تازہ خبریں

پروفیسر غفور احمدؒ اور کشمیر


عبدالرشید ترابی

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

logo-turabi-sb

پروفیسر عبدالغفور احمد صاحب کو ہم سے جدا ہوئے ایک برس گزر چکا ۔ تحریک اسلامی اور پاکستان کے استحکام کے لیے ان کی خدمات پر بہت کچھ تحریر کیاگیا لیکن ان کی قومی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ مدتوں لکھنے والے لکھتے رہیں گے پھر بھی شاید مکمل احاطہ نہ ہو سکے ۔ وہ ایک استاد اور مربی بھی تھے جن کے فیض سے ہزاروں نوجوان مستفید ہوئے وہ تحریک اسلامی کے قائد اور رہنما بھی تھے جو ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی اس کا انہوں نے حق ادا کیا وہ ایک ایسے سیاست دان اور مدبر تھے ۔جنہیں بجا طور پر رول ماڈل قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک بہترین پارلیمنٹیرین بھی تھے۔ ۷۳ء کے دستو رکی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ قانون سازی میں انہوں نے نئی روایات قائم کیں۔ان ساری حیثیتوں میں کام کرتے ہوئے ان کا ایک ہی ہدف تھا کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی ‘ جمہوری اور فلاحی مملکت بن سکے ۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے قائم ہونے والے اتحادوں میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا اور جماعت کی بہترین نمائندگی کا حق ادا کیا ۔ ان کی وفات پر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اہل قلم نے انہیں ان کی شاندار خدمات اور اجلے اور صاف ستھرے کردار پر بے پناہ خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں ایک مخلص بے لوث‘ دیانت دار ‘ با کردار ایسا سیاسی رہنما قرار دیا جنہیں تمام سیاسی قائدین کو ایک رول ماڈل کے طورپر پیش نظر رکھنا چاہیے ۔
تحریک اسلامی کے مرکزی قائد اور رہنما کی حیثیت سے مرحوم ہمارے لیے بھی ہمیشہ ایک رول ماڈل رہے۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق کی نسبت اجتماعات اور تربیت گاہوں میں ان کے مختصر اور جامع خطاب سننے کے لیے ہمیشہ انتظار رہتا تھا ‘ جماعت کی ذمہ داریوں کے دوران میں کئی بار پاکستان کے مختلف مقامات پر اور کشمیرمیں کانفرنسوں اور اجتماعات میں ان کے ہمراہ شرکت کرنے کا موقع ملتا رہا ۔ جس قدر قربت بڑھی اس قدر ان کے حسن کردار کے نقوش دل و دماغ پر ثبت ہوتے رہے ۔
تحریک آزادی کشمیر اور تحریک اسلامی کشمیر کے ساتھ ان کی بڑی والہانہ محبت اور شفقت تھی بلکہ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے قیام و استحکام میں اہم کردارادا کیا ‘ جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کا قیام ۱۳ جولائی ۱۹۷۴ء کو عمل میں آیا لیکن وہ اس سے قبل بھی کشمیر کے تحریکی احباب سے قریبی رابطہ میں تھے بالخصوص مولانا شیر علی خان صاحب مرحوم مدرسہ تعلیم العلوم بنجوسہ کی دعوت پر ہر سال مدرسہ کی سالانہ تقریبات میں اہتمام سے شرکت فرماتے ۔ اسی نوعیت کے ایک اجتماع کی رواداد بیان کرتے ہوئے سابق نائب امیر جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر مولانا فتح عالم صاحب مرحوم نے روایت بیان کی کہ بنجوسہ کے صحت افزا مقام پر اجتماع کے بعد پروفیسر صاحب اور سردار عبدالقیوم صاحب جو اس وقت صدر آزاد کشمیر تھے ‘ کے درمیان جماعت کے قیام کے حوالے سے مکالمہ ہوا اس وقت آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی قائم ہو چکی تھی جسے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی شاخ کی حیثیت سے قائم کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے پہلی مرتبہ پاکستان کی قومی جماعتوں کے طے شدہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی کہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے وہاں اپنی شاخ قائم کی ۔ یہ عمل درحقیقت شملہ معاہدہ کی خفیہ سپرٹ کی روشنی میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل تھا جس کی رو سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی منحوس سیز فائر لائن کو لائن آف ایکچیول کنٹرول میں تبدیل کر دیاگیا اور اس کے بعد مہم شروع کر دی گئی کہ کشمیری کب تک پہاڑوں کے درمیان معلق رہیں گے اور زور دیا کہ زمینی حقائق کی روشنی میں آزاد کشمیر کے صوبائی سٹیس کو قبول کریں اور مجھے مظفر آباد میں گورنر ہاؤس کے لیے جگہ فراہم کریں۔ان کی اس مہم کی پاکستان میں جماعت نے دیگر قومی قائدین کے ساتھ مل کر زبردست مزاحمت کی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انہیں باور کرایا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے دستبرداری اختیار کرنا پڑے گی جس کے نتیجہ میں کشمیر ہمیشہ کے لیے منقسم ہو جائے گا۔اس دور میں قومی سطح پر کشمیریوں کے موقف کی صحیح ترجمانی کا حق پروفیسر غفور احمد صاحب اور نواب زادہ نصراﷲ خان صاحب نے ادا کیا اس طرح آزاد کشمیر بھر میں طلبہ تنظیموں اسلامی جمعیت طلبہ نے زبردست مزاحمت کی اور میر پور میں اس سلسلہ میں ہونے والے جلسہ کو درہم برہم کر کے رکھ دیا جس کے نتیجہ میں بھٹو صاحب اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ اچھا بھائی کشمیرصوبہ نہیں بنے گا آپ جس حال میں ہو مزے کرو۔
پیپلز پارٹی کی Incroachment نے در حقیقت کشمیری سیاست میں ایک بڑا نظریاتی بحران پیدا کر دیا اوربہر صورت مظفر آباد کی کرسی پر اپنی پارٹی مسلط کرنے کے لیے سیاہ سفید تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیے گئے ۔ اس پس منظر میں بقول مولانا فتح عالم مرحوم پروفیسر صاحب مرحوم نے تجویز پیش کی کہ پیپلز پارٹی کے اس نظریاتی انتشار کا مقابلہ کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی بھی قائم ہونی چاہیے ۔ البتہ ہماری خواہش ہے کہ ہم پاکستان جماعت کی شاخ قائم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی بے اصولی کی تقلید کرنے کے بجائے یہ چاہیں گے کہ کشمیر میں نظریاتی اعتبار سے جماعت سے وابستہ احباب خود جماعت قائم کریں اور آپ بھی ان کے ساتھ تعاون کریں ۔ اس ملاقات میں مولانا فتح محمد صاحب مرحوم بھی موجود تھے جو اس وقت جماعت اسلامی راولپنڈی ڈویژن کے امیر کی حیثیت سے آزاد کشمیر کے تحریکی احباب سے بھی بھر پور رابطہ میں تھے اور جنہوں نے ۱۹۷۰ء کے آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں سردار عبدالقیوم کو کامیاب کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھااور سردار صاحب بھی ان کا بہت احترام کرتے تھے۔بر روایت مولانا فتح عالم صاحب مرحوم سردار عبدالقیوم خان نے اس نکتہ نظر کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جماعت الگ نظام کی حیثیت سے قائم ہو تو مسلم کانفرنس بھر پور تعاون کرے گی بلکہ انہوں نے مولانا عبدالباری صاحب مرحوم بانی جماعت سمیت چند دیگر احباب کی نشان دہی بھی کی کہ یہ فلاں فلاں حضرات نظریاتی اعتبار سے جماعت سے وابستہ ہیں اور اگر جماعت ضرورت سمجھے تو مسلم کانفرنس انہیں جماعت کے لیے سپرد کرنے کے لیے بھی تیار ہے ۔ یوں جماعت کے قیام کے لیے مشاورت کے سلسلہ آگے بڑھااور اس اجلاس کے ایک سال بعد جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر و گلگت بلتستان کا قیام عمل میں آ گیا ۔ اس عرصہ میں آزادکشمیر میں جماعتی احباب کے درمیان بھی مشاورت ہوتی رہی جن میں بعض حضرات مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ تھے اور بعض شعبہ تدریس اور سرکاری ملازمتوں میں تھے اس سے قبل اسلامی جمعیت طلبہ بھی قائم ہو چکی تھی جس سے وابستہ ذمہ داران اور کارکنان نے جماعت کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
کشمیر جماعت کے قیام کے بعد پروفیسر صاحب جماعت کے سالانہ اجتماعات اور کانفرنسوں میں شرکت فرماتے رہے تقریباً سارے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں مختلف اوقات میں وہ کانفرنسوں میں شریک ہوئے ۔ وہ کشمیر میں جب بھی تشریف لاتے سیاسی اور جماعتی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر تمام سیاسی حلقے ان کا خیر مقدم کرتے اورانہیں سننے کے لیے خاص اہتمام سے ہمارے اجتماعات میں شرکت کرتے ۔ ان کی آمد کے موقع پر ہم بار ایسوسی ایشنز اور پریس کانفرنسوں کا بھی اہتمام کرتے جس میں ان کے مختصر اور جامع خطابات اور سوالات کے مسکت جوابات سے سامعین لطف لیتے ۔ دوروں کے موقع پر جماعت سے وابستہ پرانے احباب میں سے ایک ایک کی خیریت دریافت کرتے جہان فون کی سہولت ہوتی فون کرتے‘ سیاسی رہنماؤں بالخصوص سردار قیوم صاحب اور سردار سکندر صاحب سے قومی اتحاد کے پس منظر میں تعلق کے حوالے سے ضرور فون پر بات کرتے اور ان کی خیریت دریافت کرتے ‘ خطابات میں وہ ذاتیات سے اجتناب کرتے ۔ حکومت اورسیاسی رہنماؤں کی خطاؤں پر اصولی گرفت کرتے اور کشمیر کے حوالے سے بیس کیمپ کا کرداربحال کرنے پر متوجہ کرتے ۔
۱۹۹۰ء کے بعد جب مہاجرین اور مجاہدین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ہماری پشتیبانی میں دیگر قائدین کے ہمراہ پیش پیش تھے۔ ۱۹۹۳ء میں کراچی جماعت کا ایک بڑا وفد ہوا جس میں کراچی جماعت کے اس وقت کے امیر جماعت نعمت اﷲ خان صاحب سمیت اہم ذمہ داران اور صحافی حضرات شامل تھے ‘ کئی روز کے لیے مظفر آباد تشریف لائے ۔ ایک ایک کیمپ کا دورہ کیا مہاجرین اور نوجوانوں کے حوصلے بڑھائے ان کے اعزاز میں ایک بڑی استقبالیہ تقریب منعقدہوئی جس میں ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کے حوصلے بڑھائے اور اس بات کا یقین دلایا کہ کشمیریوں کی آزادی تک پاکستان کا بچہ بچہ ان کی پشت پر ہے ۔ اس موقع پر اس وقت کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان صاحب نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا جس میں بر ملا انہوں نے اپنے مشاہدات پیش کیے اور سردار قیوم صاحب کو متوجہ کیا کہ تحریک آزادی کے حوالے سے آپ پربڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ آپ مجاہدین تنظیموں میں اپنے آپ کو متنازعہ نہ بنائیں ۔ ان دنوں چونکہ ان کی جماعت بھی اپنی عسکری تنظیم قائم کرنے کا شوق پورا کر رہی تھی اس لیے اس پس منظر میں انہیں متنبہ کیا کہ آپ سب کی میزبانی کریں اور کردار اور قربانیوں کے تناسب سے کشمیری تنظیموں کی پشتیبانی کریں ‘ نیز یہ بھی برملا کہا کہ آپ کی حکومت کی کارکردگی پر بھی لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج کم کریں اور حکومت کے معاملات میں آپ کے عزیزوں کی مداخلت اور بد عنوانیوں کی شکایات کا ازالہ کریں یوں نہایت حکمت اور دانائی سے انہوں نے سردار صاحب کو بیس کیمپ کے حقیقی تقاضوں کی جانب متوجہ کرنے کا حق ادا کیا سیز فائر لائن پر بھارتی شیلنگ کے نتیجہ میں جو لوگ بے گھر ہونا شروع ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کراچی کے ایک وفد کے ہمراہ مظفر آباد تشریف لائے اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے متاثرین کے حوصلے بڑھانے کا اہتمام کیا ۔
۲۰۰۵ء کے زلزلہ کی قیامت صغریٰ کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ اہل کشمیر کے زخموں پر مرحم رکھنے کے لیے پیرانہ سالی کے باوجود ہمارے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے موجود تھے یوں سیاسی اور تحریکی جدوجہد کے ہر محلے پر ہم نے انہیں اپنے شانہ بشانہ پایا۔ راقم کے ساتھ ان کی بے پناہ شفقت تھی۔ منصورہ میں اجلاسوں کے دوران میں بہت توجہ سے حالات سے آگاہی حاصل کرتے اور رہنمائی دیتے ۔ دار الضیافہ میں متعدد مرتبہ ان کے کمرے میں بھی ان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ان کی نفاست ‘ سلیقہ مندی ساتھ رہنے والے کا جس طرح وہ خیال رکھتے تھے اور شفقت فرماتے تھے وہ انہی کا خاصا تھا ‘ کراچی کے دورہ کے دوران میں ہمیشہ اہتمام سے ان کے ہاں حاضری کی کوشش رہتی تھی۔ وہ خود بھی حوصلہ افزائی فرماتے اور تاکید کرتے کہ پاکستان کے دیگر قومی قائدین سے بھی ملاقات کرتے ہوئے انہیں مسئلہ کشمیر پر ضرور اپ ڈیٹ لیا کریں چنانچہ ان کی تحریک پر پیر صاحب پگاڑا‘ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی ‘ شیر باز خان مزاری ‘ جناب غلام مصطفی جتوئی سمیت قومی قائدین کو فون کر کے خود ملاقاتوں کا وقت طے کرتے یا کراچی کے نظم کے ذریعے اس کا اہتمام کرتے اور تاکیداً اہتمام کرتے کہ ان ساری سر گرمیوں کی میڈیا کوریج بھی ہو۔ یوں وہ ایک رہنما ہی نہیں ‘ایک ادارہ بھی تھے جو زندگی کے مرحلے پر ساتھیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے اور حکمت سے ان کی تربیت بھی ۔انہیں جدا ہوئے آج ایک برس ہو گیا ۔ اس عرصہ میں وہ قدم قدم پر یاد آتے ہیں اور جب بھی یاد آتے ہیں ان کا مربیانہ اور مشفقانہ کردار جہد مسلسل کی تذکیر کا ذریعہ بنتا ہے ان کے تعلق کی نسبت سے یہ بھی سعادت رہی کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن صاحب کے صاحبزادے عزیزم طلحہ کے ولیمہ کے موقع پر جب پورے پاکستان سے سیاسی اور تحریکی احباب جمع تھے وفات کی اطلاع ملی میں بھی حاضر تھا وہاں یوں مجھے بھی جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔
مرحوم قائدین کی خدمات کے خراج عقیدت کی خدمات کے خراج عقیدت کے لیے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً تمام اضلاع میں سیمینارز اور کانفرنسیں ہوئیں جس میں سیاسی قائدین ‘ علمائے کرام اہل دانش اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی بہترین الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔ راولپنڈی میں کشمیر جماعت کے اہتمام سے ایک یاد گار قومی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں قائدین حریت اور ساری کشمیری قیادت نے شرکت کی اور کشمیر کاز کی خدمات کے حوالے سے انہیں خراج تحسین پیش کیا اس کانفرنس میں بزرگ کشمیری رہنما سردار سکندر حیات خان صاحب نے قومی اتحاد کی تحریک کے دوران پرفیسر صاحب کے کردار کے کئی تاریخی واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنہیں اس اتحاد کا روح رواں قرار دیا ۔
پروفیسر صاحب کی نماز جنازہ میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم کا مختصر اور جامع خطاب انہیں بہترین خراج تحسین تھا اور ٹھیک دس دن بعد قاضی صاحب مرحوم بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ آج ایک سال بعد ان قائدین کا قافلہ نئے چیلنجز اور نئے عزائم سے سوئے منزل رواں دواں ہے۔ اﷲ ان کی تحریکی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے حسن کردار ‘ عزم و ہمت اور جہد مسلسل جیسی ان کی عظیم اقدار کا امین بنائے ۔ آمین ۔

Add comment


Security code
Refresh