تازہ خبریں

پروفیسر الیف الدین ترابی …… گراں قدر خدمات
تحریر :راجہ بشیرعثمانی

logo-raja-bashir-usmani


تعلیم سے فراغت کے بعد راقم کو محترم پروفیسر الیف الدین ترابی صاحب کی سرپرستی میں قائم کشمیر انفارمیشن سنٹر اسلام آباد میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ وہ دور تھا جب تحریک آزادی کشمیرمیں شدت آ چکی تھی ۔ اس تحریک کے خلاف جاری منفی پروپیگنڈے کے توڑ اور تحریک آزادی کی سمت درست رکھنے کے لیے بلا شبہ پروفیسر ترابی کی سربراہی میں قائم کشمیر انفارمیشن سنٹرکا گراں قدر کردار ہے ۔ راقم کی خوش بختی ہے کہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے انتہائی مخلص محنتی اور شفیق شخصیت کے زیر سایہ کام کرنے کا موقع ملا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کشمیر انفارمیشن سنٹر کی ریسرچ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر پروفیسر صاحب کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس کرتی ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر کے جملہ پہلوؤں پر باریک بینی سے غور و خوض کیا جاتا ۔ابلاغی محاذ پر تحریک آزادی کے مثبت اور تعمیری پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ۔ اس وقت سوائے پی ٹی وی کے الیکٹرانک میڈیا موجود نہیں تھا۔ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ ( پی ٹی وی ) کو بھی تحریک آزاادی کشمیر کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کے لیے پروفیسر صاحب کی خدمات نا قابل فراموش ہیں ۔ ہمیں پروفیسر صاحب روزانہ کی بنیاد پر مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے کی ہدایت کرتے اور پھر ہماری تحریروں کی نوک پلک درست کرتے ۔
راقم اس بات کا عینی شاہد ہے کہ پروفیسر ترابی تحریک آزادی کو ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے ۔ ان کی زندگی کا زیادہ حصہ تحریک آزادی کے ابلاغی محاذ پر خدمات سرانجام دیتے ہوئے گزرا ۔ پروفیسر ترابی کی رہنمائی میں تحریک آزادی کشمیر کے ابلاغی محاذ پر کام کے نتیجے میں اندرون ملک ہی نہیں بیرونی دنیا اور بطور خاص عرب ممالک میں مسئلہ کشمیر حقیقی تناظر میں اجاگر ہوا ۔ پروفیسر صاحب نے جہاں ایک طرف پاکستان کے میڈیا کے ذریعے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا وہاں ساتھ ہی ساتھ عرب دنیا میں عربی مجلہ ''کشمیر المسلمہ ''کے ذریعے عرب دنیا میں مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا ۔اس میں پروفیسر صاحب کا نمایاں کردار ہے جسے سب تسلیم کرتے ہیں ۔ عرب دنیا میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک معتبر نام پروفیسر ترابی صاحب کا ہے ۔ پروفیسر ترابی کی وساطت سے ہی راقم کو ریاض یونیورسٹی سعودی عرب میں داخلہ ملا ۔جب میرا اور پروفیسر صاحب کے فرزند ارجمند جاوید ترابی کا ریاض یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو ہم دونوں کے ساتھ پروفیسر صاحب نے سعودی عرب روانگی سے قبل ایک طویل نشست کی اور ہدایت کی کہ آپ لوگ وہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کریں گے۔ اس لیے کہ آپ کو بطور طالب علم پورے سعودی عرب میں جانے کا موقع ملے گا اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ سے ملاقاتیں کر کے انہیں تحریک آزادی سے آگاہ کریں۔آپ نے ہر فورم پر تحریک کی بات کرنی ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ جب تک سعودی عرب میں رہے پروفیسر صاحب کی ہدایت کی روشنی میں ہم اپنا کردار ادا کرتے رہے ۔
ورلڈ اسمبلی اور مسلم یوتھ سے وابستہ ہو کر تحریک آزادی کشمیر کے لیے جو ہم سے ہو سکا ہم نے کیا ۔ اس عرصے میں پروفیسر صاحب خطوط لکھتے جو آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔ ہمارے سعودی عرب میں قیام کے دوران پروفیسر صاحب نے متعدد مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا ۔ ہماری کارکردگی کا جائزہ لیا ان کا یہ خاصا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے کارکنوں اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ چنانچہ سعودی عرب میں ہمارے کام اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ہماری بہت حوصلہ افزائی کی ۔ اسی عرصے میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ المکرمہ تشریف لائے ۔جہاں جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی اور نائب امیر جماعت پروفیسر الیف الدین ترابی پہلے سے پہلے سے وہاں موجود تھے۔راقم یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک وفد کے ہمراہ ریاض سے بطور خاص حریت چیئرمین سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کے لیے گیا۔گیلانی صاحب سے طویل ملاقات کے ساتھ ساتھ ان کا خصوصی انٹرویو بھی کیا۔جسے پروفیسر صاحب کی راہنمائی میں پاکستان کے پرنٹ میڈیا کو ارسال کیاگیا جو اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ پروفیسر صاحب نے اس موقع پر ہماری بہت حوصلہ افزائی کی۔ وہ ایک عرصے سے مختلف عوارض میں مبتلا چلے آ رہے تھے ۔ مختلف بیماریوں نے ان کی صحت کو بری طرح متاثر کر دیا تھا ۔ بیماری کے باوجود وہ شب و روز تحریک آزادی کے ابلاغی محاذ پر مصروف جہد رہے ۔ ان کی ڈکشنری میں تھکاوٹ کا لفظ نہیں تھا ۔ وہ گھنٹوں لکھنے کا کام کرتے اور وہ اس کام کو کار خیر اور ثواب سمجھ کر سر انجام دیتے تھے۔
وہ تحریک آزادی کشمیر کے خلاف بھارتی سازشوں کے توڑ کے لیے زندگی کی آخری سانوں تک مصروف رہے ۔ ان کی تحریروں میں ایک سچے 'کھرے مسلمان اور پاکستانی کا درد نمایاں نظر آتا ہے ۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ اسلام آزادی اور پاکستان ہماری منزل ہے۔ تحریک آزادی کشمیرکے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کو دوٹوک جواب دیا کرتے تھے کہ تحریک آزادی کشمیر کی منزل اسلام اور پاکستان ہے ۔ اس تحریک کو اسلام اور پاکستان سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی تحریروں نے تحریک آزادی کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے منہ بند کر دیے ۔ پروفیسر صاحب نے درجنوں کتب تحریک آزادی کشمیرکے حوالے سے تحریر کی ہیں ۔ متعدد کتب عربی زبان میں شائع ہوئی ہیں۔ جو عرب دنیا میں بہت معروف ہیں ۔ پروفیسر صاحب کے زیر سایہ کشمیر انفارمیشن میں کام کرنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی ٹیم آج بھی میڈیا کے محاذ پر اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔جس مشن کا آغاز پروفیسر صاحب نے کیا تھا اور جس کے لیے شبانہ روز مصروف جدوجہد رہے وہ مشن آج بھی جاری ہے اور منزل کے حصول تک جاری رہے گا ۔ پروفیسر ترابی اس دارفانی سے اگرچہ کوچ کر چکے ہیں ۔ لیکن ان کا مشن جاری و ساری ہے اور اپنی مسلسل محنت و جدوجہد سے آزادی کی جس شمع کو روشن کیا تھا وہ شمع پوری آب و تاب کے ساتھ آج بھی روشن ہے ۔ پروفیسر ترابی نے خون کے دیے راہ آزادی میں روشن کیے ۔ ان کی عظیم جدوجہد بے مثال قربانیوں کے نتیجے میں تحریک آزادی کو نئے مجاہد نئے غازی اور نئے کارکن ملے ہیں ۔ انہیں جو زندگی اﷲ تعالیٰ نے عطا کی ۔ اس کا ایک ایک لمحہ اقامت دین اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے صرف کیا ۔ اﷲ تعالیٰ مرحوم کی خدمات قبول فرمائے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب کرے ۔ آمین ۔
کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا
مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا

 

Add comment


Security code
Refresh