Syed Saleem Gardazi

آزادکشمیرکا حالیہ اضطراب……وجوہات اور حل سید سلیم گردیزی

آزادکشمیر جس انتشار، افراتفری، اضطراب اور ہیجان کی کیفیت میں مبتلا ہے۔یہ ارباب اختیار کی برس ہابرس کی مفاداتی سیاست، کرپشن، اقرباء پروری، نااہلی، بے تدبیری اور بے بصیرتی کا کڑوا کسیلا پھل ہے۔ارباب اختیار جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے، سے سامنے نظر آنے والی کٹھ پتلیاں بھی مراد ہیں اور پردے کے پیچھے ڈوریں ہلانے والی نادیدہ قوتیں بھی۔جن ''شہ دماغوں '' نے آزادکشمیر کا موجودہ بے چہرہ نظام ترتیب دیا ہے، انہیں اس بات کی سمجھ نہیں ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ یہ دو ٹانگوں پر کھڑا ہوتا ہے۔حکومت اور اپوزیشن۔دونوں عوام کے دو طبقوں کی نمائندگی کررہے ہوتے ہیں۔حکومت ان لوگوں کی امنگوں کی ترجمانی کررہی ہوتی ہے، جن کے ووٹوں سے وہ برسراقتدار آئی ہوتی ہے اور اپوزیشن اس طبقے کی آواز بنتی ہے، جو حکومت میں نمائندگی سے محروم ہوتا ہے۔آزادکشمیر کا موجودہ نظام جن نابغوں نے ترتیب دیا انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت میں شامل کرکے ایک بھان متی کا کنبہ بنادیا۔اس وقت آزادکشمیر میں اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم دونوں ایک ہی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب شدہ ہیں اور اسمبلی میں موجود تمام جماعتیں حکومت میں شامل ہیں۔یہ الگ بات کہ اگر یہ اپوزیشن میں بھی ہوتیں تو انہوں نے عوامی مسائل اور جذبات کی کس حد تک ترجمانی کرنی تھی؟ آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں کا ٹریک ریکارڈ اس حوالے سے حوصلہ افزاء نہیں ہے لیکن پھر بھی دکھاوے کے لیے ہی سہی، ایک پلیٹ فارم تو موجود ہوتا، سو وہ بھی نہیں ہے۔اس طرح آزادکشمیر کا پارلیمانی نظام ایک ٹانگ پر کھڑا ہے۔ جو پارلیمانی تاریخ کا ایک عجوبہ ہے۔
فطرت کا اصول ہے کہ خلا کبھی باقی  نہیں رہتا، اس نے بھرنا ہوتا ہے۔باری باری اقتدار کے مزے لوٹنے والی سیاسی جماعتیں نہ حکومت ڈھنگ سے چلاسکیں نہ اپوزیشن کا کردار ادا کرسکیں۔اس صورتحال نے نوجوانوں اور عوام الناس میں ایک ردعمل کو جنم دیا۔بدقسمتی سے یہ ردعمل بھی نہ کسی سنجیدہ سوچ و فکر، منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا نتیجہ تھا اور نہ کسی مدبر قیادت اور تنظیم کے ماتحت تھا۔یہ ایک عام آدمی کا بے ساختہ(Spontaneous) ردعمل تھا۔جو زیادہ بلند آواز کے ساتھ نعرہ لگا سکتا تھا یا جو زیادہ سخت الفاظ میں لوگوں کے جذبات مشتعل کرسکتا تھا، اسی حد تک اسے اس احتجاجی تحریک میں قیادت کی صفوں میں شامل ہونے کا موقع مل گیا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم وجود میں آیا اور چل سو چل۔ مختلف عناصر اس تندور پر اپنی روٹیاں سینکنے کے لیے اس تحریک کا حصہ بن گئے۔اس میں روائتی سیاسی جماعتوں کے اپنی پارٹیوں کی نااہلی سے بیزار کارکن بھی تھے، تاجر، طلبہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی۔عوامی ناراضگی اور بے اطمینانی کی اس فضا سے فائدہ اٹھانے کے لیے قوم پرست بھی روزاول سے ہی اس پلیٹ فارم پر متحرک رہے اور گاہے گاہے پوری تحریک پر اپنا رنگ جمانے کی کوششوں میں کامیاب بھی نظر آئے۔ایسی صورتحال جہاں بھی پیدا ہوتی ہے، سرحد پار بیٹھی دشمن طاقت اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے کہ دشمن جو ہوا۔ یہ ہمارے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم نے ایسی صورتحال پیدا کیوں ہونے دی کہ دشمن کو ہماری صفوں میں گھس کر ہم پر اندر سے ضرب لگانے میں کامیاب ہو جائے؟۔اگرچہ ایکشن کمیٹی کی قیادت اور اس کا سنجیدہ طبقہ ایسے عناصر سے اظہار لاتعلقی کرتے رہے ہیں تاہم اس پوری جدوجہد کو ہائی جیک کرنے اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں قوم پرست عناصر نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ بایں ہمہ اس ساری تحریک پر بھارت نواز ہونے کا الزام میری دانست میں درست نہیں۔ تاہم بھارت یہاں کی کسی بھی افراتفری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا-
جیساکہ قبل ازیں عرض کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے چلائی جانے والی یہ تحریک کسی سوچ و فکر، تجزیئے اور منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھی اس لیے اس نے مسائل کو بھی انتہائی سطحی نظر سے دیکھا اور ان کا سطحی حل تجویز کیا۔جبکہ مسائل بہت بنیادی نوعیت کے ہیں جن کا حقیقی ادراک اس تحریک کے قائدین کو نہیں ہوسکا اور ان کے مستقل حل کے لیے بھی بنیادی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے جن کی توقع رائج الوقت مفاداتی سیاسی قیادت سے نہیں کی جاسکتی تاہم مرض کی درست تشخیص کے ساتھ سے ہی علاج کی جانب پیش رفت کی جاسکتی ہے۔مثلاً بجلی اور آٹے کے مسئلے کو ہی لے لیں۔ایکشن کمیٹی کا مطالبہ سستی بجلی اور سستا آٹا تھا۔ دونوں مطالبات پورے ہوگئے اور آزادکشمیر کے لوگوں کو سستی بجلی اور سستا آٹا مل رہا ہے جس پر بڑی واہ واہ ہورہی ہے لیکن یہ مسئلے کا محض ایک سرسری اور سطحی حل ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ کینسر کے درد سے تڑپتے مریض کو سکون آور دوا دے کر درد کی شدت وقتی نجات مل جائے  لیکن کینسر اندر ہی اندر بڑھتا چلا جائے۔بجلی کے مسئلے کا حقیقی حل سبسیڈائزد سستی بجلی نہیں، اپنی پیدا کردہ سستی بلکہ مفت بجلی ہے۔آزادکشمیر میں بجلی کی حالیہ طلب ساڑھے تین سے چار سو میگاواٹ ہے۔اتنی بجلی آزادکشمیر اپنے وسائل سے یا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ساتھ پیدا کرکے اپنے عوام کو انتہائی سستی بجلی فراہم کرسکتا ہے۔
یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔آزادکشمیر میں اس سے کہیں زیادہ کا پوٹینشل موجود ہے جسے بروئے کار لاکر نہ صرف آزادکشمیر بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہوسکتا ہے بلکہ اپنے شہریوں کو مفت یا پیدواری لاگت پر بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر میں صنعتی اور کاروبار کے فروغ  کے لیے سازگار مواقع پیدا کرسکتا ہے۔یہ عمل آزادکشمیر میں تعمیروترقی کا ایک نیا دور شروع کرسکتا ہے۔ایکشن کمیٹی نے حکومت کو اس مشکل راستے کی طرف جانے سے بچا کر سبسیڈائزڈ سستی بجلی کا سستا راستہ اختیار کیا۔یادرکھیں حکومت میں کوئی چیز سستی یا مفت نہیں ہوتی۔ سبسڈی کی رقم صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے دیگر منصوبوں سے کاٹ کر بجٹ سے ادا کی جاتی ہے۔اسی طرح کا معاملہ سستے آٹے کا بھی ہے۔آزادکشمیر میں اگرچہ لوگوں نے کھیتی باڑی ترک کرکے اپنے آپ کو پاکستان سے آنے والی غذائی اجناس پر انحصار کا عادی بنالیا ہے تاہم میرپور اور بھمبر کے اضلاع میں اس قدر پوٹینشل موجود ہے کہ آزادکشمیر کی غذائی ضرورت وہاں سے پوری کی جاسکتی ہے۔

 ہمیں پنجاب سے آٹا اور گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے لیکن حکومتوں کی تن آسانی اور ویژن کے فقدان کی وجہ سے ہم گندم میں خودکفیل نہیں ہوسکے اور ہمارا انحصار گندم کے حوالے سے بھی پنجاب پر ہے۔آزادکشمیر کے مسائل کا حل سبسیڈائزڈ سستا آٹا نہیں، گندم کی پیدوار میں خودکفالت ہے۔حکومت کو اس پر مجبور کرنے کی بجائے قومی خزانے سے سبسڈی دے کر سستا آٹا فراہم کرنے کے سستے راستے کا انتخاب کیا گیا۔اس سے جہاں حکومتوں کی نااہلی پر پردہ پڑگیا وہاں خوراک کی ترسیل اور فراہمی کی آڑ میں اربوں روپے کمانے والے مافیاز کو بھی بیل آؤٹ پیکیج مل گیا۔ مطالبہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ حکومت آزادکشمیر کو گندم اور زرعی اجناس کی پیدوار میں خودکفیل بنائے۔ لیکن اس کی بجائے آسان راستے کا انتخاب کیا گیا۔حکومت بھی خوش، ایکشن کمیٹی کی بھی واہ واہ، بے خبر عوام بھی مطمئن لیکن اس کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ ابضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقتی ریلیف کو مستقل اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جائے اور وہ بنیاد خود انحصاری ہے-
آج کل مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستیں بھی ایکشن کمیٹی اور دیگر احباب کے نشانے پر ہیں۔سیاسی جماعتیں اور مہاجرین کے نمائندگان اس حوالے سے جوابی ردعمل دے رہے ہیں۔یہ درست ہے کہ پاکستان میں مہاجرین کے حلقے آزادکشمیر حکومت، عدالت اور الیکشن کمیشن کے انتظامی و عدالتی دائرہ کار سے باہر ہونے کے باعث بہت سے مسائل ہیں۔یہ بھی درست کے مہاجرین کے منتخب ہونے والے نمائندوں نے بھی تحریک آزادکشمیر کی نمائندگی کی بجائے اسی لوٹ مار اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی روش اختیار کی ہے۔ علاوہ ازیں آزادکشمیر میں حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے میں مہاجرین کی نشستوں کو چپ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ نشستیں آزادکشمیر میں سیاسی عدم استحکام اور بلیک میلنگ میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔ لیکن یہ معاملے کا محض ایک  پہلو ہے۔حکومت آزادکشمیر اپنی اصل کے اعتبار سے محض ایک علاقائی حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست جموں وکشمیر کی نمائندہ حکومت ہے۔اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ”آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر ہے“ نہ کہ ”حکومت آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر“ یعنی یہ ریاست جموں وکشمیر کی آزاد حکومت ہے۔لہذا اس حکومت میں مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی مہاجرین کی صورت میں رکھی گئی ہے۔مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بھی آزادکشمیر کے لیے نشستیں مختص ہیں جوکہ اس وجہ سے خالی ہیں کہ آزادکشمیر سے اس طرح بڑے پیمانے پر بھارت کی طرف ہجرت نہیں ہوئی ہے جس طرح بھارتی قبضے کے نتیجے میں مقبوضہ حصے سے پاکستان کی طرف ہجرت ہوئی ہے۔ آزادکشمیر حکومت کا اصل ہدف تحریک آزادی کشمیر کی تکمیل تھا لیکن بدقسمتی سے آزادحکومت یہ کردار ادا نہیں کرسکی تاہم مہاجرین کی نشستیں اسی پس منظر میں علامتی حیثیت رکھتی ہیں اہم ان کے طریق انتخاب اور دیگر امور پر بات ہوسکتی ہے۔
اصل مسئلہ مہاجرین کی نشستیں نہیں ہمارے پاورسڑیکچر کا ہے۔ دنیا بھر میں ریاست تین ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے۔مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ۔تینوں کا اپنا اپنا دائرہ کار ہوتا ہے لیکن ہمارے جیسی کمزور  پارلیمانی جمہوریتوں میں بدقسمتی سے مقننہ یعنی قانون ساز ادارے کے لیے ووٹ حاصل کرنے والے ممبران اسمبلی میں پہنچنے کے بعد مقننہ یعنی قانون ساز کی بجائے انتظامیہ یعنی حکومت بن جاتے ہیں۔وزیراعظم اور وزیر بن کر انتظامی اختیارات کے مالک بن جاتی ہیں۔قانون سازی کے لیے منتخب ہونے والے افراد جب مقننہ سے چھلانگ لگا کر انتظامیہ یعنی حکومتی مناصب پر فائز ہوجاتے ہیں تو اس سے مسائل جنم لیتے ہیں۔لیکن یہ ہمارے پارلیمانی نظام کا مسئلہ ہے جس کا فوری حل ممکن نہیں البتہ دنیا بھر میں پارلیمانی نظام میں بھی چیکس اینڈ بیلینسز ہیں جو ہماری مادر پدر آزاد پارلیمانی جمہوریت میں مفقود ہیں - حکومتی وزراء حکومتی پالیسیوں اور عملدرآمد کی نگرانی اور گورننس پر توجہ دیتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں وزراء ہوں یا ممبران اسمبلی، ترقیاتی فنڈز، ترقیاتی سکیموں، سڑکوں اور گلیوں کی پختگی، ٹوٹی کھمبے اور نالی گٹر کی سیاست کرتے ہیں اور سرکاری ملازموں کی تقرریوں، تبادلوں کے ذریعے اپنے سیاسی انتقام کی آگ بجھاتے ہیں۔اس طرح ہر ممبر اسمبلی اور وزیر کے ساتھ اس کے مشٹنڈوں کا ایک غول بیابانی ہوتا ہے جو سرکاری وسائل پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے۔اس طرز عمل میں مہاجر اور غیر مہاجر سب یکساں ہیں۔ البتہ غیر مہاجر ممبران اسمبلی  کو دکھاوے کے لیے ہی سہی، آزادکشمیر میں ایک انتخابی حلقہ یا ضلع میسر ہوتا ہے جس کی تعمیروترقی کے بہانے وہ یہ کھیل کھیلتے ہیں جبکہ مہاجر ممبران کے پاس یہ بہانا بھی نہیں لیکن وہ بھی ترقیاتی فنڈز اور سکیموں میں اپنا پورا حصہ وصول کرتے ہیں۔اس صورتحال نے آزادکشمیر کی نئی نسل کو غم و غصے میں مبتلا کررکھا ہے اور بیانیہ بنانے والوں نے اس کا حل مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ تجویز کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صرف مہاجرین کی نشستیں ہی کیوں؟ غیر مہاجر کون سے دودھ کے دھلے ہیں؟ 
اس مسئلے کا حل مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے میں نہیں بلکہ پاور سڑیکچر کی درستی میں ہے۔ مقننہ اور انتظامیہ یعنی حکومت کو ان کے اصل آئینی رول تک محدود کیا جائے۔ممبران اسمبلی، چاہے وہ مہاجر ہوں یا غیر مہاجر، ان کا کوئی کام ترقیاتی سکیموں یا حکومتی و انتظامی معاملات سے نہیں ہے۔ان کا کام قانون سازی ہے اور وہ اس حد تک محدود رہیں۔ان میں سے جو وزیر بنتے ہیں ان کا بھی اور قواعد کار کے مطابق محکمہ جات کی سپرویژن اور انہیں پالیسی گائیڈلائن دینا ہے۔اس طرح تعمیراتی سرگرمیوں، سڑک، گلی، ٹوٹی کھمبا، نالی گٹر وغیرہ یہ کام وزراء کا نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کا ہے اور جو ترقیاتی فنڈز وزراء اپنے چہیتوں کو نوازنے کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ مقامی حکومتوں یعنی لوکل باڈیز کا دائرہ کار ہے۔جب تک لوکل باڈیز کو مضبوط، فعال، بااختیار اور متحرک کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، وزراء اور ممبران اسمبلی سرکاری وسائل کی بندربانٹ اسی طرح کرتے رہیں گے اور اصل بیماری سے بے خبر عوام کبھی ایک کو اور کبھی دوسرے کو موردالزام ٹھہراتے رہیں گے۔آزادکشمیر میں سابق حکومت نے بعداز خرابی بسیار عدالتی حکم کی تعمیل میں بادل نخواستہ بلدیاتی الیکشن کروائے اور اس وقت بلدیاتی ادارہ جات موجود ہیں لیکن حکومت نے انہیں وسائل اور اختیارات منتقل نہیں کیئے جس کے نتیجے میں وہ مقامی سطح پر فعال انداز سے عوامی مسائل حل نہیں کر پا رہے۔ بلدیاتی اداروں کا رول بہت محدود رکھا گیا ہے اور انہیں وسائل اور اختیارات سے محروم کرکے وزراء اور ممبران اسمبلی کا مرہون منت بنا گیا ہے۔ اگر آزادکشمیر میں فعال لوکل گورنمنٹ سسٹم ہوتا اور لوگوں کے بنیادی مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے تو لوگوں کا غم و غصہ اس حدتک نہ پہنچتا کہ آزادکشمیر کے نظام کو ہی لپیٹنے کی صدائیں بلند ہوتیں۔
سیاسی جماعتیں نہ تو بنیادی مسائل اور ان کے حل پر توجہ دیتی ہیں، نہ ان میں اس کی صلاحیت موجود ہے تاہم جماعت اسلامی نے اس عرصے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، متحرک اور ویژنری امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان کی قیادت میں آزادکشمیر کے نظام کے نقائص اور امراض کی تشخیص اور اس کے حل کیلئے جامع روڈمیپ کی تیاری پر نہایت خاموشی سے ہوم ورک کیا ہے۔ اس سلسلے میں 
 تعلیم، صحت، جنگلات خوراک و زراعت، صنعت و تجارت، ترقیاتی منصوبہ جات، معدنیات، پاور جنریشن، لوکل گورنمنٹ سسٹم سمیت جملہ سیکٹرز کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپس تشکیل دے کر ہر شعبے کے حقیقی مسائل کی تشخیص اور اس کے حل کا روڈ میپ مرتب کیا گیا ہے۔امید ہے اس حوالے سے جلد ہی عوامی بیداری اور حقیقی مسائل کے دیرپا حل کیلئے جماعت اپنے جامع ایجنڈے کے ساتھ عوام کے سامنے جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر کے مسائل زدہ عوام سایوں اور سرابوں کا تعاقب کرنے کی بجائے ایسے پلیٹ فارم کا انتخاب کریں جو متحرک اور ویژنری قیادت، موثر تنظیمی قوت، مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی مخلص، دیانتدار اور باصلاحیت ٹیم اور مسائل کے سطحی نہیں بلکہ دیرپا حل کے ذریعے ریاست کو اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ایک ترقی یافتہ فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تاکہ آزاد خطہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے بھی حوصلے اور  ترغیب کا ذریعہ اور جدوجہد آزادی کو تیز تر کرنے کا باعث بن سکے-

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر