5فروری یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز جناب قاضی حسین احمد ؒ کی اپیل پر پہلی مرتبہ1990ء میں ایسے عالم میں منایا گیا جب بھارتی مظالم سے ستائے ہوئے ہزاروں نوجوان اہل پاکستان سے بے پناہ توقعات کے ساتھ آزادکشمیر میں وارد ہوئے،افغان جہاد کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان آزاد ہوا بلکہ سوویت یونین اپنے نظریے اور استعماری قوت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا،یوں دیوار برلن گری جرمنی متحد ہوا۔مشرقی یورپ سمیت سنٹرل ایشیا کی سات مسلم ریاستیں آزاد ہوئیں،اس پس منظر میں کشمیری نوجوانوں نے بھارتی استعمار کو چیلنج کیا۔لاکھوں کی تعداد میں مارچ کرتے ہوئے سری نگر میں اقوام متحدہ کے دفتر پہنچے اوراس بین الاقوامی ادارے کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا لیکن یہ تمام کاوشیں بندوق کی نوک پر بھارتی افواج نے دبانے کی کوشش کی تو یہی نوجوان علم جہاد بلند کرنے پر مجبور ہوئے،جیسے دنیا کی ہر آزادی کی تحریک کسی بیس کیمپ کی پشتیبانی ہی سے منزل حاصل کرتی ہے کشمیری نوجوانوں نے بھی اپنے فکری بیس کیمپ کا رخ اختیار کیا لیکن بیس کیمپ آزادکشمیر ہو یا پاکستان اتنے بڑے انقلاب کو سنبھالنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ تھا،افغان جہاد کے پشتیبان جنرل ضیا ء الحق اپنی ساری سینئر ٹیم کے ساتھ شہید ہو چکے تھے۔افغانستان کی آزادی کے بعد کشمیر کی آزادی کا کوئی خواب یا منصوبہ بھی ان کے ساتھ دفن ہو چکا تھا۔پاکستان میں مرکزمیں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی،جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں تو میاں نواز شریف پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر کے طور پر قومی سطح پر قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کررہے تھے۔بد قسمتی سے سیاسی سطح پر سخت تناؤ کا ماحول تھا۔ دفاعی اداروں اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے درمیان شدید بے اعتمادی کا ماحول تھا،جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ISIکو ایک ریٹائرڈ جنرل کے سپرد کرنے کے فیصلے نے مزید اضافہ کردیاتھا۔ان حالات میں جناب قاضی حسین احمد ؒ نے ہماری دعوت پر پہلے مرحلے پر پورے آزادکشمیر کا دورہ کیا،پرجوش مجاہدین اور مہاجرین کا استقبال کیا۔ان کے جذبات اور توقعات سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے اہل پاکستان کو کشمیریوں کا پشتیبان بنانے کے لیے 5جنوری کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے پوری قوم سے 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کی اپیل کی۔اس سلسلے میں انہوں نے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی قیادت سے روابط کیے۔یوں پہلے میاں نواز شریف صاحب نے اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے قومی سطح پر اس کی توثیق کی اورپہلی مرتبہ قومی سطح پر ایک تاریخ ساز یکجہتی کا مظاہرہ ہوا۔پورے ملک میں جلسے اورریلیاں ہوئیں جن میں قومی قائدین نے خطابات کے ذریعے کشمیریوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے مظفرآباد کے بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے موثر انداز میں اہل پاکستان کی نمائندگی کی۔عوامی دباؤ کی اس فضا میں حکومت پاکستان اور اس کے ادارے کشمیریوں کی عملی پشتیبانی پر مجبور ہوئے۔اس وقت سے لے کر آج تک ہر سال نہ صرف پاکستان،آزادکشمیر و گلگت بلتستان بلکہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے کشمیری اور پاکستانی یکجہتی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست میں برسرپیکار حریت پسندوں کو یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں اورپاکستان کا بچہ بچہ ان کی پشت پر ہے۔یوم یکجہتی کشمیر جہاں کشمیریوں کے حوصلے بلند کرنے کا ذریعہ بنتاہے،وہیں پاکستان میں قومی سطح پر صف بندی کی تجدید ہوتی ہے،نیز بین الاقوامی سطح پر بھی پیغام جاتا ہے کہ کشمیر اور پاکستان لازوال رشتوں میں منسلک ہیں،انہیں جدا نہیں کیا جاسکتا۔
آج یوم یکجہتی کشمیر اس عالم میں منایا جارہا ہے کہ مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کی انتہا ہو چکی ہے۔نریندر مودی کی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے در پے ہے،ریاست کے مسلم تشخص کو بدلنے کے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔آپریشن فلش آوٹ کے نام سے ایک ایک مجاہد اور حریت پسندوں کو ختم کر نے کی تدبیر کی گئی۔پیلٹ گنز کا مجرمانہ استعمال کیا گیاجس کے نتیجے میں ہزاروں نوجوان ہزاروں بینائی سے محروم ہوئے۔سردی کی اس شدت میں جہاں درجہ حرارت نقطہ انجمادسے دس پندرہ درجہ نیچے گرچکا ہے،رات کو بستیوں کی بستیاں اجاڑ دی جاتی ہیں۔خواتین اوربچوں کو کھلے آسمان تلے بٹھایا جاتا ہے اورگھر وں میں لوٹ مار،باغات کاٹے جارہے ہیں اور فصلیں جلائی جارہی ہیں،نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے،نیزحریت قائدین کی کردار کشی کے لیے NIAکے ذریعے ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔90سالہ بزرگ قائد حریت سید علی گیلانی گزشتہ 10برس سے گھر پر نظر بند ہیں۔انہیں نماز جمعہ اور شہداء کے جنازوں تک میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔شبیر احمد شاہ،آسیہ اندرابی، مسرت عالم اور دیگر قائدین حریت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔سید صلاح الدین صاحب کے دو بیٹے اور قریبی عزیزٹارچر سیلوں میں بدترین تشدد کا شکار ہیں۔میرواعظ عمرفاروق کی تاریخی جامع مسجد کئی کئی ماہ مقفل کردی جاتی ہے اور وہ بھی اکثر نظر بند رہتے ہیں۔یاسین ملک کے ساتھ بھی گرفتاری اور رہائی کی آنکھ مچولی جاری ہے لیکن اس سارے جبر وتشدد کے باوجود کشمیری سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،بالخصوص برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد نوجوانوں کی برپا ہونے والی لہر حریت و آزادی کے مقابلے میں تمام بھارتی استعماری ہتھکنڈے ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ڈاکٹر حنان وانی شہید جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پروفیشنلز اپنے شاندار کئیریرقربان کرتے ہوئے تحریک کا حصہ بن رہے ہیں اور اس لہر کی شدت کو یشوت سہنا جیسے سینئر بھارتی سیاستدان ناقابل تسخیر سمجھتے ہوئے پکار اٹھے ہیں کہ کشمیر ہم کھو چکے ہیں بین الاقوامی انسانی حقو ق کمیشن کی جامع رپورٹ(جس کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی توثیق کی) نے بھارت کا مکروہ اور ظالمانہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ان حالات میں اہل کشمیر کی بجا طور پر توقعات ہیں کہ حکومت پاکستان ان کی ترجمانی کا حق ادا کرے،بالخصوص عمران خان کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت سے وہ غیر روایتی اقدامات کی توقع رکھتے ہیں،پالیسی کی حد تک دو ممالک کے درمیان کشمیر کو بنیادی تنازعہ قرار دیناوزیر اعظم کا اچھا بیانیہ ہے لیکن محض بیانات سے کشمیر آزاد نہیں ہو گا، اس کے لیے دستیاب وسائل میں عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔خوش قسمتی سے امریکہ کی افغانستان سے پسپائی اور طالبان اور پاکستان کی فتح کے بعد بدلتے ہوئے منظر نامے میں اہل کشمیر کے حوصلے مزید بلند ہوئے ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا استعمار طاقت اور ٹیکنالوجی کے زور پر کسی قوم کے جذبہ آزادی کو سلب نہیں کرسکتا۔ان حالات میں عملی یکجہتی کے ذیل تقاضے ہوسکتے ہیں جس کا اہتمام ہونا چاہیے:۔
٭ وزیر اعظم پاکستان اولین فرصت میں حریت اور کشمیری قیادت کی مشاورت سے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دینے کا اہتمام کریں اور اس سلسلے میں ایک کانفرنس کا انعقاد کریں۔
٭ مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جائے (جس کے لیے 23مارچ اچھا موقع ہو سکتا ہے۔)
٭ اسلام آباد/مظفرآباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا جائے جس میں دنیا بھر کے ممبران پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو مدعو کیا جائے۔
٭ OICکا خصوصی سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے جیسا کہ فلسطین کے مسئلہ پر ترکی کی میزبانی میں گزشتہ عرصہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔
٭ سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کی صورت میں مسئلہ زیر بحث لایا جائے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب نمبر7کے تحت بھارت کے خلاف سفارتی اور اقتصادی پابندیاں لگانے کی تحریک کی جائے۔
٭ شملہ معاہدہ اگر کسی طور رکاوٹ ہے تو اس سے دستبرداری اختیار کی جائے جس کی بھارت پہلے بھی دھجیاں اڑا چکا ہے۔
٭ ریاست کے آزاد خطوں آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کو آئینی اور وسائل کے اعتبار سے با اختیار بناتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کا حقیقی بیس کیمپ بنایا جائے۔
٭ افغانستان سے امریکیوں کے انخلاء کے موقع پر کشمیر کے بارے میں امریکہ اور بین الاقوامی برادری کی حمایت کے حصول کو شرط قراردیاجائے۔