موت کا وقت مقرر ہے اور ہرذی نفس نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔ کل نفس ذائقہ الموت۔(القرآن)
اللہ تعالیٰ نے اس ابدی حقیقت کو خود بیان فرما دیا لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی زندگی بھی قابل رشک ہو اور موت بھی ……! جناب مجید نظامی ان چند ہستیوں میں سے ایک ہیں جو نظریات کی آبیاری کرتے ہوئے جیے اور قابل رشک موت سے ہمکنار ہوئے۔پاکستان کے اسلامی اور جمہوری تشخص کا معاملہ ہو‘ اس کے دفاع اور استحکام کا پہلو ہو‘ اس کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو بے نقاب کرنے کا محاذ ہو‘ انہوں نے اور ان کی قیادت میں ادارہ نوائے وقت نے ایک بھرپورجنگ لڑی۔یہی وجہ ہے کہ قومی پالیسی میں ان کے نکتہ نظر کو نظر انداز کر کے جو بھی فیصلے کیے گئے اس کے نتیجے میں ملک بحرانوں کا شکار ہوا۔انہیں حقیقی طور پر پاکستان کا نظریاتی گارڈ فادر بھی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ ادارہ کی سطح پر اہل قلم کی کھیپ تیار کرنا بھی یقیناً انہی کا حصہ ہے۔ ان کے زیر تربیت رہنے والے جس بھی اخبار سے منسلک ہوئے غالب اکثریت نظریاتی وابستگی پر قائم رہی۔ ان کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ وہ پاکستان کے محسنوں اور دشمنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے تھے۔ پاکستان دشمنی میں بلا شبہ سب سے بڑا دشمن ہندوستان ہے جس نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ مشرقی پاکستان کو دو لخت کرنے میں اس نے مرکزی کردار ادا کیا‘ ہمارے مصلحت کوش حکمرانوں نے اور اشرافیہ نے اس سانحہ کو فراموش کر دیا اور اس وقت پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑنے والوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا لیکن جناب مجید نظامی نے اس سانحہ کو فراموش کیا اور نہ ہی پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑنے والوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑا۔ پاکستان کی خاطر گزشتہ چوالیس سال سے آزمائشوں کا شکار بہاریوں کو اگر کسی نے یاد رکھا تو وہ مجید نظامی تھے۔مجھے دو مرتبہ بنگلہ دیش کے دورہ کے موقعے پر بہاریوں کے کیمپ دیکھنے کا موقع ملا۔ان کے لیڈر نسیم احمد مرحوم سے لے کر عام آدمی تک سب نظامی صاحب کے کردار کے معترف تھے۔ ان کی بحالی کے لیے تادم واپسیں وہ کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں ”نوائے وقت“ نے ایک مستقل فنڈ بھی قائم کیا۔ اسی طرح عوامی لیگ کی موجودہ بھارت نواز حکومت نے جماعت اسلامی اور بی۔ این۔ پی کے قائدین کو پاکستان سے وفاداری کی سزا دینے کے لیے جعلی مقدمات کا سہارا لیا اور عبدالقادر ملا کو پھانسی پر چڑھا کر شہید کیا۔ امیر جماعت مطیع الرحمن نظامی اور مولانا دلاور سعیدی کو موت کی سزائیں سنائیں تو نظامی صاحب ہی نے اس ظلم کے خلاف سب سے اولین اور موثر آواز بلند کی۔ بہر حال یہ تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ جس پاکستان کی سلامتی کے لیے قربانیاں دیتے ہوئے وہ آج تک آزمائشوں کا شکار ہیں اس پاکستان کے حکمرانوں‘ سیاست دانوں حتیٰ کہ افواج نے بھی انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور محض مطمئن ہو گئے کہ نظامی صاحب ہی سب کی طرف سے یہ فرض کفایہ ادا کریں۔
نظامی صاحب اہل کشمیر کے حقیقی پشتیبان اور محسن تھے‘ کشمیر کے حوالے سے حکومت کی ہر کمزور پالیسی کی انہوں نے بر وقت گرفت کی حتیٰ کہ مسلم لیگ کے نام پر بننے والی حکومتوں کی لغزشوں کو بھی انہوں نے کبھی معاف نہ کیا‘ وہ واحد بے باک صحافی تھے جو برملا کہتے تھے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے ہمیں جنگ بھی کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایٹم بم تک استعمال کرنے کی نوبت آئے تواستعمال کر لینا چاہیے۔ کئی بار کہا کہ مجھے ایٹم بم کے ساتھ باندھ کر فائر کر دیں تاکہ ہندو استعماریت اپنے انجام کو پہنچ سکے۔
موجودہ حکمران واجپائی کی لاہور یاترا کو اور معاہدہ لاہور کو اپنا بڑا کارنامہ قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاہدہ لاہور شملہ معاہدہ سے بھی زیادہ کمزور معاہدہ تھا۔ واجپائی نے لاہور ہی میں تو کہہ دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر بات ہوگی لیکن دہلی جا کر پارلیمنٹ میں بیان دیا کہ ہاں بات ہوگی لیکن اس کشمیر پر جو پاکستان کے زیر قبضہ ہے۔واجپائی کی لاہور یاترا کا ہدف اپنا تھا۔ان کے دورے سے پہلے مقبوضہ کشمیر اور وادی نیلم میں بھارت نے سویلین آبادی پر جارحیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا اس لیے اس کی آمد پر سخت احتجاج ہوا۔ اس احتجاج کی ابتدائی تجویز قائدین حریت کی طرف سے تھی جس پر محترم قاضی حسین احمدمتامل تھے جنہیں یکسو کرنے کے لیے مجید نظامی صاحب نے اہم کردار ادا کیا اور کہا کہ اس موقع پر احتجاج نہ ہوا تو مقبوضہ کشمیر میں غلط پیغام جائے گا کہ مسئلہ پر ٹھوس پیش رفت کے بغیر حکومت اور پوری پاکستانی قوم نے سرنڈر کر لیا ہے۔ چنانچہ بھر پور احتجاج ہوا جس کے جواب میں دوسرے دن جماعت کے جلسہ کو ریاستی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ وہ تاریخ کا ایک دلخراش باب ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ بہر حال اس موقع پر نظامی صاحب نے کھل کر حکومتی پالیسی اور پولیس گردی کی بھر پور مذمت کی اورجماعت کے موقف کو برحق قرار دیا یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایٹمی دھماکے بھی ان کی دھمکی کے بعد کیے گئے۔ ورنہ حکومت میں ایسی لابی بھی تھی جو دھماکے کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی اورامریکی پیشکش قبول کرنے کے لیے بے تاب تھی۔
مشرف نے قومی موقف سے انحراف کر کے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے چار نکاتی فارمولہ پیش کیا جس کے نتیجے میں پاکستان اور کشمیری رائے عامہ تقسیم ہوئی اور تحریک آزادی کشمیرکو بے پناہ دھچکا لگا۔اس کی اس کمزور پالیسی کی وجہ سے مجاہدین کشمیر دہشت گرد ٹھہرائے گئے۔ بدقسمتی سے کشمیر کے دونوں حصوں کے بعض قائدین اور جماعتوں نے مشرف کے اس تحریک کش اقدام کی حمایت کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی چٹان کی طرح اپنے موقف پر ڈٹ گئے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں جماعت اسلامی کے بعد دوسری آواز جناب مجید نظامی کی تھی‘ جنہوں نے مشرف کے خوب لتے لیے اور جناب سید علی گیلانی کے موقف کی بھرپور تائیدکی۔گزشتہ تین دہائیوں کے سفرمیں جب بھی حکومت اور قیادت کی کمزور پالیسی سامنے آئی مجھ سمیت قائدین حریت مجید نظامی کو اپنا سہارا سمجھتے تھے۔پاکستان میں قومی سطح پر جناب قاضی حسین احمد صاحب‘ نواب زادہ نصراللہ خان صاحب‘ اور مجید نظامی کشمیر کاز کے غیر مشروط پشتیبان تھے جنہوں نے ہر مرحلہ پر حکمرانوں کی کمزور کشمیر پالیسی کانوٹس لیا اور پاکستان کی کشمیر پالیسی کو قومی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان تینوں بالخصوص جناب نظامی صاحب کا اس مرحلے پر ہم سے جدا ہو جانا جب کہ بھارت اپنے سرپرستوں کی تائید کے ساتھ پاکستان کے استحکام اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر رہا ہے ہم سب کے لیے ایک آزمائش ہے۔
بد قسمتی سے نظامی صاحب کی توجہات کے باوجود میاں نواز شریف صاحب کشمیر پر ابھی تک دو ٹوک لائحہ عمل طے نہ کر سکے اور نہ ہی اس سلسلے میں ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کشمیر ی قیادت سے کسی مشاورت کا بھر پور اہتمام کر سکے۔ حتیٰ کہ نریندر مودی کی حلف کی تقریب میں دہلی یاترا کے موقع پر حریت قائدین سے ملاقات نہ کر کے نہایت منفی پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنے اور بھارت کی پاکستان اور کشمیر دشمن پالیسیوں کے علی الرغم بھارت کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے بے تابی نے نہایت ہی خطرناک رحجان کو پروان چڑھایا جس کے آگے مجید نظامی جیسی قدآور شخصیات ہی بند باندھ سکتی تھی یقینا وہ اپنے حصے کا کام کر گئے اور اللہ کے حضور سرخرو بھی ہوں گے۔ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب میں ان کی موت ان کے اعمال کی قبولیت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور قومی سطح پر ان کے اٹھنے سے جو خلاپیدا ہوا اللہ کرے ادارہ ”نوائے وقت“ ہمارے اہل قلم حضرات اور سیاسی قائدین سب مل کر اس مشن کی آبیاری کریں اور اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کر سکیں۔
اس سارے عرصے میں ذاتی لحاظ سے ان کی راقم کے ساتھ بے پناہ شفقت رہی‘نوائے وقت کشمیر ریلیف فنڈ کے ذریعے کشمیری مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے جہاں جہاں نشان دہی کی انہوں نے بھر پور شفقت فرمائی۔ جب بھی ملاقات ہوئی بے پناہ دعاؤں سے نوازا۔ والدین کی وفات کے موقع پر اور میرے عزیز نعمت اللہ کی شہادت کے موقع پر فون کر کے اظہار تعزیت اور حوصلہ افزائی کی۔ نامساعد حالات میں جب بھی ملاقات ہوئی انہوں نے بھرپور پشتیبانی کا یقین دلایا اور حق بھی ادا کیا۔بین الاقوامی محاذ پر نمائندگی کرتے ہوئے کانفرنسوں میں کشمیر کاز کی ترجمانی پر ہمیشہ اپنے اخبار کے اداریوں میں انہوں نے حوصلہ افزائی کی اور حکومت کو متوجہ کرتے رہے کہ بین الاقوامی سطح پر موافق فضا سے استفادہ کرنے کے لیے پالیسی تشکیل دیں۔ وہ کشمیری قیادت کو بھی ہمیشہ استقامت کا مشورہ دیتے رہے اور سب کا احترام بھی کرتے لیکن سید علی گیلانی کے دوٹوک موقف پر وہ دل سے ان کے گرویدہ تھے اور ان کی رائے کو بے پناہ اہمیت دیتے تھے۔ ان کی جدائی سے دنیا بھر میں کشمیری سوگوار ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ملک و ملت کو ان کا نعم البدل بھی ……