پروفیسر خورشید احمد صاحب مرحوم سے تعارف تو اسی وقت ہو گیا تھا جب اسلامی جمیعت طلبہ کی وساطت سے تحریک اسلامی سے تعارف ہوا لیکن یہ تعلق اس وقت گہرائی سے استوار ہوا جب اسلام آباد میں انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے نام سے ایک نامور تھنک ٹینک کا اغاز کیا اس کے انتظامی امور کے ذمہ داران میں عبدالملک مجاہد جناب خالد رحمان راؤ محمد اختر اسلامی جمعیت طلبہ کے دور سے ہمارے قائدین رہے جن سے ایک عقیدت کا تعلق تھا چنانچہ تحریک اسلامی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے اپنے ان قائدین سے مشاورت کا عمل جاری رہتا اور انہی کی وساطت سے وقتا فوقتا پروفیسر صاحب سے بھی ملاقاتوں اور نیاز مندی کا تعلق استوار ہوا یہ 1980 کی دہائی کا اوائل تھا جب جہاد افغانستان کامیابی کی طرف پیش رفت کر رہا تھا اور اس کے اثرات ساری مسلم دنیا کے نوجوانوں پر مرتب ہو رہے تھے بیس کیمپ کی تحریک کے حوالے سے تحریک آزادی کشمیر اسلامی تحریک کی اولیں ترجیح رہی ہے چنانچہ اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے طلبہ اور نوجوانوں کی اگہی کے لیے بڑے بڑے پروگرامز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا اور نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر فکری طور پر منظم کرنے کی کوشش کی گئی اس سلسلے میں ہر قدم پر پروفیسر صاحب مرحوم کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل رہی آزاد جموں وکشمیر میں تحریک اسلامی کی تقویت کے لئے انہوں نے ممکنہ تعاون کا اہتمام کیا اسی عرصے میں مقبوضہ کشمیر سے مولانا سعد الدین صاحب مرحوم تشریف لائے ان کے دورے سے پہلے آزاد کشمیر جماعت کے بانی امیر مولانا عبدالباری صاحب مرحوم جن کا اپنا تعلق بھی مقبوضہ کشمیر سے تھا اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا لیکن دورے کے دوران ہی میں انہیں ناپسندیدہ فرد قرار دے کرہمسفر عزیزوں سمیت ڈیپورٹ کر دیا گیا یہ براہ راست مقبوضہ ریاست سے ذمہ دارانہ سطح پر اولیں رابطہ تھا جس کے پس منظر میں مولانا سعد الدین صاحب مرحوم مقبوضہ کشمیر سے تشریف لائے اور ایک طویل مشاورت کا عمل شروع ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی جبر کے خلاف نوجوانوں میں حریت اور آزادی کے جو جذبات کار فرما ہیں انہیں کیسے منظم کیا جائے تاکہ بھارتی استعماری ہتھکنڈوں سے ملت اسلامیہ کو محفوظ کیا جا سکے اس حوالے سے پروفیسر صاحب کی رہنمائی میں اس امر پر اتفاق ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اپنے دعوتی تربیتی کام پر توجہ رکھے اور کوئی بڑی تحریک برپا کرنے سے پہلے سفارتی محاذ پر اس مسئلے کواجاگر کرنے کا اہتمام کیا جائے اس سلسلے میں تحریک کشمیر کے نام سے برطانیہ میں کشمیریوں کو منظم کرنے کے لیے ایک غیر متنازع پلیٹ فارم مولانا منور حسین مشہدی کی قیادت میں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا مشھدی صاحب مرحوم نے پورے برطانیہ میں تحریک منظم کرنے کیلئے شب وروز ایک کئے ان کے بعد برادر محمد غالب اور برادر فہیم کیانی محمود شریف اور ان کی ٹیم بر طانیہ اور یورپ میں تحریک کو وسعت دینے میں شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج مزمل ایوب ٹھوکر شائستہ صفی ظفر قریشی بھارتی پروپیگنڈا کے توڑ کے لئے قابل رشک کردار ادا کررہے ہیں پروفیسر نذیر احمد شال اور بیگم شمیم شال نے بھی بھرپور کردار ادا کیا پروفیسرشال مرحوم تا دم واپسیں ذمہ داریاں ادا کرتے رہے برطانیہ میں سفارتی محاز پر متحرک رہنماؤں بشمول بیرسٹر عبد المجید ترمبو ڈاکٹر عنائت اللہ اندرابی اور ڈاکٹر نذیر گیلانی کی تحسین کرتے رہے
اس کے ساتھ ہی خرم مراد صاحب مرحوم رحمت اللہ علیہ جو اس وقت اسلامی فاؤنڈیشن لیسٹرمیں ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے کی قیادت میں ایک کشمیر ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ بھی ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر سے جناب حسام الدین ایڈوکیٹ اور آزاد کشمیر سے سردار اعجاز افضل خان ایڈوکیٹ کو ذمہ داریاں تفویض کرنے کا فیصلہ کیا گیا حسام الدین صاحب تو تشریف لے ائے اور انہوں نے وہاں کام شروع کر دیا لیکن سردار اعجاز افضل خان باوجوہ اس پروجیکٹ کو جائن نہ کر سکے یوں سفارتی اور علمی سطح پرساتھ ساتھ کام شروع ہوا اور منظم طور پر عوامی اجتماعات اور کانفرنسز کا اہتمام ہوا اسی کی دہائی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی منعقد ہوئی جس میں امیر جماعت آزاد کشمیر کرنل رشید عباسی مرحوم ڈاکٹر ایوب ٹھاکر مرحوم اور کے ایچ خورشید مرحوم سمیت اس وقت کی ساری کشمیری قیادت نے شرکت کی یوں ایک طویل عرصے بعد کشمیر پر پہلی ایسی کانفرنس منعقد ہوء جس میں دونوں حصوں کے ریاستی قائدین نے ایک جامع ڈیکلریشن منظور کیا اور ایک کل جماعتی رابطہ کونسل قائم کرنے کا فیصلہ ہوا جو آج بھی فعال ہے اسی عرصے میں افغان جہاد عروج پہ پہنچا اور سوویت رشیا کی پسپائی کا عمل شروع ہوا جس کے نتیجے میں نئے امکانات پیدا ہوئے اس عمل نے ساری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے جذبات کو جلا بخشی اور کشمیر میں بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے جس طرح ساری دنیا سے جذبہ جہاد سے سرشار نوجوان افغان جہاد میں شرکت کو ایک سعادت سمجھتے تھے اسی طرح کشمیری نوجوان بھی جوق در جوق اس میں شامل اور منظم ہوتے رہے اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے قائدین سے مزید صلاح مشورہ کا عمل بھی جاری رہا نیپال ہو سعودی عرب ہو قطر ہو انگلینڈ ہو اور دوسرے مقامات پر یہ مشاورتی اجتماعات منعقد ہوتے رہے جن کی سرپرستی پروفیسر خورشید احمد صاحب ہی فرماتے رہے ان اجتماعات میں مرحوم قائد حریت سید علی گیلانی سمیت دیگر زعما بھی شریک ہوتے رہے سید علی گیلانی مرحوم جرات واستقامت کا ایک استعارہ اور تحریک کے روح رواں تھے یہی وجہ ہے کہ پروفیسر صاحب ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور ان کی را ئے کا احترام بھی کرتے تھے مقبوضہ کشمیر میں تحریک کی تقویت اور ملت اسلامیہ کے بقا اور تحفظ کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے الحمدللہ گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط یہ سفر انہی کی سرپرستی اور قیادت میں طے ہوا اور میں اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں کہ اس میں ایک کارکن کی حیثیت سے مجھے بھی کردار ادا کرنے کا موقع ملا پروفیسر صاحب مرحوم اول روز ہی سے مسئلہ کشمیر کو اپنی علمی اور فکری ترجیحات میں سرفہرست سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب وہ کراچی کے ادارہ معارف اسلامی کے سربراہ تھے ممتاز سکالر ڈاکٹر ممتاز احمد کو یہ فریضہ تفویض کیا کہ مسئلہ کشمیر پر ایک ایسی جامع کتاب تالیف کی جائے جو اس مسئلے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہو ڈاکٹر ممتاز صاحب مرحوم نے موضوع کا حق ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر ایک نہایت ہی جامع تصنیف تخلیق کی جس کا دیباچہ سید ابو الاعلی مودودی علیہ رحمت نے تحریر کیا اسی طرح علمی اور فکری ساری جہتوں میں ہمیشہ پروفیسر صاحب مرحوم اس مسئلے کی اہمیت اجاگر کرتے رہے چنانچہ اسی کی دہائی کے بعد کے سارے مراحل میں وہ اس عظیم جدوجہد میں ایک رہنما اور مربی کا کردار ادا کرتے رہے اس سلسلے میں انہیں مرحوم قاضی حسین صاحب اور آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی تحریکی قائدین کا بھرپور اعتماد حاصل تھا پروفیسر صاحب کی رائے اور رہنمائی کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے نام ور سکالرز ڈاکٹر غلام نبی فائی مرحوم حسام الدین ایڈوکیٹ مرحوم ڈاکٹر ایوب ٹھوکر نزیر احمد قریشی اور دوسرے احباب بیرون ملک منتقل ہوئے خلیجی ممالک ہوں امریکہ یا برطانیہ اور یورپ ان محاذوں پر ان رہنماؤں نے سفارتی محا ز پر انتھک جدوجہد کی اور مختلف ادارے اور تھنک ٹینکس قائم کیے بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کی کی اور عالمی سطح پر رائے عامہ منظم کرنے کے لیے کردار ادا کیا ان کی سربراہی میں قائم نامور تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ اف پالیسی سٹڈیز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مسئلہ کشمیر پر سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد کے علاوہ سکالرز نے بھارتی مظالم اجاگر کرنے کے لیے کشمیر کی جدوجہد کو حقیقی تناظر میں بھرپور طور پر اجاگر کیا پروفیسر صاحب کے تعزیتی ریفرنس کے موقع پر ڈاکٹر شیری مزاری نے بچا طور پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ آئی پی ایس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جس قدر کام کیا ہے اتنا پاکستان کے سارے ادارے اور سکالرز بھی مل کر نہ کر سکے جہاں ایک طرف اس مسئلے سے وابستہ جماعت کی اکائیاں اور ادارے ان سے رہنمائی لیتے تھے وہیں تمام سٹیک ہولڈرز ال پارٹیز حریت کانفرنس ہو مجاہدین کونسل ہو یا کشمیر کے دیگر قائدین ہوں کشمیر کے حوالے سے تحقیقی کام کرنے والے سکالرز ہوں یا حکومت کے پالیسی ساز ادارے ہوں پارلیمنٹ ہو یا وزارت خارجہ ہو ہر محاذ پر ان کی رہنمائی سے استفادہ کا عمل بلا تعطل جاری رہا علاوہ ازیں سینٹ اور پارلیمنٹ میں دو دہائیاں بھرپور نمائندگی کی پاکستان کے ہر مسئلے پر جہاں سینٹ میں انہوں نے قائدانہ کردار ادا کیا وہیں مسئلہ کشمیر پر بھی انہیں اتھارٹی سمجھا جاتا تھا اور ان سے رہنمائی لی جاتی تھی
90 کی دہائی کے آغاز میں جب یہ تحریک ایک انقلاب کے طور پر اٹھی اور بھارتی مظالم سے ستائے ہوئے ہزاروں نوجوان سیز فائر لائن کراس کرتے ہوئے بیس کیمپ میں وارد ہوئے تو ان کی اہل پاکستان اور ریاست پاکستان سے بڑی توقعات تھیں لیکن بدقسمتی سے اس وقت بھی پاکستان میں سیاسی محاذ ارائی عروج پر تھی اور مختلف جماعتوں اور اداروں میں ایک بے اعتمادی کی کیفیت تھی ضیاء الحق شہید اور ان سے وابستہ سینیئر ٹیم ممبران جو اس تحریک کے خدوخال سے آگاہ تھے ایک حادثے کی نظر ہو گئے جس کے نتیجے میں ایک بڑا خلا پیدا ہوا اور پالیسی سازی میں بھی تعطل پیدا ہوا ان حالات میں اس امر کی اشد ضرورت محسوس ہوئی کہ ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ایک بڑی مہم کا اہتمام کیا جائے چنانچہ قاضی حسین احمد صاحب مرحوم رحمت اللہ علیہ اور پروفیسر خورشید صاحب مرحوم رحمت اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں ہماری بھرپور سرپرستی کی اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی تحریکوں کو اس کاز کا پشتیبان بنانے میں اہم کردار ادا کیا پروفیسر صاحب مرحوم مولانا مودودی مرحوم رحمت اللہ علیہ کے دور ہی سے عالمی سطح پر اسلامی تحریکوں سے روابط استوار کرنے کے ذمہ دار تھے چنانچہ اس مرحلے پر بین الاقوامی اسلامی تحریکوں اور اداروں جن کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم اور تعلقات تھے کو متحرک کرنے میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا ان کی تجویز پر طے پایا کہ قاضی حسین احمد صاحب مرحوم کی قیادت میں ایک کل جماعتی پارلیمانی وفد مسلم دنیا کا دورہ کر ے اور وہاں کے حکمرانوں اور اہل دانش کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی جدوجہد کو اجاگر کرے چنانچہ ایک کل جماعتی وفد(جس کے ایک ممبر کے طور مجھے بھی شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا) نے کئی ہفتوں کا ترکی اور تمام خلیجی ممالک کا دورہ کیا گیا جس میں حزب اقتدار وحزب اختلاف سمیت ممبران پارلیمنٹ ذرائع ابلاغ اہل دانش اور علماء کرام سے تفصیلی نشستیں ہوئیں جن میں مسئلہ کشمیر کے پس منظر اہل کشمیر کی جدوجہد اوران پر روارکھے جانے والے بھارتی مظالم اور اس اہم مسئلہ کے حل کے حوالے سے امت مسلمہ کی ذمہ داریوں پر تفصیلی بریفننگ دی گئی جس کے بے پناہ مثبت اثرات مرتب ہوئے اس دورے کے موقع پر اندازہ ہوا کہ پروفیسر صاحب مرحوم کے علمی مقام اور رتبے کا مسلم دنیا میں بے پناہ احترام موجود ہے ملاقات کے موقع پر ترکی کے صدر جناب ترکت اوزل نے فرمایا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ پروفیسر خورشید صاحب جن کی کتابوں سے ہم مستفید ہوتے تھے آج ملاقات کی سعادت حاصل کر رہے ہیں جناب قاضی حسین احمد صاحب مرحوم اور پروفیسر صاحب مرحوم کا مسلم دنیا میں بے پناہ احترام تھا اور علمی حلقوں میں تمام مسلم دنیا میں پروفیسر صاحب ایک جانی پہچانی شخصیت تھے
اسلامی معیشت اور بلا سود بینکاری کے معمار کی حیثیت سے پوری دنیا میں وہ اپنی ایک پہچان رکھتے تھے اور ان خدمات کے نتیجے میں وہ شاہ فیصل ایوارڈسمیت کئی بین الاقوامی سطح کے اعزازات بھی حاصل کر چکے تھے اس پس منظر میں مسلم دنیا کے اہل دانش اور تھنک ٹینکس ان سے ملنا اور ان سے مستفید ہونا اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے اسی دورے کے موقع پر ترکی ہی میں اہل دانش کی ایک مجلس میں انہوں نے ے مسئلہ کشمیر اور امت کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے امت کی وحدت اور اہل دانش کی ذمہ داریوں کا احاطہ کیانیز ترکی کو مغرب کی دم بننے کی بجاے تاریخی پس منظر میں مسلم دنیا کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینے پر متوجہ کیا جس پر شرکا نے انکی تحسین کرتے ہوئے ان کابے پناہ شکریہ ادا کیا یہ مجلس ڈاکٹر پروفیسر نجم الدین اربکان کی صدارت میں منعقد ہوئی جس کے میزبان موجودہ صدر طیب اردگان تھے جو اس وقت رفاہ پارٹی استنبول کے سربراہ تھے اس دورے میں جو رائے عامہ منظم ہوئی اسی کے نتیجے میں طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ 1990 میں قائرہ میں منعقد ہونے والے او ائی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ایک جامع قرارداد منظور ہوئی یوں بین الاقوامی محاذسمیت تمام محازوں پر ریاست پاکستان اور اسکے ادارے اس تحریک کے پشتیبان اور ترجمان بنے جسکے نتیجے میں بھارت مزاحمت کے جملہِ محاذوں پر سخت دباؤ کا شکار اور مجاہدین سے جنگ بندی کی پیشکش کرنے اور حز ب المجاہدین سے مذاکرات پر مجبور ہوا بدقسمتی سے اس سارے عرصے میں پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا عمل جاری رہا جس کے نتیجے میں مسئلہ کے حل کے حوالے سے دستیاب مواقع سے استفادہ نہ کیا جاسکا اسی عرصے میں جمہوریت کا نظام پٹڑی سے اتر گیا اور فوجی حکومت قائم ہوئی جس نے دہشت گردی کے نام پر ایک جنگ اپنے ذمہ لے لی جس کے بے پناہ مضر اثرات مرتب ہوئے اور ریاست پاکستان جس انداز سے اس تحریک کی پشت بانی کر رہی تھی حالات کے دباؤ کی وجہ سے پسپا ہو گئی اور اپنے بنیادی موقف سے انحراف کرتے ہوئے مشرف کے چار نکاتی فارمولے کی شکل میں مبہم اور گنجلک حل پیش کیے گئے ان سارے مراحل پر وفیسر صاحب مرحوم پارلیمنٹ کے فلور سے اور ہر دستیاب پلیٹ فارم سے حکمرانوں کو متوجہ کرتے رہے کہ وہ اپنے اصولی اور بنیادی موقف سے انحراف نہ کریں اور عالمی سطح پر بطورفریق مسئلہ پر جرات سیاپنا موقف منوائیں لیکن بدقسمتی سے پسپائی کا عمل نہ رک سکا اس عرصے میں بطور مدیر ترجمان القران انہوں نے شاہکار اداریے تحریر کئے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہونے والی جدوجہد اس میں دی جانے والی قربانیاں بھارت کی سازشیں اور بین الاقوامی استعمار کے ہتھکنڈوں کو کیسے ناکام بنایا جا سکتا ہے اور کیسے یہ تحریک اپنی حتمی آزادی کی منزل سے ہمکنار ہو سکتی ہے پرجامع حکمت عملی اور لائحہ عمل پیش کرتے رہے وہ ہمیشہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کے چراغ جلاتے رہے بدقسمتی سے ہمارے حکمران اور پالیسی ساز ادارے ان سے کماحقہ استفادہ نہ کر سکے لیکن پروفیسر صاحب کے رہنما اصولوں پر مبنی وہ اداریے ایک مستقل لائحہ عمل کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ حلقوں کو
استفادہ کرنا چاہیے
نوے کی دہائی میں ملک کے نامور سینیئر مدبر سیاستدان جناب نواب ذادہ نصر اللہ خان کی قیادت میں پارلیمانی کشمیر کمیٹی نے بڑا فعال کردار ادا کیا اس کی کارکردگی کے حوالے سے بھی پروفیسر صاحب نے بڑا فعال کردار ادا کیا نواب صاحب محترم پروفیسر صاحب کا بے پناہ احترام کرتے تھے اور ان ہی کی تحریک پر راقم کو بھی کشمیر کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا نواب صاحب کی قیادت میں یورپ اور مسلم ممالک کے دوروں میں جناب سردارابرہیم مرحوم ایس ظفر مرحوم وغیرہم کے ساتھ رہنے کا موقع ملا اور مسئلہ کشمیر پر الحمدللہ بھرپور ترجمانی کرنے کی کوشش کی کشمیر کمیٹی کی فعالیت کے حوالے سے پروفیسر صاحب کی ہر تجویز نواب صاحب خندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے چنانچہ پے در پہ پارلیمانی وفود ساری دنیا میں بھیجے گئے جن میں باقی جماعتی قائدین کے علاوہ جناب لیاقت بلوچ جناب مظفر ہاشمی مرحوم اور پروفیسر الیف الدین ترابی مرحوم برگیڈیئر شفیع مرحوم سمیت دیگر حریت قائدین کو ان دوروں میں کشمیر کاز کی نمائندگی کرنے کا موقع ملتا رہا پروفیسر صاحب ہی کی تجویز پر اس مسئلے کو جنرل اسمبلی میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا نواب صاحب کی قیادت میں وفد جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پہنچا پروفیسر صاحب بھی اس وفد کا حصہ تھے لیکن بدقسمتی سے وزارت خارجہ کا مناسب ہوم ورک نہ ہونے کی وجہ سے بالکل آخری مرحلے میں جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ واپس لیا گیا جس پر پروفیسر صاحب اور نواب صاحب بہت رنجیدہ ہوئے
اسی طرح نوے کی دھائی میں مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر تمام نمائندہ کشمیری اور پاکستانی قیادت کو باہم مل بیٹھنے کا موقع ملا اور مسئلہ کے حوالے سے ایک اعلامیہ مکہ ڈیکلریشن کے عنوان سے منظور کیاگیا جو تحریک آذادی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اعلامیہ کی تیاری کے لئے جناب خالد رحمان راقم اور پروفیسر ترابی صاحب پر مشتمل کمیٹی قائم ہوئی جس نے پروفیسر صاحب کی رہنماء میں مسودہ تیار کیا جسے متفقہ طور منظور کیا گیا اس کانفرنس میں جناب نوابزادہ نصراللہ خان جناب قاضی حسین احمد جناب راجہ ظفرالحق جناب پروفیسر خورشید احمد جناب لیاقت بلوچ اس وقت کے وزیر اعظم آذاد کشمیر جناب سردار عبدالقیوم قائد حزب اختلاف جناب راجہ ممتاز حسین راٹھور قائدین حریت مقبوضہ کشمیر سے جناب سید علی گیلانی جناب غلام نبی سو مجھی جنا ب الطاف شاہ جنا ب ڈاکٹر ایوب ٹھوکر جناب ڈاکٹر غلام نبی فائی جناب نذیر قریشی جناب محمد غالب جناب خالد رحمان جناب پروفیسر الیف الدین ترابی جناب غلام محمد صفی جناب سید یوسف نسیم جناب مشتاق وانی مرحوم جناب بریگیڈئر محمد شفیع میرے معاون خصوصی انجینئر عابد خواجہ شریک ہوئے اس جامع اعلامیہ میں بھارتی عزائم اور مظالم کے تدارک کے لئے عالمی برادری او آء سی کو ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کے ساتھ پاکستانی حکومت اورعوام اورخود کشمیریوں کے کردار کا احاطہ کیا گیا
پروفیسر صاحب سید علی گیلانی سے لیکر سید صلاح الد ین تک تمام مزاحمتی کشمیری قیادت کا بے پناہ احترام کرتے تھے اوران کے مسائل کے حل کے لئے بے تاب رہتے تھے جناب یاسین ملک کی شادی کے موقع پر بانفس نفیس شریک ہوکر ان کی حوصلہ افزاء کی قلمی محاذ پر سید علی شاہ گیلانی کے لا ذوال کنٹری بیوشن کے معترف بھی تھے اور ان کی کتب کی اشاعت کے لئے اہتمام بھی کرتے تھے گیلانی صاحب اور اشرف صحرائی صاحب کی شھادتوں کے بعد متبادل قیادت کی تیاری کے حوالے سے بہت فکر مند تھے مودی حکومت اگست2019کے اقدامات
کے بعد ریاستی اور کشمیری تشخص کی تحلیل پر سخت رنجیدہ اور فکر مند تھے جسکا اظہار اشارات میں کرتے رہے جیلوں میں محبوس حریت قائدین اور کارکنان کے مسئلہ کو بھی ہمیشہ فکرمندی سے اجاگر کیا۔
مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین ہو یا امت مسلمہ کے دیگر مسائل اسی طرح اسلامی فوبیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا سلسلہ اور مسلم دنیا سے امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے عملاور اس طرح کے جملہِ درپیش مسائل اجاگر کرنے کے لیے اسلامی تحریکوں کا ایک وفد جناب پروفیسر نجم الدین اربکان صاحب کی قیادت میں یورپ اور امریکہ کے دورے پر روانہ ہوا اس کے روح رواں بھی جناب پروفیسر صاحب مرحوم ہی تھے جناب لیاقت بلوچ بھی اس وفد کا حصہ تھے اور انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک نیز ترکی اور خلیجی ممالک کے منتخب نمائندے اور اہل دانش اس وفد میں شامل تھے امریکہ کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز حلقوں میں اس وفد نے بچا طور پر مسلم دنیا کے جذبات کی ترجمانی کی اسی طرح سے یورپی ممالک میں بھی جہاں جہاں جانے کا موقع ملاا بھرپور طور پر ان مسلم مسائل کو اجاگر کیا گیا اور مغربی دنیا کو مسلمانوں سے امتیازی سلوک ختم کرنے اور عدل و انصاف پر مبنی رویہ اختیار کرنے پر متوجہ کیا گیا اسی طرح پروفیسر صاحب کی سرپرستی میں ممتاز دانشور حاشر فاروقی صاحب مرحوم کی ادارت میں Impact international کے نام سے ایک بین الاقوامی جریدہ سال ہا سال مغربی اہل دانش اور تھنک ٹینکس میں ان اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا ایک کردار ادا کرتا رہا مسئلہ کشمیر کے علاوہ مسئلہ فلسطین ہو امت کی وحدت ہو اور امت مسلمہ کے دیگر مسائل سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہ مصداق پروفیسر صاحب ان مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہوئے ان سے وابستہ رہنما وں اور کارکنان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے مجھے جناب قاضی حسین احمد صاحب مرحوم اور پروفیسر صاحب مرحوم کی قیادت میں افغان مجاہدین کے اختلافات ختم کرنے کے لیے جانے والے اسلامی تحریکوں کے وفود میں بھی شامل ہونے کا موقع ملتا رہا جس درد سے ہمارے ان قائدین نے اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے شب و روز کوششیں کی وہ انہی کا حصہ ہے اسی طرح خلیجی ممالک کی باہم جنگوں میں سعودی عرب اور عراق کے درمیان خلیج ختم کرنے کے لیے قاضی حسین احمد صاحب مرحوم کی قیادت میں اسلامی تحریکوں کے قائدین میں پروفیسر خورشید صاحب نے ایک نمایاں اور بھرپور کردار ادا کیا مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لیے عالم اسلام کے ممتاز سکالر اور مدبر جناب علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی قیادت میں بین الاقوامی القدس انسٹیٹیوٹ کے نام سے ایک ادارہ بیروت میں قائم کیا گیا اس کے تاسیسی اجتماع میں بھی پروفیسر صاحب اور جناب قاضی حسین احمد صاحب کے ساتھ ہمیں بھی شرکت اور اس ادارے کے بورڈ اف ٹرسٹیز کے اولین ممبران میں شامل ہونے کا موقع ملا اس ادارے کی وساطت سے جہاں مسئلہ فلسطین اور القدس کے ساتھ وابستگی ہمارے لیے اعزاز تھا وہیں اس کی ہر کانفرنس اور اجلاس میں شرکاء کو مسئلہ کشمیر پر بریف کرنا اور حالات سے اگاہی کرنا یہ ایک ایسا نادر موقع ہمیں فراہم ہوا جو ان عظیم قائدین کا مرہون منت تھا ان اجتماعات میں بھی کسی بھی مسئلے پر پروفیسر صاحب کی رائے کو حتمی سمجھا جاتا تھا اور انہی کی رائے اور مشورے کے مطابق فیصلوں پر اتفاق رائے ہوتا تھا مرحوم پروفیسر صاحب ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک اور ادارہ تھے علمی فکری تنظیمی ادارتی سطح پر جتنا کام اللہ نے ان سے لیا ہے یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے اور انہی کا حصہ ہے کہ علمی سطح پر ایک ماہر معیشت کی حیثیت سے ساری دنیا ان کی حیثیت اور خدمات کو تسلیم کرتی ہے کہ اسلامی معیشت کو استوار
کرنے میں ان کا بنیادی کردار ہے آج اسلامی بینکنگ سے وابستہ سرمایہ کاری ساڑھے پانچ کھرب ڈالر سے متجاوز ہے عالمی ماہرین انہی کو یہ کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہی کی قائم کردہ بنیادوں پر آج اسلامی معیشت کی ایک عظیم الشان عمارت کھڑی ہے دنیا اس پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کر رہی ہے اور ان کے کام پر تحقیق بھی کر رہی ہے وہیں سید مودودی کی فکر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اسلامک فاؤنڈیشن یا دیگر بین الاقوامی ادارے ہوں یا اسلامی یونیورسٹیز اسلام اباد ملائشیا نائجیریا یہ سارے ادارے ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں ادارہ معارف اسلامی سید مودودی کی رہنمائی میں قائم ہوا لیکن اس کو منظم کرنے میں علمی فکری محاذ پر اس کو چار چاند لگانے میں پروفیسر صاحب نے کلیدی کردار ادا کیا اسلامی جمعیت طلبہ ہو یا جماعت اسلامی عظیم تحریکوں کو ایک بہترین دستور جس پر یہ تنظیمیں استوار ہیں فراہم کرنے میں انہوں نے بنیادی کردار ادا کیا ان کی رہنمائی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں قلم کار اور اہل دانش تیار ہوئے جو مختلف محاذوں پر آج اقامت دین اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں تحریک پاکستان میں ایک نوخیز کارکن کی حیثیت حصہ لیا اور تادم واپسی قائد اعظم کے تصور کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت قائم کرنے کے لیے شب و روز ایک کئے اسلامی تحریک کے پلیٹ فارم سے اور ذاتی حیثیت سے بھی علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل تعبیر حاصل کرنے کے لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ بروئے کار لایا اس سارے عرصے میں ان کی ہمارے ساتھ بے پناہ مربیانہ شفقت رہی ریاست جموں کشمیر میں اسلامی تحریک کے استحکام اور دعوتی تعلیمی میدانو ں میں تحریک کی وسعت کے حوالے ہماری طرف سے پیش کردہ ہر تجویز کا خیر مقدم کے ساتھ بھرپور معاونت کی مولانا عبدالباری مرحوم ہوں یا کرنل رشید عباسی مرحوم برادر سردار اعجاز افضل ہوں یا ڈاکٹر برادر خالد محمود خان یا ڈاکٹر برادر محمد مشتاق خان ہوں سب ہی کے ساتھ شفقت اور سر پرستی فرماتے رہے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو آئنی انتظامی اور مالی لحاظ سے باوقار اور باآختیاردیکھنا چاہتے تھے اس سلسلہ میں پارلیمان اور ہر پلیٹ فارم سے آواز بلند کرتے رہے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ایک موثر بیس کیمپ قائم کرنے پر متوجہ کرتے رہے اور ان کے سٹیٹس کی کسی تبدیلی میں مزاحم رہے چار دہائیوں پر محیط ذمہ داریوں کے دورانیہ میں بائس برس امیر جماعت کی حیثیت ذمہ داریاں نبھانا پڑیں اس سارے عر صے میں ان سے بے پناہ شفقت ملی ان جیسا ہمدرد اور غم خوار شاید ہی کوئی دوسرا فرد پایا ہو جو اپنے ساتھیوں اور کارکنان کے ذاتی مسائل کو ایک والد کی طرح اگاہی بھی رکھتا ہو اور انہیں حل کرنے کے لیے بیتاب بھی ہو ہمارے وہ رہنما اور قائد اور مربی بھی تھے اور ذاتی طور پر ایک شفیق والد کی طرح ان کی شفقت ہمیں حاصل تھی صحت کی خرابی کے باوجود حالات پر نظر رکھتے ہوے رہنماء کرتے تھے راقم تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سر گرمیوں اور پیش رفت سے انہیں اکثر آگاہ کرتا رہتا تھا ہمارے بعض ذمہ داران تو کسی پیغام کی رسد بھی نہی دیتے لیکن پروفیسر فی الفور جواب بھی دیتے اور حوصلہ افزاء بھی کرتے اکثر فون پر بھی رابطہ رکھتے برطانیہ جب بھی جانا ہوا ان کی زیارت اور ملاقات ہمیشہ فکری اور روحانی بالیدگی کا ذریعہ بنی فراخ دلی سے ملاقات کا موقع دیتے رہے
تعلیمی میدان میں ریڈ فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے جو تجربہ ہم نے کیا اس پر ہمیشہ تحسین کی اور اس کے ذمہ دار برادر محمود احمد سے فراخدلانہ تعاون کرتے رہے۔
ان کی رحلت امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج پوری دنیا میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور لاکھوں لوگ اس بات پر گواہ اور شاہد ہیں کہ انہوں نے اپنے اللہ سے جو عہد باندھا تھا اس کا حق ادا کیا آج ہم سب پس ماندگان ہیں اور ان کی شفقت سے محروم ہو گئے ہیں لیکن اس موقع پر ان کے قریبی ا عزہ ان کے برادر عزیز جناب ڈاکٹر انیس احمد ان کے صاحبزادوں ان کی بیٹیوں ان کے دیگر عزیزوں خاص طور پر برادر محترم خالد رحمان صاحب جنہوں نے انکی طویل رفاقت اور رہنمائی میں آئی پی ایس جیسے ادارے کو پوری مسلم دنیا میں ایک مثالی ادارہ بنایااور ان کے مشن کی تکمیل کا ذریعہ بنے محترم امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن صاحب جناب سراج الحق جناب لیاقت بلوچ اور دیگر قائدین اور ان سے متعلقین جو اپنی اپنی جگہ سبھی پسماندگان ہیں اظہار تعزیت بھی کرتے ہیں اللہ سے دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ ان کی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کا نعم البدل بھی عطا فرمائے ان کے چھوڑے ہوئے فکری اور علمی کام کے حوالے سے جو خلا پیدا ہوا اللہ ان کے مشن کی تکمیل کرنے والے ایسے اہل دانش اور فکری رہنما دستیاب کرے جو پاکستان اور بین الاقوامی محاذ پر ان کے خلا کو پر کر سکیں۔آمین