Dr Muhammad Mushtaq Khan

جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ نظریات کی حامل ہیں ان کو وقتی اور جذباتی نعروں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا:ڈاکٹر محمد مشتاق خان

اسلام آباد: جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر گلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے پاکستان بنے سے پہلے ہی الحاق پاکستان کی قرارداد پاس کر کے پاکستان سے وابستہ کر لیا تھا،جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ نظریات کی حامل ہیں ان کو وقتی اور جذباتی نعروں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا،جماعت اسلامی نے نظریات کے مورچے میں ڈٹ کر یہ ثابت کیا ہے کہ نظریات ہی غالب رہتے ہیں مفادات جذباتی نعرے وقتی ہیں لیکن جو لوگ اور جو جماعتیں نظریات پر قائم رہتی ہیں وہی باقی رہتی ہیں اسلامی جمعیت طلبہ ریاست کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہے جو نوجوانوں کی سیرت و کردار کی تعمیر کر کے ان کو معاشرے کا مفید شہری بناتی ہے اسلامی جمعیت طلبہ نے مغربی یلغار کے مقابلے میں اسلامی کلچر عام کیا نوجوانوں کو قران و سنت سے وابستہ کیا،نوجوانوں کوبے راہ روی سے نکال کر مقصد زندگی سے آشناکیا، اسلامی جمعیت طلبہ نے بنگلہ دیش سے لے کر کشمیر تک قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی تحریک آزادی کشمیر کو اگر دیکھا جائے تو یہ بھی اسلامی تحریک اور اسلامی جمعیت طلبہ تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا ہی کارنامہ ہے پوری تحریک کے اندر جو نوجوان قربانیاں ہوئے اور جو نوجوان اس راستے پر ڈٹے ہوئے ہیں ان کا تعلق اسلامی جمیعت طلبہ اور اسلامی نظریات سے تھا اور ہے،نظریاتی لوگوں کے علاوہ سارے لوگوں نے پسپائی اختیار کر لی کمپرومائز کر لیا لیکن اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی نے جواہداف طے کیے تھے اس کو پورا کررہی ہے اور اس پر ڈٹ ہوئی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے تذکیر کیمپ میں شریک شریک طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود خان ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر گلگت بلتستان احتشام سمیت دیگر نے خطاب کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور نظام کی تبدیلی ہمارا ایجنڈا ہے نوجوان ہراول دستے کا کردار ادا کریں کشمیر کی آزادی کے لیے ہمارے 6 لاکھ افراد قربان ہوئے ہیں تحریک آزادی کشمیر سے بے وفائی کرنے والے عبرت کا نشان بنے ہیں جماعت اسلامی صبح آزادی تک مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے  شانہ بشانہ رہے گی اسلامی نظام کے نفاذ کے بغیر ہمارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر