Raja Zakir Khan

کل جماعتی کشمیرکانفرنس اور ہڑتال کی کال:راجہ ذاکر خان

مملکت خدا داد پاکستان کو جب بھی دشمنوں نے گھیرا تو جماعت اسلامی نے اپنے سیاسی دائرے سے نکل کر تمام مکاتب فکر کو ایک جگہ جمع کیا اورقومی سوچ اور قومی موقف اختیار کروایا تاکہ دشمنوں کے عزائم کو نیست نابود کیا جاسکے ،جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر نے بھی جماعت اسلامی پاکستان کی روشن اور درخشندہ تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے وہی کردار اد کیا ، جو جماعت اسلامی پاکستان اداکرتی رہی ہے ،تحریک آزادی کشمیر کو جب بھی خطرات لاحق ہوئے جماعت اسلامی آزادکشمیرنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوںکو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور مشترکہ موقف اور حکمت عملی اختیار کروانے پر متفق کیا،، آج پھر حکومت پاکستان کی جانب سے جب بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرارد ینے کا فیصلہ کیا تو جماعت اسلامی آزاد کشمیرکے امیر عبدالرشید ترابی نے تمام سیاسی جماعتوںا ورسول سوسائٹی کے نمائندوں کو جمع کیا اور مشترکہ موقف اختیا ر کروایا،جماعت اسلامی کے زیر اہتمام کل جماعتی کشمیر کانفرنس میںبھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے سے تحریک آزادی کشمیر پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیاگیا اور مندرجہ ذیل نکات پر اتفاق کیا گیا۔کانفرنس پاکستانی عوام ‘ قائدین‘ پارلیمنٹ اور کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے فیصلے کو پاکستان کی مقامی صنعت کے علاوہ ملک کی سالمیت ‘ دو قومی نظریہ اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے انتہائی خطرناک قررار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتی ہے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔کانفرنس 25نومبر بروز جمعتہ المبارک کو اس خطرناک فیصلے کے خلاف آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان میں ہڑتال کی اپیل کرتی ہے تا کہ عوامی سطح پر اس فیصلے کو مسترد کیا جا ئے۔کانفرنس کی نظر میں جس طرح برطانیہ نے تجارت کے نام پر بر صغیر پر تسلط جمایا اور ساڑھے تین سو سال تک یہاں کے عوام کے سینوں پر مونگ دلتا رہا ۔ بھارت بھی اپنی فوجی قوت ‘ مستحکم معیشت اور حجم کی بنیاد پر ” اکھنڈ بھارت“ کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل چاہتا ہے ۔ اس لیے بھارت کوMFNکا درجہ دینا اس کے خانوں میں رنگ بھرنے کے مترادف سمجھتی ہے ۔کانفرنس کی رائے میں ہزار سال تک کشمیر کے لیے جنگ کرنے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی کے دور میں پاکستان کو دو لخت کرنے والے‘ سیاچن میں جارحیت کے ذریعے قبضہ کرنے والے ‘پاکستان کی شہ رگ کو 64برس سے دبوچے رکھنے والے ‘ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے مملکت خدادا پاکستان کو بنجر بنانے اور سیلاب کی نذر کرنے والے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا افسوس ناک ہی نہیں انتہائی تاریخی المیہ بھی ہے ۔کانفرنس حکومت کی طرف سے افغانستان میں قائم ”را“ کے مراکز کے ذریعے بلوچستان ‘ کراچی ‘سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے میں بھارت کے ملوث ہونے کے اعلانات اور دوسری جانب اسے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے فیصلے کو حکومت کے قول و عمل میں واضح تضاد قرار دیتی ہے اور حکمرانوں کے ان دلائل کو بھی مسترد کرتی ہے کہ اس فیصلے کا مسئلہ کشمیر پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان معاشی ‘ سیاسی ‘ نظریاتی ہر حیثیت سے خسارے میں رہے گا اور بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف کو پذیرائی ملے گی اورجموں وکشمیر کے سرفروشوں کے لیے انتہائی منفی پیغام ہے جو بھارتی قابض فوج کی بندوقوں کے سائے میں 14اگست کو یوم پاکستان اور 15اگست کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
کانفرنس کا احساس ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دلوانے میں اس کے ” اسٹریٹیجک پارٹنر“ امریکہ نے سب سے زیادہ دلچسپی لی ہے ‘ کیونکہ وہ بھارت کو علاقائی سے بڑھ کر ایک عالمی طاقت بنانے کا خواہش مند ہے اور اسے خطے کی بالا دست قوت بنانے کے لیے جدید اسلحہ اور نیو کلیئر ٹیکنالوجی سے لیس کر رہا ہے ۔کانفرنس امریکہ سمیت بھارت کے تمام سرپرستوں کو باور کرانا چاہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر نہ دیرپا تجارتی تعلقات قائم رہ سکتے ہیں اور نہ ہی امن قائم ہو سکتا ہے ۔ اس لیے امن اور جمہوریت کے دعوے دار تمام ممالک اور بین الاقوامی ادارے خطے اور عالمی امن کے استحکام کے لیے بھارتی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے کا اہتمام کریں اور مسئلہ کشمیر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔کانفرنس پاکستان عوام ‘ سیاسی ‘ سماجی ‘ مذہبی قائدین اور تنظیموں پارلیمنٹ کے ممبران ‘ دانشوروں ‘ صحافیوں اور وکلاءسے اپیل کرتی ہے کہ وہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے خطرناک مضمرات کا ادراک کرتے ہوئے اسے مسترد کر کے حکومت کو مجبور کریں کہ وہ اس فیصلے سے نہ صرف رجوع کر ے‘ بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور پاکستان کے استحکام کے خلاف اس کی ریشہ دوانیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں اور رائے عامہ کو متحرک کرنے کا اہتمام کرے اور مقبوضہ ریاست میں جاری تحریک آزادی کی تحریک کی بھر پور پشتیبانی کرے ‘ نیز بھارت کو یہ باور کرائے کہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق ‘حق خود ارادیت دلوائے بغیر نہ بھارت سے دوستی ہو سکتی ہے اور نہ تجارتی تعلقات میں وسعت اختیار کی جا سکتی ہے۔
٭ تمام جماعتوں کے سربراہان اور حریت کانفرنس کے قائدین پر مشتمل وفود بنائے جائیں جو پاکستان کے سیاسی اور حکومتی ذمہ داران سے ملاقاتیں کر کے کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے سے ان کو آگاہ کریں۔کانفرنس بھارتی وزیر اعظم کے اس دعوے پر بھی تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ پاک فوج بھی اس پراسیس میں شامل ہے ۔ دفاعی اداروں کی طرف سے دو ٹوک وضاحت نہ ہونے کے نتیجے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں جن کے ازالے کے لیے پاک فوج کی طرف سے دو ٹوک وضاحت از بس ضروری ہے ۔

مرکزی دفتر

رابطہ دفتر