آزادکشمیر جس انتشار، افراتفری، اضطراب اور ہیجان کی کیفیت میں مبتلا ہے۔یہ ارباب اختیار کی برس ہابرس کی مفاداتی سیاست، کرپشن، اقرباء پروری، نااہلی، بے تدبیری اور بے بصیرتی کا کڑوا کسیلا پھل ہے۔ارباب اختیار جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے، سے سامنے نظر آنے والی کٹھ پتلیاں بھی مراد ہیں اور پردے کے پیچھے ڈوریں ہلانے والی نادیدہ قوتیں بھی۔جن ''شہ دماغوں '' نے آزادکشمیر کا موجودہ بے چہرہ نظام ترتیب دیا ہے، انہیں اس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ یہ دو ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے۔حکومت اور اپوزیشن۔دونوں عوام کے دو طبقوں کی نمائندگی کررہے ہوتے ہیں۔حکومت ان لوگوں کی امنگوں کی ترجمانی کررہی ہوتی ہے، جن کے ووٹوں سے وہ برسراقتدار آئی ہوتی ہے اور اپوزیشن اس طبقے کی آواز بنتی ہے، جو حکومت میں نمائندگی سے محروم ہوتا ہے۔آزادکشمیر کا موجودہ نظام جن نابغوں نے ترتیب دیا انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں شامل کرکے ایک بھان متی کا کنبہ بنادیا۔اس وقت آزادکشمیر میں اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم دونوں ایک ہی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب شدہ ہیں اور اسمبلی میں موجود تمام جماعتیں حکومت میں شامل ہیں۔یہ الگ بات کہ اگر یہ اپوزیشن میں بھی ہوتیں تو انہوں نے عوامی مسائل اور جذبات کی کس حد تک ترجمانی کرنی تھی؟ آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں کا ٹریک ریکارڈ اس حوالے سے حوصلہ افزاء نہیں ہے لیکن پھر بھی دکھاوے کے لیے ہی سہی، ایک پلیٹ فارم تو موجود ہوتا، سو وہ بھی نہیں ہے۔اس طرح آزادکشمیر کا پارلیمانی نظام ایک ٹانگ پر کھڑا ہے۔ جو پارلیمانی تاریخ کا ایک عجوبہ ہے۔
فطرت کا اصول ہے کہ خلا کبھی باقی نہیں رہتا، اس نے بھرنا ہوتا ہے۔باری باری اقتدار کے مزے لوٹنے والی سیاسی جماعتیں نہ حکومت ڈھنگ سے چلاسکیں نہ اپوزیشن کا کردار ادا کرسکیں۔اس صورتحال نے نوجوانوں اور عوام الناس میں ایک ردعمل کو جنم دیا۔بدقسمتی سے یہ ردعمل بھی نہ کسی سنجیدہ سوچ و فکر، منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا نتیجہ تھا اور نہ کسی مدبر قیادت اور تنظیم کے ماتحت تھا۔یہ ایک عام آدمی کا بے ساختہ(Spontaneous) ردعمل تھا۔جو زیادہ بلند آواز کے ساتھ نعرہ لگا سکتا تھا یا جو زیادہ سخت الفاظ میں لوگوں کے جذبات مشتعل کرسکتا تھا، اسی حد تک اسے اس احتجاجی تحریک میں قیادت کی صفوں میں شامل ہونے کا موقع مل گیا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم وجود میں آیا اور چل سو چل۔ مختلف عناصر اس تندور پر اپنی روٹیاں سینکنے کے لیے اس تحریک کا حصہ بن گئے۔اس میں روائتی سیاسی جماعتوں کے اپنی پارٹیوں کی نااہلی سے بیزار کارکن بھی تھے، تاجر، طلبہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی۔عوامی ناراضگی اور بے اطمینانی کی اس فضا سے فائدہ اٹھانے کے لیے قوم پرست بھی روزاول سے ہی اس پلیٹ فارم پر متحرک رہے اور گاہے گاہے پوری تحریک پر اپنا رنگ جمانے کی کوششوں میں کامیاب بھی نظر آئے۔ایسی صورتحال جہاں بھی پیدا ہوتی ہے، سرحد پار بیٹھی دشمن طاقت اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے کہ دشمن جو ہوا۔ یہ ہمارے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم نے ایسی صورتحال پیدا کیوں ہونے دی کہ دشمن کو ہماری صفوں میں گھس کر ہم پر اندر سے ضرب لگانے میں کامیاب ہو جائے؟۔اگرچہ ایکشن کمیٹی کی قیادت اور اس کا سنجیدہ طبقہ ایسے عناصر سے اظہار لاتعلقی کرتے رہے ہیں تاہم اس پوری جدوجہد کو ہائی جیک کرنے اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں قوم پرست عناصر نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ بایں ہمہ اس ساری تحریک پر بھارت نواز ہونے کا الزام میری دانست میں درست نہیں۔ تاہم بھارت یہاں کی کسی بھی افراتفری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا-
جیساکہ قبل ازیں عرض کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے چلائی جانے والی یہ تحریک کسی سوچ و فکر، تجزیئے اور منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھی اس لیے اس نے مسائل کو بھی انتہائی سطحی نظر سے دیکھا اور ان کا سطحی حل تجویز کیا۔جبکہ مسائل بہت بنیادی نوعیت کے ہیں جن کا حقیقی ادراک اس تحریک کے قائدین کو نہیں ہوسکا اور ان کے مستقل حل کے لیے بھی بنیادی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے جن کی توقع رائج الوقت مفاداتی سیاسی قیادت سے نہیں کی جاسکتی تاہم مرض کی درست تشخیص کے ساتھ سے ہی علاج کی جانب پیش رفت کی جاسکتی ہے۔مثلاً بجلی اور آٹے کے مسئلے کو ہی لے لیں۔ایکشن کمیٹی کا مطالبہ سستی بجلی اور سستا آٹا تھا۔ دونوں مطالبات پورے ہوگئے اور آزادکشمیر کے لوگوں کو سستی بجلی اور سستا آٹا مل رہا ہے جس پر بڑی واہ واہ ہورہی ہے لیکن یہ مسئلے کا محض ایک سرسری اور سطحی حل ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ کینسر کے درد سے تڑپتے مریض کو سکون آور دوا دے کر درد کی شدت وقتی نجات مل جائے لیکن کینسر اندر ہی اندر بڑھتا چلا جائے۔بجلی کے مسئلے کا حقیقی حل سبسیڈائزد سستی بجلی نہیں، اپنی پیدا کردہ سستی بلکہ مفت بجلی ہے۔آزادکشمیر میں بجلی کی حالیہ طلب ساڑھے تین سے چار سو میگاواٹ ہے۔اتنی بجلی آزادکشمیر اپنے وسائل سے یا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ساتھ پیدا کرکے اپنے عوام کو انتہائی سستی بجلی فراہم کرسکتا ہے۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔آزادکشمیر میں اس سے کہیں زیادہ کا پوٹینشل موجود ہے جسے بروئے کار لاکر نہ صرف آزادکشمیر بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہوسکتا ہے بلکہ اپنے شہریوں کو مفت یا پیدواری لاگت پر بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر میں صنعتی اور کاروبار کے فروغ کے لیے سازگار مواقع پیدا کرسکتا ہے۔یہ عمل آزادکشمیر میں تعمیروترقی کا ایک نیا دور شروع کرسکتا ہے۔ایکشن کمیٹی نے حکومت کو اس مشکل راستے کی طرف جانے سے بچا کر سبسیڈائزڈ سستی بجلی کا سستا راستہ اختیار کیا۔یادرکھیں حکومت میں کوئی چیز سستی یا مفت نہیں ہوتی۔ سبسڈی کی رقم صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے دیگر منصوبوں سے کاٹ کر بجٹ سے ادا کی جاتی ہے۔اسی طرح کا معاملہ سستے آٹے کا بھی ہے۔آزادکشمیر میں اگرچہ لوگوں نے کھیتی باڑی ترک کرکے اپنے آپ کو پاکستان سے آنے والی غذائی اجناس پر انحصار کا عادی بنالیا ہے تاہم میرپور اور بھمبر کے اضلاع میں اس قدر پوٹینشل موجود ہے کہ آزادکشمیر کی غذائی ضرورت وہاں سے پوری کی جاسکتی ہے۔
تعلیم، صحت، جنگلات خوراک و زراعت، صنعت و تجارت، ترقیاتی منصوبہ جات، معدنیات، پاور جنریشن، لوکل گورنمنٹ سسٹم سمیت جملہ سیکٹرز کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپس تشکیل دے کر ہر شعبے کے حقیقی مسائل کی تشخیص اور اس کے حل کا روڈ میپ مرتب کیا گیا ہے۔امید ہے اس حوالے سے جلد ہی عوامی بیداری اور حقیقی مسائل کے دیرپا حل کیلئے جماعت اپنے جامع ایجنڈے کے ساتھ عوام کے سامنے جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے مسائل زدہ عوام سایوں اور سرابوں کا تعاقب کرنے کی بجائے ایسے پلیٹ فارم کا انتخاب کریں جو متحرک اور ویژنری قیادت، موثر تنظیمی قوت، مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی مخلص، دیانتدار اور باصلاحیت ٹیم اور مسائل کے سطحی نہیں بلکہ دیرپا حل کے ذریعے ریاست کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ایک ترقی یافتہ فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تاکہ آزاد خطہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے بھی حوصلے اور ترغیب کا ذریعہ اور جدوجہد آزادی کو تیز تر کرنے کا باعث بن سکے-