی کے شہری بن چکے ہیں،جو اس سارے سفر کے میزبان بھی رہے،یوں استنبول اور انقرہ میں سعادت پارٹی کے ہیڈکواٹرانادولہ نیوزایجنسی جان سو،ایسام جیسے تھینک ٹھنک اور پاکستانی سفارت خانے کا دورہ رہا،اس طرح ستنبول میں استنبول یونیورسٹی میں شعبہ اردوواور فارسی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل طوقار کی دعوت پر 27اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا،ڈاکٹر طوقار کشمیراور پاکستان کے حوالے سے کئی کتابوں کے منصف ہیں،اہل زبان کی طرح شتہ اردو بولتے ہیں ترکی میں پاکستان کے بہترین سفیر ہیں،اسی طرح ترگے آورن جیسے شاعر اور دانشور سے ملاقات رہی جنکا ’ میراانام کشمیر ہے’کا نغمہ بارہ ملین ناظرین دیکھ چکے ہیں،انھوں نے گیلانی صاحب اور تحریک آزادی کشمیر پر ایک اور نغمہ تیار کرنے کاوعدہ کیااس طرح دیگر تھنگ تھنکس،ذرائع ابلاغ کے ذریعے کشمیرکی تازہ ترین صور ت حال رکھنے کا موقع ملامودی کے عزائم بے نقا ب کرنے کے لیے کئی مشترکہ اہداف پر اتفاق ہوا۔