مسئلہ کشمیرہو یا دیگر عالمی مسائل اہل ترکی آزمائش کے ہر مرحلہ میں اہل پاکستان و کشمیر کے شانہ بشانہ رہے ہیں۔زلزلہ اور سیلاب کے متاثرین کی بحالی میں بھی ترکیہ حکومت عوام اور این جی اوز نے ہمیشہ تاریخی برادرانہ کردار ادا کیا۔ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے جب نوے کی دہائی میں مقبوضہ ریاست سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں نوجوان بیس کیمپ میں وارد ہوئے اور بھارتی مظالم کی داستانیں سناتے ہوئے اہل پاکستان اور عالم اسلام کے تعاون کے متقاضی ہوئے تو ترکیہ نے پاکستان کے شانہ بشانہ بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کی ترجمانی کی
حکومت پاکستان معاہدہ تاشقند اور شملہ معاہدہ کے بعد طویل عرصہ تک کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر مسئلہ اجاگر نہ کر سکی‘کیونکہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد پاکستان کو اپنی سلامتی کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ افغان جہاد کی وجہ سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ بالخصوص مسلم دنیا میں اثر و رسوخ وسیع ہوا۔ لیکن باوجوہ بین الاقوامی فورمز پر کشمیر توجہ حاصل نہ کر سکا۔ بہرحال ۰۹۹۱ء میں کشمیری نوجوان جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر اٹھے اور بھارتی استعمار کو ہر محاذ پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اورپاکستانی قوم اور حکومت سے بھرپور پشتیبانی کا تقاضا کیا تو بدقسمتی سے اس وقت بھی پاکستان اندرونی سیاسی عدم استحکام اور سیاسی کشمکش کا شکار تھا۔ اس موقع پر مرد مجاہد قاضی حسین احمد مرحوم آگے بڑھے۔ پہلے انہوں نے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ۵ فروری یوم یکجہتی کشمیر کا اہتمام کیا جو آج تک تسلسل سے منایا جارہاہے اور پھر مسلم دنیا کاضمیر جھنجھوڑنے کے لیے مئی ۰۹۹۱ء میں ایک کل جماعتی پارلیمانی وفدکے ساتھ بھرپور دورہ کیا۔ اس دورے میں کشمیر سے نمائندگی کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔ ایک ماہ پر محیط اس دورے کے دوران میں سربراہان حکومت‘ وزرائے خارجہ‘ ممبران پارلیمنٹ‘ دانش گاہوں اور عوامی سطح پر بھرپور پروگرامات اور ملاقاتوں کا اہتمام ہوا۔ دورہ کا آغاز ترکی سے کیاگیا۔ دورہ کو کامیاب بنانے کے لیے ترکی کے مرد آہن سابق وزیر اعظم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔ ہماری وزارت خارجہ اور متعلقہ سفراء اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں کے اہتمام پر معذور نظر آئے لیکن اربکان صاحب نے ترکی کے صدر‘ وزیر اعظم‘ وزیر خارجہ‘ سپیکر اسمبلی‘ خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین اور قائد حزب اختلاف سمیت تمام اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کا اہتمام کرتے ہوئے انتہائی کامیاب دورہ کرایا۔ انہوں نے خود بھی استقبالیوں کے علاوہ ترکی کے شہر ادانہ (ADANA) میں یوم فتح قسطنطنیہ کی نسبت سے ۹۲ مئی کو منعقدہ عالی شان تقریب منعقد کی جس میں لاکھوں لوگ شریک تھے۔جس میں قاضی صاحب اور وفد کے ارکان کا تاریخی استقبالیہ کیا گیا۔ پورا مجمع پر جوش انداز سے مجاہد قاضی‘ مجاہد اربکان کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یہ اجتماع عملاًکشمیر کانفرنس کی شکل اختیار کرگیا۔ استنبول میں اہل دانش سے بھی بھرپور ملاقاتوں اور استقبالیوں کا اہتمام رہا۔ موجودہ صدر رجب طیب اردگان اس وقت رفاہ پارٹی استنبول کے صدر تھے اور ہمارے جملہ پروگراموں کے میزبان بھی جن کے حسن انتظام سے وقت کا ایک ایک لمحہ طے شدہ اہداف کے مطابق بروئے کار آیا اور ہماری ملاقاتیں بھی مفید رہیں۔ لیکن سب سے اہم ملاقات ترکی کے صدر ترگت اوزال سے رہی جو آدھ گھنٹے کے طے شدہ شیڈول کے بجائے پونے دو گھنٹے تک جاری رہی۔ محترم قاضی صاحب‘ محترم پروفیسر خورشید صاحب اور وفد کے دیگر ارکان نے انہیں بھارتی مظالم اور عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے فورمز پر ترکی سے بھرپور تعاون کا تقاضا کیا۔ بالخصوص چند روز بعد قاہرہ میں مجوزہ او آئی سی اجلاس میں بھارتی مظالم بے نقاب کرتے ہوئے قرار داد کی حمایت کرنے اور دیگر برادر اسلامی ممالک سے اپنے روابط بروئے کار لاتے ہوئے انہیں حمایت پر آمادہ کرنے پر متوجہ کیا۔ صدر اوزال نے ترکیہ کی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلانے کے ساتھ مصر‘ سعودی عرب اور برادر ممالک کے سربراہان سے رابطوں کی یقین دہانی کرائی۔ چنانچہ ان کی کاوشوں اور حکومت پاکستان کے ہوم ورک کے نتیجے میں طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ قاہرہ میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے ایک جامع قراردادجو پاکستان نے پیش کی اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ یوں مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی افق پر نمایاں ہوا۔ اس سلسلے میں بھارت نے مصر کے ساتھ اپنے دو طرفہ دیرینہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے قرارداد رکوانے کی بھرپور کوشش کی جس پر اسے منہ کی کھانا پڑی۔ اس دورہ کے دوران مصر کے وزیر خارجہ سے بھی محترم قاضی صاحب نے قرارداد کے حق میں حمایت کا وعدہ لے لیا۔ یوں بھارت کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا۔ اس کے بعد سے مسلسل او آئی سی سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں میں اہل ترکیہ نے بھرپور پشتیبانی کا حق ادا کیا۔ صدر اردگان نے اقوام متحدہ کا فورم ہو یااسلام آباد اور دہلی کے دورے ہوں ہر موقع پر اس دیرینہ مسۂ کے حل کے لیے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی۔ اس عرصے میں بھارت نے تحریک آزادی کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے اور مسئلہ کشمیر کی پرجوش وکالت سے روکنے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن اللہ کے فضل سے اسے ہر محاذ پر ناکامی ہوئی۔ بھارتی پروپیگنڈا اور ہتھکنڈوں کے توڑ کے لیے ترکی سمیت مسلم دنیا کے ہم خیال ممالک اور اقوام متحدہ سے مسلسل رابطوں کے اہتمام کی ضرورت ہے۔یہ روابط سرکاری سطح اور عوامی سطح پر بھی ہوں۔ اس ہدف کے پیش نظر ترکی پر ہمارا خاص فوکس رہا۔ گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں میں جب بھی موقع ملا وہاں کے حکومتی اور عوامی حلقوں کو تازہ ترین صورت حال سے آگاہی کا اہتمام ہوتا رہا۔ اس دورانیے میں اس مقصد کے لیے راقم کے پچیس دورے ہوئے۔
بحمدللہ اسی عرصہ میں تمام اہم سیاسی شخصیات اور اداروں اور اہل دانش سے ایک ذاتی تعلق اور شناسائی کا رشتہ بھی استوار ہوا جسے بروئے کار لانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ایسا ہی ایک موقع۳ تا۰۱ اگست۳۲۰۲ء بھی دستیاب ہوا جس کا اہتمام تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر برادر راجہ فہیم کیانی نے ترکی کی ایک مقامی این جی او انسانی مدنیت ٹرسٹ کے تعاون سے ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کر کے کیا۔برادرم فہیم کیانی برطانیہ اور یورپ کے تمام اہم دارالحکومتوں میں کہنہ مشق تحریکی رہنما برادر محمد غالب صاحب کی رہنمائی میں ہم خیال اور متحرک نوجوانوں کی ٹیمیں تشکیل دینے میں کامیاب رہے جو تحریک آزادی کے حوالے سے ہر اہم موقع پر نہ صرف کشمیری‘ پاکستانی کمیونٹی کی وساطت سے جلسے‘ جلوسوں اور سیمینارز کے ذریعے کشمیریوں کی ترجمانی کا حق ادا کرتے رہے ہیں بلکہ وہاں کی پارلیمنٹ اور منتخب اداروں میں بھی کشمیر کے حق میں ایک موثر لابی تیار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کے نائب برادر محمود شریف نے اٹلی کے محاذ پر نہایت اہم پیش رفت کی اور کمیونٹی کے غیر متنازعہ رہنما کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ فہیم کیانی نے یورپ کے علاوہ عرب ممالک اور ترکی میں اپنے روابط بڑھائے بالخصوص کویت کے ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے حوالے سے معروف وکلاء اور سکالرز کو مودی کے عزائم بے نقاب کرنے کے لیے اپنا ہم نوا بنایا۔ چنانچہ حالیہ کانفرنس بھی اسی لحاظ سے اہم تھی کہ اس میں کشمیر‘ یورپ‘ ترکی کے علاوہ کویت سے اہم ممبر پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے ترجمان اور علمبردار شریک ہوئے۔
کانفرنس ۴ اگست کو انسانی مدنیت تنظیم کے خوبصورت ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی جس میں آزادکشمیر کے کہنہ مشق رہنما سپیکر قانون ساز اسمبلی جناب چوہدری لطیف اکبر کی قیادت میں وفد نے شرکت کی۔ وفد کے دیگر ارکان میں حریت کانفرنس کے کنوینئر جناب محمود احمد ساغر‘ حریت کے مرکزی رہنما جناب الطاف احمد بٹ اور راقم پر مشتمل یہ وفد ۳ اگست کو استنبول پہنچا۔ ایئر پورٹ پر فہیم کیانی صاحب اور ان کی ٹیم نے استقبال کیا۔ رات پروگرام کی تفصیلات پر مشاورت ہوئی۔ درحقیقت یہ کانفرنس ۵ اگست ۹۱۰۲ء کے بھارتی اقدامات کے تناظر میں تھی جن کی رو سے دفعہ ۰۷۳ اور ۵۳ اے کی منسوخی سے کشمیرکی ریاستی حیثیت کا خاتمہ کر دیا گیا اور ریاست کے مسلم اور کشمیری تشخص کے خاتمہ کے پے در پے اقدامات جاری و ساری ہیں۔ اہل کشمیر عالمی سطح پر اسے یوم استحصال کشمیر کا نام دیتے ہیں۔ یوں ترکیہ کے خلافت عثمانیہ کے دارالحکومت استنبول میں اس کانفرنس کا انعقاد بجائے خو دایک اہم کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور کانفرنس کے میزبان برادر احسن شفیق نے کانفرنس کی غرض و غایت عرض کی بیان کرتے ہوئے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے سپیکر چوہدری لطیف اکبر صاحب نے بھارتی مظالم اور عزائم کا مکمل احاطہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے اہل کشمیرکی جہد مسلسل کی تفصیلات رکھیں۔ بھارتی مظالم کی وجہ سے آزادکشمیر اور مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان میں منقسم خاندانوں میں پائے جانے والے اضطراب سے آگاہ کیا۔ ترکی کی حکومت اور عوام کامسئلہ کشمیر پر مسلسل حمایت کے علاوہ اور زلزلہ زدگان کی بحالی کے حوالے سے کاوشوں پر اظہار تشکر کرتے ہوئے مزید تعاون کا تقاضا کیا۔ کنوینئر آل پارٹیز حریت کانفرنس جناب محمود احمدساغر نے کشمیر میں ہونے والے مظالم پر قائد حریت کی زندگیوں کو لاحق خطرات اور ریاست کی ہیت ترکیبی کے حوالے سے بھارتی عزائم کی تفصیلات رکھتے ہوئے امت مسلمہ اور عالم انسانیت سے بھرپور تعاون کی اپیل کی۔ ان کے پر جوش خطاب نے حاضرین پر خوب اثرات مرتب کیے۔ حریت رہنما الطاف احمد بٹ نے جن کے ایک بھائی اس تحریک میں شہید ہو چکے اور بڑے بھائی اکبر بٹ دیگر حریت قائدین کے ہمراہ پابند سلال ہیں۔ اپنے بچن سے لے کر آج تک مشاہدے کی بنیاد پر جاری بھارتی مظالم کی تفصیلات بیان کیں اور پوری امت کو اہل کشمیر کی پشتیبانی کے لیے ٹھوس کردار اداکرنے پر متوجہ کیا۔ راقم نے منتظمین تحریک کشمیر‘انسانی مدہنیت ٹرسٹ اور مقامی تحریکی میزبان‘ احباب برادر احسن شفیق‘ برادر ڈاکٹر ندیم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ترکی اور کویت کے ممبران پارلیمنٹ اور اہل دانش کاخیر مقدم کیا‘ترکی کی حکومت اور عوام کی طرف ے مسلسل حمایت اور پشتیبانی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر قراردادوں سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کا تقاضا کیا اور یہ واضح کیا کہ جس طرح یوکرائن‘روس جنگ میں مغربی ممالک مالی‘سفارتی اور جنگی سازو سامان کی شکل میں یوکرائن کی بھرپور مدد کر رہے ہیں اسی طرح کشمیریوں کی بھی مدد کی جائے جو غیر ملکی اور غیر انسانی بھارتی تسلط کیخلاف حق مزاحمت استعمال کر رہے ہیں۔ اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیاکہ کشمیر اور فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود عالم اسلام اور بین الاقوامی دنیا لا تعلق ہے۔جارح طاقتوں بھارت اور اسرائیل پر پابندیاں لگانے کے بجائے حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہاہے۔ عالم اسلام کے حکمران غیرت کا مظاہرہ کریں۔ بھارت کے خلاف سفارتی اور معاشی پابندیوں کا اہتمام کریں تو یہ مسائل دنوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی اجاگر کیا کہ مودی کے فاشسٹ فلسفہ کا ہدف کشمیر پاکستان اور بھارتی مسلمان نہیں ہیں بلکہ پورا عالم ا سلام ہے جسے مودی اپنے جارحانہ عزائم کا نشانہ بنا چکا ہے۔ہمیں اپنے مشترکہ دشمن کے عزائم کا ادراک ہونا چاہیے اور مشترکہ حکمت عملی طے کرنا چاہیے۔ پاکستان کے سفیر ڈاکٹر فیصل نے اپنے خطاب میں پاکستان کے اصولی موقف سیاسی سفارتی حمایت کااعادہ کیااور بھارتی مظالم کی مذمت کی۔
دورے کی کامیابی کے لیے برادر عاطف ازبک جو خود ایک بڑے صحافی اور دانشور کی حیثیت سے کئی اداروں سے وابستہ ہیں اپنی تمام مصروفیات ترک کرتے ہوئے ہمہ وقت مصروف رہے۔ بروقت پارلیمنٹ اورپارلیمنٹ سے باہر ملاقاتوں کے اہتمام میں کمال شفقت کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔ اس دورہ کے موقع پر برادر طلحہ شیخ جو ہمیشہ ترکی میں ہماری میزبانی کرتے ہیں کی پاکستان میں مصروفیات کی وجہ سے کمی محسوس ہوئی۔ البتہ ڈاکٹر ندیم صاحب جو پاکستان اورکشمیر کے ہمہ وقت سفیر اور ترجمان ہیں نے بھرپور وقت دیا اور میزبانی کی۔ اسی طرح جماعت کی ٹیم کے نوجوان رہنما احسن شفیق‘ عبداللہ میر اور ان کی ٹیم نے دورے کو کامیاب کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔
ہم اپنے محسن برادر ترگے ایورن کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کشمیر پر ایک تازہ ترانہ تیار کیا جس میں انہوں نے تہاڑ جیل اور دیگر بھارتی جیلوں میں قید قائدین حریت کے نام لے کر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھارتی مظالم کو اجاگر کیا۔ ٹیوٹر اور فیس بک پر لاکھوں کی تعداد میں یہ شیئر ہو چکا ہے بھارت کے دباؤ پر بھارت میں ٹیوٹر پر پابندی لگ چکی ہے کہ وہ یہ ترانہ شیئر نہ کریں۔ وہ قبل ازیں محترم سید علی گیلانی صاحب پر اور کشمیر ی شہداء پر ترانے تیار کر چکے ہیں جو ساری دنیا میں داد حاصل کر چکے ہیں۔ان کے ترانے کے اجراء کے حوالے سے صباح الدین زعیم یونیورسٹی میں کانفرنس ہوئی جسے کامیاب کرنے کے لیے پاکستانی اور کشمیری طلبہ نے اہم کردار ادا کیا۔ترگے ایورن نے میڈیا کے محاذ پر جوشاندار کارنامہ سرانجام دیا ہے اس پر انہیں قومی نشان سے نوازاجانا چاہیے۔
ہم شکر گزار ہیں کہ دورے کو کامیاب بنانے کے لیے وفد کے سربراہ چوہدری لطیف اکبر صاحب سپیکر آزادکشمیر اسمبلی صحت کی خرابی اور اپنی دیگر منصبی مصروفیات کے باوجود شب و روز پوری تندہی سے اہل کشمیر کی ترجمانی کرتے رہے‘ اسی طرح کنوینئر آل پارٹیز حریت کانفرنس جناب محمود احمد ساغر صاحب نے ہر مجلس میں آب بیتی اور کشمیری بیتی داستان ظلم اور ستم سناتے ہوئے کانفرنسوں‘ سیمینارز اور ملاقاتوں میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا۔ برادر الطاف احمد بٹ صاحب نے دورے کی کامیابی کے لیے بہت اہم کردار اداکیا۔ درکار لاجسٹک سپورٹ میں کسی بخل سے کام نہ لیا اور ہر فورم پر اہل کشمیر کی ترجمانی‘ وفدمیں شریک ڈاکٹر مبین شاہ نے بھی کمال مہارت سے ہر موقع پر اپنا استدلال رکھتے ہوئے کشمیر کاز کی حمایت کی فضا ہموا ر کی۔اتاثرات و تجاویز
٭پاکستان کے بعد ترکیہ کشمیر کاز کے حوالے سے محترک اور فعال کردار ادا کرتا رہا ہے حکومتی اور عوامی سطح پر زبردست برادرانہ جذبات موجود ہیں جنہیں قائم رکھنے کے لیے حکومتی اور عوامی سطح پر پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے مسلسل روابط کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
٭بھارت ثقافت اور باہم تجارت کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پرجوش رائے عامہ کو کنفیوژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔بھارت کا دو طرفہ تجارتی حجم دس ارب ڈالر جب کہ پاکستان کا محض ساٹھ کروڑ ڈالر تک ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
٭پاک ترک دفاعی منصوبہ جات میں اشتراک ایک اچھی پیش رفت ہے۔ اس عمل مزید بڑھایا جائے نیز ان روابط کے ذریعے مودی کے فاشسٹ عزائم جو مسلم دنیا کے حوالے زیر کار ہیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔
٭ترک جامعات میں مسلم دنیا کے لاکھوں طلبہ کے وضائف کا اہتمام ہے جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے طلبہ آراستہ ہو رہے ہیں کشمیر بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کے لیے زیادہ سے زیادہ وظائف حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت نے جن کشمیری طلبہ کے پاسپورٹ منسوخ کیے ہیں یا کرنے کا پروگرام ہے ایسے طلبہ کے لیے ترکیہ کی شہریت کی حصول کی کوشش کی جائے یا انہیں آزاد کشمیر کا شہری قرار دے کر پاسپورٹ فراہم کیے جائیں تا کہ ان کا تعلیمی حرج نہ ہو اور وہ اپنا کیئرئر مکمل کر سکیں۔
٭پارلیمان میں فرینڈز آف کشمیر فورم قائم کرنے کے لیے فالو اپ کا اہتمام کیا جائے اور مختلف پارلیمانی گروپ لیڈرز بالخصوص جن سے ہماری ملاقاتیں ہو چکی ہیں سپیکرآزادکشمیر اسمبلی آزاد کشمیر کے دورے پر مدعو کریں مہاجرین کیمپس اور لائن آف کنٹرول کا دورہ کراتے ہوئے باہم اشتراک کی مزید حکمت عملی طے کی جائے۔
٭کشمیری Diasporaکے ساتھ ترک Diasporaکا یورپ میں اشتراک قائم کیاجائے جس کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے اس کے اہتمام کے لیے فالو اپ کیا جائے۔
٭کشمیر کاز کے حوالے سے متحرک اہم شخصیات اور اداروں کو پاکستان کے قومی سول اعزازات سے نوازاجائے‘ آزادکشمیر کی حکومت بھی اپنی سطح پر اس کا اہتمام کرے مثلاً
ترگے ایورن‘ مشہور تھنک ٹھینک ایسام کے چیئرمین رجائے کوتان یا ان کا نمائندہ‘ اے کے پارٹی‘ سعادت پارٹی‘رفاہ پارٹی وغیرہ کے رہنما اور اہم ممبران پارلیمنٹ‘ صحافیوں میں محمود اوغلو‘ عاطف ازبک‘ مصطفی کمال کایا وغیرہ۔
٭ترکیہ جیسے ملک میں سفیر اور عملہ مستعد اور لائق افراد پر مشتمل ہو‘ حالیہ کانفرنس میں سفیر کا رویہ بڑا مایوس کن تھا۔اس سے لازماً باز پرس ہونا چاہیے۔
٭ترک این جی اوز جنہوں نے زلزلہ میں تعاون کیا ہے انہیں بھی قومی اعزازات سے نوازا جائے مثلاً جانسو‘ IHH‘ یادرم الی‘TIKAترک ہال احمر وغیرہ
٭اول روز سے اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لیے ترکی کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر نجم الدین اربکان ان کے ادروں اورجماعتوں نے اہم کردار اداکیا ہے اگرچہ وہ وفات پا چکے ہیں لیکن انہیں اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا جائے۔
٭حالات کا تقاضا ہے کہ آزادکشمیر کی حکومت اور اسمبلی حریت کانفرنس کے اشتراک کے ساتھ بھرپور سفارتی کردار ادا کرے۔ اس سلسلے میں کوئی نظام کار طے کیا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بیس کیمپ کی حکومت کو عیاشی کا اڈہ بنانے کی بجائے تحریک آزادی کشمیر کا پشتیبان بنایا جائے اور اس کے جملہ وسائل کاز کے لیے وقف کیے جائیں۔
٭نوے کی دہائی میں او آئی سی کا کشمیر رابطہ گروپ قائم ہوا اس کے علاوہ کشمیر ریلیف فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ ہوا اور ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیاگیا۔ بھارت کی طرف سے عدم تعاون کی صورت میں سفارتی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنے کے لیے بھارت کو سخت پیغام دیاگیا۔ ترک ممبران پارلیمنٹ سے تقاضا کیاگیا کہ او آئی سی کی اہم قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔اس سلسلے میں پاکستانی وزارت خارجہ کو بھرپور فالو اپ کرنا چاہیے۔قبل ازیں بھی ایسے دورہ جات‘ مشاہدات‘ تاثرات اور تجاویز تحریری شکل میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی اور انفرادی سطح پر بھی اہم حکومتی ذمہ داران اور پالیسی ساز اداروں تک پہنچائی جاتی رہی ہیں۔اسی طرح سے ایک نہایت اہم دورہ سابق سپیکر قانون سازاسمبلی شاہ غلام قادر صاحب کے ہمراہ بھی ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ کیا تھا راقم بھی اس پارلیمانی وفد کا حصہ تھا۔اس موقع پر بھی حکومتی اور پارلیمان کی سطح پر بڑی مفید ملاقاتیں رہیں۔اس کے علاوہ سابق صدر سردار مسعود خان صاحب نے بھی ترکیہ کے کئی دورے کیے۔مجھے ان کے ہمراہ بھی اہم کانفرنسوں اور ملاقاتوں کا موقع ملتا رہا۔علاوہ ازیں ذاتی حیثیت سے بھی دورے ہوئے اور مشاہدات کی روشنی میں تجاویز اور سفارشات پیش کی جاتی رہیں۔لیکن حکومتی سطح پر ان تجاویز اور سفارشات پر کماحقہ عمل درآمد نہ ہو سکا۔امید ہے کہ دورے کی حالیہ سفارشات پر ہمارے حکمران وزارت خارجہ اور دیگر پالیسی ساز حلقے توجہ دیتے ہوئے اقدامات کا اہتمام کریں گے۔ہمیں یہ دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی کہ ترکیہ کے ممبران پارلیمنٹ اور قومی سیاسی رہنما مسئلہ کشمیر‘ پاک بھارت تعلقات اور عالم اسلام کے مسائل کے حوالے سے ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی نسبت بہت بہتر ادراک رکھتے ہیں اور اپنا کردار بھی ادا کرنا چاہتے ہیں۔ترکی اور مسلم دنیا کے باقی ہم خیال ممالک اور معاشروں کو اپنی پشتیبانی اور ترجمانی کے لیے پرجوش انداز میں تیار کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔جس پر عدم توجہی کی وجہ سے بھارت کو نفوذ کو موقع مل رہا ہے جو مستقبل میں ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔امید ہے کہ ادراک کرتے ہوئے ہر سطح پر ایک موثر حکمت عملی طے کی جائے گی۔