تازہ خبریں

library

Islamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic Library
 
spinner

قومی کشمیرکانفرنس اور یکجہتی کے تقاضے

راجہ ذاکرخان


جماعت اسلامی آزادکشمیر کے زیر اہتمام اور عبدالرشید ترابی کی زیر صدارت آزادکشمیر ،مقبوضہ کشمیر ، گلگت بلتستان اور پاکستان کے سیاسی قائدین پر مشتمل قومی کشمیر کانفرنس تین فروری کو اسلام آباد میں منعقد کی گئی ، کانفرنس میں چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان ، صدر آزادکشمیر راجہ ذوالقرنین ،امیر جماعت اسلامی پاکستان ، سید منور حسن ، سابق امیر قاضی حسین احمد ، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، نائب امیر پروفیسر خورشید احمد ، مسلم لیگ(ق) کے جنرل سیکرٹری مشاہد حسین سید ، مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے کنوینئر سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر ، امیر حمزہ ،جموںو کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم ، پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری مجید ، لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ امان اللہ خان ، مولانا سعید یوسف ، جسٹس عبدالمجید ملک ،مولانا رکن الدین حریت رہنما محمود ساغر، غلام محمد صفی ، گلگت بلتستان سے عنایت اللہ شمالی ، آزادکشمیر کے وزراءعبدالرشید ، سمیت دو درجن سے زائد سیاسی قائدین نے شرکت کی ۔ میزبانی کے فرائض امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر عبدالرشید ترابی نے ادا کیے ۔ اعلامیے میںمطالبہ کیا گیا ہے کہ الاقوامی سطح پر جہاں جہاں کشمیر کے حوالے سے ہمدردی کی فضا ہے استفادہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے اور اس سلسلہ میں سلامتی کونسل اور اور آئی سی کے اعلی سطحی اجلاس منعقد کرنے کا اہتما م کیا جائے اور ایسی بھرپور جارحانہ سفارتی مہم چلائی جائے جو بھارت کو ریاستی دہشت گردی سے باز رکھے اورکشمیریوں کی پرامن جدوجہد کے نتیجے میں آزادی یقینی بن سکے ۔ کانفرنس نے  بھارتی پاسپورٹ کے بغیر سادہ دستاویزات پر کشمیریوں کو ویزہ فراہم کرنے کی سہولت دینے پر چینی حکومت اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور او آئی سی کے ممبران سے اپیل کی کہ وہ چین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیریوں کے برحق موقف کی تائید کریں ، اسی طرح کانفرنس ایران کے روحانی پیشوا اور رہبر علی خامنہ آئی کی طرف سے کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپور حمایت پر انکا شکریہ ادا کرتی ہے اور امت مسلمہ کے دیگر قائدین سے بھی توقع رکھتی ہے کہ وہ اسی انداز سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں ۔ کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ تحریک آزادی کشمیر کی تقویت کے لیے ریاست جموںو کشمیر کے آزاد حصوں کو قائد اعظم کے تصور کے مطابق آئینی اور عملی اعتبار سے تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ یہ خطے تحریک آزادی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں ۔ کانفرنس نے پارلیمنٹ کے ایک گزشتہ اجلاس میں کشمیر پر قومی موقف پر اعادہ کی تحسین کرتے ہوئے حکومت اور پارلیمنٹ سے مزید عملی اقدامات کی امید ظاہر کی ہے ۔ کانفرنس نے حریت قائدین پر قاتلانہ حملوں اور ان کی مسلسل نظر بندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ حریت قائدین کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائیں اور ان کی زندگی کو لاحق خطرات کے ازالہ کے لیے اقدامات کرے ۔ کانفرنس نے سید علی گیلانی اور دیگر قائدین کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے کشمیر پر بامقصد مذاکرات اسی صورت میں ہو سکتے ہیں کہ وہ اٹوٹ رنگ کی رٹ ترک کرے ، فوجی انخلاءکا آغاز کرے ، کالے قوانین کا خاتمہ کرے ، انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرے ، ان بنیادی اقدامات کے بغیر محض ایک ڈھونگ اور بے نتیجہ ہوں گے۔ کانفرنس مسئلہ کشمیر پر دسترس رکھنے والے پاکستان اور کشمیری قائدین کے وفود بیرونی ملک بھیجنے کا اہتمام کرے اور یہاں موجود سفارتی  مشنوں کو باخبر کرنے کا موثر اہتمام کرنے کی بھرپور سفارش کی ہے ۔قومی کشمیر کانفرنس نے حق خودارادیت کے حصول کے لیے لازوال و تاریخی جدوجہد کرنے ، بے مثال قربانیاں پیش کرنے اور آزادی کے لیے عزم صمیم پر مقبوضہ جموںو کشمیر کے شہداءمجاہدین ، عوام اور قائدین حریت کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں یقین دلایا کہ پاکستان اور آزادکشمیر وگلگت بلتستان کی دینی اور سیاسی قیادت ، پوری امت مسلمہ اور دنیا بھر میں انصاف اور آزادی سے محبت کرنے والے حلقے ان کی اس عظیم الشان جدوجہد میں منزل کے حصول تک ان کے شانہ بشانہ ہیں ۔ کانفرنس نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کشمیریوں کی اس برحق اور پرامن جدوجہد کو کچلنے کے لیے آٹھ لاکھ بھارتی فوج ، اس کی ایجنسیاں کشمیریوں کی مسلسل نسل کشی کررہی ہیں جس کے نتیجے میں 1989 ء سے اب تک 93 ہزار5 سو 44 افرادکو شہید اور لاکھوں کو اپاہج بنا دیا گیا ، 118,874 کو جیلوں میں بند کیا گیا ، 9,987 خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور 107400 بچے یتیم کیے گئے جبکہ 105,901 گھر اور جائیدادیں تباہ ہوئیں اس کے علاوہ کالے قوانین کے تحت ایک عام سپاہی کوکشمیریوں کے قتل عام اور لوٹ مار کی کھلی چھٹی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی استبداد کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور آزادی سے کم کسی حل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ شرائن بورڈ کے تنازعے کے بعد اٹھنے والی لہر کے بعد ایک مرتبہ پھر گزشتہ نوماہ سے جاری تحریک آزادی کی یہ نئی لہر سول انتفاضہ کی ایک ایسی ہمہ گیر شکل اختیار کر چکی ہے جس میں مقبوضہ ریاست کے تمام علاقے اور زندگی کے تمام شعبے جوق در جوق شریک ہیں جسے کچلنے کے لیے بھارت نے ریاستی دہشت گردی میں شدید اضافہ کردیاہے جس کے نتیجے میں 120 سے زائد جوان شہید ہو چکے ہیں اور مسلسل کرفیو کی وجہ سے کاروباری زندگی معطل ہے ، قائدین  حریت پر مسلسل قاتلانہ حملے ہو رہے ہیں اور ان کی مسلسل نظر بندی کی وجہ سے وہ عید و جمعہ کی نماز تک ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ کانفرنس کے نزدیک بھارت کی یہ دیدہ دلیری پوری انسانیت اور عالمی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ بھارتی مظالم کی اس شدت پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے علاوہ ارون وتی رائے اور گوتم نولکھا جیسے قلم کار اور بھارت کی سیاسی جماعتیں بھی چیخ اٹھی ہیں اور حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگ ردی ختم کرے ، فوجی انخلاءکر ے اور بات چیت کے ذریعے پرامن طریقے سے مسئلہ کو حل کرے ۔ کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ ، او آئی سی ،یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی ادارے انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور بھارت کو مجبور کریں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں ، اس کے چارٹر اور اپنے مواعید کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا اہتما م کرے او آئی سی تلاش حقاق مشن سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں ریلیف ایجنسیوں اور آزادمیڈیا کو تمام علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے ۔امےر جماعت اسلامی سےد منور حسن نے اقوام متحدہ اور مغربی دنےا سے کہا ہے کہ مشرقی تےمور اور جنوبی سوڈان کے عوام کے لےے رےفرنڈم کی طرح کشمےری عوام کے حق خود ارادےت کے لےے رےفرنڈم کراےا جائے ۔ حکومت پاکستان کشمےر کاز کے لےے آگے بڑھے اور اپنی ذمہ داری پوری کرے ۔انہوںنے کہا پاکستان اور بھارت کے درمےان مذاکرات مسئلہ کشمےر کو سرد خانے مےں ڈالنے کے لےے استعمال ہو رہے ہےں اس لےے مذاکراتی عمل پر شکوک ہےں ۔ ماضی دسمبر 1992 ء سے مئی 1993 ءمےں مسلسل چھ ماہ پاکستان اور بھارت کے درمےان مذاکرات بھی ناکام ہوئے تھے ۔ سوان سنگھ اور بھٹو کے مذاکرات کا نتےجہ کچھ نہ نکلا ۔ بھارت کے اٹوٹ انگ کی رٹ ختم نہےں ہوئی ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت مذاکرات مےں ماضی مےں سنجےدہ تھا نہ اب ہے ۔ ماضی مےں ہر سطح پر مذاکرات ہوئے ، سابق صدر پروےز مشرف خود مذاکرات کے لےے دہلی پہنچ گئے تھے ۔ 1988 ءمےں کشمےرےو ںنے بنےادی طور پر تحرےک شروع کر کے لوگوں کو مسئلہ کشمےر کی طرف متوجہ کےا ۔ وہ مسئلہ جسے مذاکرات کے ذرےعے سرد خانے مےں ڈال دےا گےا تھا مسئلہ کشمےر دراصل کشمےرےوں کی قربانےوں اور تحرےک کے نتےجے مےں زندہ ہوا ہے ۔ گزشتہ چند ماہ مےں کشمےر مےں بڑے پےمانے پر قربانےاں دی ہےں چنانچہ بھارت اب زےادہ کشمےر پر قابض نہےں رہ سکتا ۔ کشمےر کی آزادی کے سلسلے مےں پاکستان نے ذمہ دارےاں پوری نہےں کےں ۔ اگر کشمےر کمےٹی کام کرتی تو کشمےر مےں کرفےو ، محاصروں کے دوران عالمی برادری مےں بے نقاب کرتی تو ےہ بڑا کام ہوتا ۔ انہوںنے کہا کہ مشرقی تےمور کے بعد جنوبی سوڈان مےں رےفرنڈم ہوا ۔ کےا کشمےر کمےٹی کشمےر کے حوالے سے ےہ مطالبہ بےن الاقوامی سطح پر نہےں دہرا سکتی تھی ۔ حکومت پاکستان شہ رگ کی حفاظت کے لےے اقدامات سے حکمران سنجےدگی کا مظاہرہ کرےں ۔ عالمی سطح پر مسئلہ کشمےر کو اجاگر کےا جائے ۔کل جماعت حرےت کانفرنس ( گ ) کے چےئرمےن سےد علی گےلانی نے پاکستان پر زور دےا ہے کہ کشمےر کے سلسلے مےں اصولی موقف اور متفقہ پالےسی سے انحراف نہ کےا جائے ۔ کسی دباؤ کے نتےجے مےں فوری حل کے بجائے صبر سے کام لے ۔ پائےدار حل کے لےے جارحانہ سفارتکاری شروع کرے ۔ حرےت کانفرنس ( گ ) کے چےئرمےن سےد علی گےلانی نے قومی کشمےر کانفرنس کے نام اپنے پےغام مےں کہا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمےر کی طرف سے ےکجہتی کشمےر کے ساتھ ےکسوئی بھی ضروری ہے ۔ ماضی مےں ےکجہتی کے نعرے ےکسوئی سے عاری تھے ۔ انہوںنے کہا کہ فوجی انخلاءاور حق خود ارادےت سے کم کشمےرےوں کے لےے کوئی حل قابل قبول نہےں ۔ علی گےلانی نے کہا کہ پاکستان اصولی موقف اور متفقہ کشمےر پالےسی سے انحراف نہ کرے ۔ کشمےر بارے مےں کوئی دباؤ خاطر مےں نہ لائے ۔ پاکستان فوری حل کے لےے بے تاب ہونے کے بجائے صبر سے کام لے ۔منصفانہ اور پائےدار حل کے لےے جارحانہ سفارتکاری شروع کرے ۔
جب تک حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی طرف سے مجوزہ بالا نقاط پر عمل نہیں ہوجاتا اور بھارت پر دو اور دو چار کی طرح واضح نہیں کیا جاتا اس وقت تک بھارت کوئی بات تسلیم نہیں کرے گا،بھارت کی سائیکی ہے اور اس کے مطابق اس کے ساتھ بات جیت کی جائے،تحریک آزادی کشمیرکو نتیجہ خیز بنانا بیس کیمپ اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے،کشمیریوںنے پانچ لاکھ افراد قربان کرکے بھارت کو کشمیرسے نکلنے پر مجبو ر کیاہوا اب اس کو آخری دھکا دینے کی ضرورت ہے اور وہ حکومت پاکستان دے سکتی ہے اور اسی کے نتیجے میں آزادی کی منزل حاصل ہوگی اورپاکستان مضبوط بنے گااور تکمیل پاکستان ہوگی۔

Add comment


Security code
Refresh