تازہ خبریں

library

Islamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic Library
 
spinner

عیسائی مذہب اور کرسمس

خواجہ محمد سلیمان مچھیاڑی۔برمنگھم


عیسائی مذہب کے پیروکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یوم ولادت منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں جسے عام عرف زبان میں کرسمس کہا جاتا ہے ۔ عیسائیوں کے ہاں تاریخ ولات پر اختلاف لیکن اکثریت25دسمبر کو ان کا جنم دن مناتے ہیں ۔ویسے تو عیسائیوں کے دو بڑے فرقے ہیں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ لیکن ان کے اندر بھی مختلف گروپ ہیں جن کے ہاں عقیدے کا بھی اختلاف اور عیسائیت کو عملی زندگی میں کس طرح اپنا یا جائے اس پربھی اختلاف ہے۔رومن کیتھولک فرقے کو روم سے یورپ اور چرچز کنٹرول کرتے ہیں پروٹسٹنٹ فرقے کے چرچ کچھ آزاد ہیں اور کچھ چرچ آف انگلینڈکے زیر اہتمام کام کر رہے ہیں ۔ عیسائی مذہب کے ماننے والے کرسمس مختلف انداز میں مناتے ہیں ۔ عام آدمی زیادہ تر گھر میں کرسمس ٹری لگائے گا اور ایک دوسرے کو کارڈ بھیجیں گے اور فیملی کے ممبران ایک دوسرے کو گفٹ دیتے ہیں اور کرسمس ڈنر کا اہتمام ہوگا اور خاص کر روسٹر کی ڈش ضرور تیار کی جائے گی کیونکہ اس کے بغیر کرسمس کا تصور ادھورا ہے یہ عام عیسائی کی بات ہے لیکن جو لوگ عیسائیت کو عملی زندگی میں اپنائے ہوئے ہیں جنہیں ہم بنیاد پرست کہہ سکتے ہیں وہ اوپر والے سارے کام کریں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چرچ سروس میں جائیںگے جہاں پر وہ حمد و نعت کریں گے اور عیسائی مبلغ کی وعظ و نصیحت بھی سنیںگے اور غریبوںمیں جب کھانا تقسیم کرنے کابھی اہتمام ہوگا۔ عیسائی مذہب کے ماننے والوں کا یہ وعدہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو کار ہیں اور ان کے امتی ہیں لیکن جب ان کے عقیدے کی طرف دیکھا جائے تووہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم کے بالکل بر خلاف ہے کیونکہ سارے ابنیائے کرام نے انسانوں کی توحید کی تعلیم دی ہے ۔ بے شک زمانے کے حوالے سے شریفین مختلف رہی ہیں لیکن کسی نبی نے یہ نہیں کہا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے یا خود خدا ہیں یہ بالکل غلط عقیدہ ہے اور خود ساختہ ہے اگر یہ کہا جائے کہ خدا خود انسان کے روپ اپناتاہے تو پھر نبوت اور رسالت کی ضرورت ہی نہیں انہی عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ نے اپنی جان کی قربانی دے کر انسانوںکے گناہوں کا کفارہ ادا کیا ہے گناہوں کا کفارہ تو اس وقت ہوتا ہے جب آدمی گناہ کرتا ہے تو خود توبہ استغفار کرے مثلاً اﷲ تعالیٰ کے انسان پر حق ہیں اگرانسان وہ ادا نہیں کرتا تو گناہ گار ہے اب اس کے گناہ اسی وقت معاف ہوں گے جب وہ اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگے گا ۔ اسی طرح اگر آدمی دوسرے انسانوں کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ گناہ گار ہے ۔ اب اس کے گناہ اسی وقت معاف ہوں گے جب وہ انسانوں سے معافی مانگے گا اور آئندہ کے حقوق ادا کرے گا ۔ اب حضرت عیسیٰ ؑ کے سولی پر لٹکنے کے کسی گنا ہ کس طرح معاف ہو ں گے ۔ یہ سمجھنے سے بالا ترہے ۔ اسلام میں جب قربانی کاتصور ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں جن چیزوں سے دنیا میںمحبت کرتا ہے وہ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرے تا کہ اس کی زندگی میں اﷲ تعالیٰ کی محبت غالب ہوور جب اﷲ کی محبت انسان پر غالب ہو تی ہے توپھر اس کی زندگی میں وہ اﷲ کے بتائے ہوئے راستے پر آسانی سے چل سکتا ہے۔
عیسائی مذہب مغربی معاشروں کی اصلاح کے لیے اپنے اندر کوئی پروگرام نہیں رکھتا اور یہی وجہ ہے کہ اکثریت لوگوں کی مذہب سے بیزار ہے ۔ بلکہ یہاں تک کہ لوگ خدا کو بھی نہیں مانتے۔ تاریخی طور پر بھی بادشاہوں کی مرہون منت رہا ہے عیسائی علماءبادشاہوں سے بڑی بڑی مراعات حاصل کرتے رہے ہیں اور ان کی حکومت کو استقامت بخشتے رہے ہیں اس لیے بھی تاریخی طورپر لوگوں کو چرچ سے بغاوت کرنا پڑی ۔بہر حال موجودہ دور میں عیسائی مذہب کو کارنر کر دیاگیا ہے ۔ ان کے اندر اتنے اختلافات ہیں کہ وہ کوئی موثر آواز نہیں رہے چند تہواروں کو منانے سے کوئی مذہب زندہ نہیں رہتا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی تعلیم کیا تھی اور آج کی عیسائی دنیا جوان کو اپنا رہنما مانتے ہیں وہ کیا کر رہے ہیں۔دو مختلف چیزیں ہیں جب بابئل کو آسمانی کتاب مانا جارہا ہے تو اس کے اندر عیسائی علماءنے تاریخی طور پر اتنی تبدیلیاں کی ہیں کہ اب عام آدمی اندازہ نہیں کر سکتا کہ خدا کا آخری پیغام کیا تھا اگر آج حضرت عیسیٰ ؑ دنیا میںہوتے تووہ اسلام کے پیرو کار ہوتے کیونکہ توحید رسالت اور آخرت کا عقیدہ جو اسلام نے پیش کیا ہے وہ تمام انبیاءکا عقیدہ رہا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ اگر عیسائی اسلام کو قبول کر لیں تو وہ اس دنیا میںبھی کامیاب ہیں اور آخرت میں بھی سرخرور ہو سکتے ہیں۔

Add comment


Security code
Refresh