تازہ خبریں

library

Islamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic Library
 
spinner

دورہ برطانیہ ....مشاہدات و تاثرات


عبدالرشید ترابی

logo-turabi-sb

یو کے اسلامک مشن ‘ حلقہ احباب جمعیت اور تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام منعقد ہ تین اہم کانفرنسوں میں شرکت کے لیے برطانیہ کا سفر درپیش ہوا ۔ 7تا 9ستمبر احباب جمعیت کے زیر اہتمام ویلز کی خوب صورت وادی میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تین سو سے زائد ان نوجوانوں نے شرکت کی جو اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان سے وابستہ رہے اور آج کل برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم یا روز گار کے سلسلے میں مقیم ہیں ۔ احباب جمعیت ہر سال تجدید عہد کے لیے اس نوعیت کا پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔اس موقع پر پاکستان کے تحریکی ذمہ داران بھی شریک ہوتے ہیں ۔منتظمین نے امسال برادر وقاص انجم جعفری سابق ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ساتھ مجھے بھی یہ اعزاز بخشا ۔یہ ہر لحاظ سے ایک ایمان افروز کانفرنس تھی ۔ یو کے اسلامک مشن کے صدر برادر ڈاکٹر زاہد پرویز کے علاوہ دیگر تحریکی قائدین نے خطابات کیے ۔ مصری دانشور ڈاکٹر ہانی السید نے بالخصوص عرب ممالک میں اٹھنے والی لہر کے بارے میں بریفنگ دی ۔ صدر حلقہ احباب برادر ادریس صاحب اور ان کی ٹیم نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے انتھک محنت کی ۔اس کے بعد یو کے اسلامک مشن کے پچاس سال مکمل ہونے پر ایک شاندار کانفرنس اولڈ ہام مشن کے سنٹر میںمنعقد ہوئی جس میں عالمی اسلامی تحریکوں کے دانشور رہنما پروفیسر خورشید صاحب کے ہمراہ آخری سیشن میں شرکت اور خطاب کا موقع ملا ۔ اس عظیم الشان کانفرنس میں بھی ہزاروں افراد جس میں بزرگ بھی شامل تھے جو ساٹھ کی دہائی میں دیارغیر آئے اور مشن کی دعوت کا آغاز کیا اور ان کے بیٹے اور پوتے بھی صف درصف مشن کے پیغام کی آبیاری کے لیے موجود تھے۔ مختلف مقامات کے ابتدائی ارکان کے لیے یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں ۔ اس پروگرام میں بھی عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور مشن کے علماءاور سکالرز نے ایمان افروز خطابات کیے ۔ بالخصوص پروفیسر خورشید صاحب جو مشن کے ابتدائی معماروں میں شامل ہیں نے مشن کی تاریخ ‘موجودہ چیلنجز اور آئندہ کے امکانات کے حوالے سے بصیرت افروز خطبہ دیا ۔ ڈاکٹر زاہد پرویز جو ایک دانشور رہنما ہیں اور برطانیہ کی نئی اور پرانی نسل کے لیے سنگم کا کردار ادا کررہے ہیں نے مشن کے لیے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا اور اس بات کا عزم کیا کہ مستقبل میں مشن کو پورے برطانیہ کے مسلمانوں کی نمائندہ تحریک بنانے کا ہدف لیں گے۔ اس سلسلے میں مسلم کیمونٹی کو متحد اور منظم کرتے ہوئے اس کے داعیانہ کردار کو نمایاں کریں گے۔
کانفرنس سے پاکستان سے وقاص انجم جعفری اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے مرکزی رہنما جناب سید احسان اﷲ وقاص نے بھی خطاب کیا اور پاکستان میں دعوت و خدمت کے میدان میں اسلامی تحریک کی کارکردگی سے آگاہ کیا ۔ کانفرنس میں تحفظ ناموس رسالت کے لیے امریکہ میں بننے والی گستاخانہ فلم کے حوالے سے قرار داد مذمت پاس کی گئی اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کی جائے ۔نیز کشمیراور برما کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیاگیا۔
تیسری بڑی کانفرنس کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے لیے تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام والسال میں منعقد ہوئی جس میں والسال کے عظیم الشان اسلامی مرکز کے بڑے ہال میں سینکڑوں لوگوںنے شرکت کی جن میں مقامی برطانوی کونسلرز اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔ یہ بھی ایک ایمان افروز اجتماع تھا جس کی کامیابی کے لیے مشن اور تحریک کشمیر کی مقامی ٹیم نے مولانا سعید الرحمن صاحب کی سرپرستی میں انتھک محنت کی تھی۔ان تین بڑے پروگرامات کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی کشمیر کانفرنسز اور سیمینارز کا اہتمام کیاگیا تھا ۔ یوں دو ہفتے کے اس سفر میں برطانیہ کے تینوں صوبوں یعنی انگلستان ‘ ویلز اور سکاٹ لینڈ کے تمام اہم مقامات لندن ‘ لیوٹن‘ برمی گھام ‘ والسال ‘وولروہمٹن ‘ نوٹی گھام ‘ وٹ فورڈ ‘ بریڈفورڈ‘ مانچسٹر ‘پڑ بیرو اور گلاسگو میں عمومی کانفرنسز کے علاوہ درجنوں استقبالیہ پروگرامات میں علماءکرام ‘ سیاسی کارکنان ‘ نوجوانوں اور ہر طرح کے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا ۔تحریک کشمیر برطانیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ گزشتہ پچیس برس سے برطانیہ میں سفارتی اورریلیف کے محاذ پر کام کر رہی ہے ۔ سید منور حسن مشہدی اس کے بانی صدر تھے ‘جنہوں نے دم واپسیں تک کشمیر کاز سے وابستگی کا ساتھ دیا ۔اب ان کے بعد ان کے دست راست برادر محمد غالب اسی جوش و جذبے سے اس محاذ کو سنبھالے ہوئے ہیں ۔ مفتی عبدالمجید ندیم ‘ چوہدری محمد شریف صاحب‘ منیر رضا ‘ توصیف کیانی جیسے احباب ان کی مرکزی ٹیم کا حصہ ہیں ۔نیز راجہ فہیم کیانی کی سربراہی میں سینکڑوں نوجوان ان کے دست و بازو ہیں ۔
 تمام کانفرنسوں ‘پروگراموں اور دانشوروں میں راقم نے تحریک آزادی کشمیر کی صورت حال پر تفصلات رکھیں کہ کس طرح مقبوضہ وادی میں بھارت کی بے رحمانہ ریاستی دہشت گردی کے باوجود کشمیری عوام اور بالخصوص قائدین حریت اور عزم و ہمت کا پیکر سید علی شاہ گیلانی سینہ سپر ہیں اور آزادی سے کم کسی حل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ عالمی حالات اورپاکستان کی کمزور پالیسی کے باوجود کشمیریوں کی استقامت شہداءکے مقدس خون کا معجزہ ہے ۔نامساعد حالات میں تحریک اس شدت سے ساتھ جاری رہنا حتیٰ کہ بھارت کے اندر سے ارون دتی رائے گوتم نولکھا جیسے دانشوروں کا اس تحریک کا وکیل بن جانا بھی ایک تائید غیبی ہے ‘ پاکستانی قیادت کی طرف سے بھارت سے غیر مشروط دوستی (یاسرنڈر)کے ماحول کے باوجود چین جیسے دوست ملک کی طرف سے ریاستی باشندوں کو بھارتی پاسپورٹ کے بغیر سادہ کاغذات پر ویزوں کا اجرا ‘ تین ہزار سے زائد گم نام قبروں کا مسئلے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ جیسے اداروں کی رپورٹس کے اجراءاور برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ میں بحث ‘اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی طرف سے دلی میں دو ٹوک انداز سے اس اہم مسئلے کے حل پر زور دینا اور بھارتی جرائد کے مطابق ساٹھ فیصد سے زائد بھارتی رائے عامہ کا اظہار کہ حکومت ہند اٹوٹ انگ کی رٹ چھوڑ کر بات چیت سے مسئلہ حل کرے ۔اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اغیار کی سازشوں اور اپنوں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود تحریک حریت جاری ہے جسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے برطانیہ میں مقیم کمیونٹی اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ اس امر پر بھی متوجہ کیا کہ اس مرحلے پر مقبوضہ کشمیرمیں برسر پیکار حریت پسندوں کو یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے کہ وہ اس جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں ۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیری اس تحریک کے پہرے دار اور پوری امت مسلمہ اور انسان دوست حلقے ان کی پشت پر ہیں ۔ اس سلسلے میں کشمیری بھائیوں کو متوجہ کیا کہ وہ یہاں فرقوں ‘ جماعتوں اور برادریوں کے دائرے سے بلند ہو کر ون پوائنٹ ایجنڈا یعنی کشمیر کی آزادی کے لیے منظم ہوں اور ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس کے نتیجے میں جارج گیلوے اور لارڈ نذیر جیسے ممبران پارلیمنٹ میں پہنچیں ‘نیز پارلیمنٹ کے حلقوں کی سطح پر حق خود ارادیت کی بنیاد پر ممبران سے ملیں اور انہیں اپنے حق میں حمایت پر مجبور کریں ۔ اس طرح نوجوانوں کو متوجہ کیاگیا کہ وہ تعلیمی اداروں میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں مسلسل بیداری کی مہم جاری رکھتے ہوئے برطانوی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں تحریک آزادی کے حق میں فضا ہموار کریں ۔
دورے کے دوران میں برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے بھی ملاقاتیں رہیں ۔ بالخصوص جارج گیلوے کی Respectپارٹی کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ کے موقع پر جارج اور ان کی ٹیم کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی ۔جس میں انہیں یاد دلایا کہ 90کی دہائی میں نواب زادہ نصراﷲ صاحب کی سربراہی میں ایک پارلیمانی وفد کی آپ نے میزبانی کی تھی جس میں راقم بھی شامل تھا اور جس میں درجنوں ممبران پارلیمنٹ شریک تھے جو آپ کی مہم کا نتیجہ تھا ۔ اسی طرح آپ نے برسلز اور جنیوا کے مراکز کو متحرک کر نے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا لیکن بعد میں آپ نے مسئلہ کشمیر کے بجائے مسئلہ فلسطین کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس سلسلے میں غزہ کا محاصرہ ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا جو ہمارے لیے بھی باعث مسرت ہے ۔اس لیے کہ فلسطین مسئلہ بھی ہمارا ہی مسئلہ ہے ۔ آپ کی کاوشوں کے نتیجے میں حسنی مبارک جیسے آمر مصری عوام کے سامنے بے نقاب ہوا کہ وہ فلسطینیوں کی بجائے یہودیوں کا پشتیبان ہے ۔ یوں موجودہ عرب بہار کی لہر اٹھانے میں آپ کا ایک بڑا تاریخی کردار ہے ۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر جو غزہ ہی کی طرح محبوس ہے جہاں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی ہو رہی ہے ۔ جسے چھپانے کے لیے دنیا کے میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔ سات لاکھ سے زائد بھارتی افواج نے کشمیر کو فوجی چھاﺅنی میں بدل دیا ہے ۔ لہٰذا آج کشمیر کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے آپ اس طرح کے مارچ کا اہتمام کریں جس طرح فلسطین کے حوالے سے کیا تھا ۔اس موقع پر انہوںنے اپنے پارٹی رہنماﺅں کی موجودگی میں اعلان کیا کہ کشمیر کے ساتھ میری وابستگی برقرار ہے ۔البتہ میرے لیے خود پاکستان کی حکومتوں کی پالیسیوں اور داخلی سیاسی چپقلش کی وجہ سے کام کرنا مشکل بنا دیاگیا ۔ اب میرا عزم ہے کہ اگلے سال ایک کاروان لندن سے سری نگر براستہ مظفر آباد شروع کریں گے جو دنیا کو اس اہم انسانی مسئلے کی طرف متوجہ کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیریوں کا بے پناہ احسان مند ہوں جنہوں نے حالیہ ضمنی انتخاب میں اپنی کمیونٹی کے امیدوار کے مقابلے میں مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔ یوں مجھے مقروض کر دیا کہ میں اس مسئلے کے حوالے سے اپنا حق ادا کروں ۔ جارج گیلوے کی کامیابی کے لیے جنید مشہدی اور غفران صاحب جیسے نوجوانوں نے دن رات محنت کی جس کی وجہ سے وہ ٹیم کے بہت ممنون ہیں۔
جارج گیلوے کے اس اعلان کا کمیونٹی اور برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں زبردست خیر مقدم کیاگیا اور اسے بھارتی اور مقبوضہ کشمیر کے میڈیا میں بھی شہ سرخیوں سے شائع کیاگیا۔ جس کے مقبوضہ کشمیرمیں اچھے اثرات مرتب ہوئے ۔ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے برطانیہ ‘ پاکستان اور کشمیریوں کو زبردست ہوم ورک کی ضرورت ہے ۔یہ از حد خوش آئند ہے کہ اس حوالے سے برطانیہ میں لارڈ نذیر صاحب سمیت جن بھی سیاسی رہنماﺅں اور کمیونٹی لیڈرز سے ملاقات ہوئی انہوںنے اس کی تائید کی اور یہ کہا کہ اس مارچ کی کامیابی سے ایک مرتبہ پھر مسئلہ عالمی توجہ کا مرکز بنے گا۔اس پروگرام کی کامیابی کے لیے نیز کمیونٹی کے دیگر مسائل کے حوالے سے پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن صاحب سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ تحریک کشمیر برطانیہ کے رہنما محمد غالب اور چوہدری محمد شریف بھی موجود تھے۔ ہائی کمشنر کی معاونت کے لیے کمیونٹی ویلفیئر کو نسلر ثالث رضا کیانی جو کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے بہت متحرک ہیں اور ہر دلعزیز بھی ۔سفارت خانے کے پولیٹیکل کونسل خالد مجید جو مقبوضہ راجوری سے تعلق کی وجہ سے کشمیر کاز سے گہری وابستگی رکھتے ہیں موجود تھے ۔ ہائی کمشنر صاحب نے بھی اس پروگرام کی کامیابی کے لیے بھر پور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا ۔ملاقات میں متاثرین منگلا ڈیم کے مسائل ‘ ایئر پورٹ پر اہلکاران کے رویے اور اسلام آباد کوٹلی ‘ ڈڈیال ‘شاہراہوں پر تارکین وطن کو ٹارگٹ کر کے لوٹنے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیاگیا اور ان سے کہا گیا کہ حکومت تک اس تشویش کو پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسئلہ حل کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں ۔
دورے کے دوران میں جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر سے وابستہ نوجوانوں نے لیوٹن میں ایک اور شاندار کشمیر کانفرنس منعقد کی جس میں موسم کی شدت کے باوجود سینکڑوں نوجوان شریک ہوئے ۔اس شاندار پروگرام کو کامیاب کرنے کے لیے کنویئر جماعت اسلامی راجہ فہیم کیانی کی سربراہی میں ‘ عابد ملک ‘ لقمان چوہدری ‘ فرخ مراد‘ چوہدری اظہر ‘ اقدس مغل ‘شوکت بٹ‘ غفار شاہد ‘ رشید نعمانی ‘ یاسر محمود نے انتھک محنت کی ۔ چوہدری محمد شریف نائب صدر تحریک کشمیر برطانیہ اور توصیف کیانی نے نوجوانوں کی بھر پور حوصلہ افزائی کی ۔ یو کے اسلامک مشن کے مقامی رہنماﺅں مولانا اقبال اعوان ‘ اشرف ڈار اور ناصر بلال نے دیگر احباب کے ساتھ پروگرام کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ یہاں بھی شرکاءکو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال ‘ بیس کیمپ کے حالات جماعت اسلامی کی کاوشوں کے بارے میں بریف کیاگیا اور حاضرین کو متوجہ کیاگیا کہ وہ برطانیہ میں رہتے ہوئے یو کے اسلامک مشن اور تحریک کشمیر کی کاوشوں کا ساتھ دیں اورپاکستان اور آزاد کشمیر میں جماعت کے زیر اہتمام نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کو موثر بنانے میں اثر ورسوخ بروئے کار لائیں ۔ نیز برطانیہ میں تعلیمی نظام سے استفادہ کرتے ہوئے افراد کار مہیا کریں جو ملک و ملت کی خدمت کر سکیں ۔سید طفیل حسین شاہ صاحب سرپرست اعلیٰ تحریک کشمیر کی میزبانی میں گلاسگو ‘برادر عابد کی میزبانی میں مانچسٹر‘فرید الدین لودھی کی میزبانی میں سٹوک آن ٹرنک ‘راجہ توصیف کیانی میزبانی میں لیوٹن ‘چوہدری شبیر اور چوہدری لقمان کی میزبانی میں وٹ فورڈ‘ سید شوکت یو کے مشن ریلیف کی میزبانی میں لندن میں باوقار پروگرامات منعقد ہوئے جن میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب نے شرکت کی ۔ممتاز عالم دین اور دانشور ڈاکٹر اختر الزماں غوری کی میزبانی میں برمنگھم میں مختلف مکاتیب فکر کے اہم علماءکرام سے بھی ایک مفید اور یاد گار نشست ہوئی ۔ اسی طرح لندن میں شیخ مقصود کی میزبانی میں باغ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے نشست ہوئی جن کے مسائل کے حل کے لیے شیخ صاحب بہت متحرک رہتے ہیں۔
ایک اور آل پارٹیز کانفرنس کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام برمی گھام میں ہوئی جس میں رابطہ کمیٹی کے سرپرست اعلیٰ صدر ‘ شہزاد مغل ‘ تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر محمدغالب اور دیگر کشمیری جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے ۔ رابطہ کمیٹی گزشتہ پچیس سال سے تمام کشمیری تنظیموں کو مشترکہ فورم کی حیثیت سے تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ موجودہ صدر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جو برطانیہ میں مقیم نوجوانوں کو متحرک کرنے کے لیے پر عزم ہیں ۔ کل جماعتی کانفرنس میں بھی جارج گیلوے کے مارچ کی حمایت میں متفقہ قرار دادیں پاس کیں اور تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ اسی طرح کی ایک کانفرنس کشمیر سنٹر لندن میں سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر نذیر احمد شال کی میزبانی میں منعقد ہوئی جس میں سنٹر کی ایڈوائزری کمیٹی کے اراکین اور اہم سیاسی رہنماﺅں نے شرکت کی ۔ نذیر شال صاحب نے سنٹر کی کارکردگی رپورٹ پیش کی اور آئندہ اہداف کے حوالے سے بریف کیا ۔ بالخصوص سنٹر کے زیر اہتمام برطانیہ بھر میں دستخطی مہم کی پیش رفت سے آگاہ کیا ۔ جس میں ان کا ہدف ہے کہ اہم ممبران پارلیمنٹ کے انتخابی حلقہ جات کی بنیاد پر کم از کم ایک لاکھ افراد سے دستخط حاصل کر کے ممبران کو تحریک کی جائے گی کہ وہ مسئلہ پارلیمنٹ میں زیر بحث لائیں۔بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کریں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کریں ۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے اس کے نتیجے برطانیہ بھر میں مسئلے کی آگاہی کے حوالے سے کمیونٹی میں تحریک پیدا ہوگی ۔البتہ کشمیر سنٹر اور پاکستانی ہائی کمیشن کے درمیان رابطے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
دورے کے اختتام پر یو کے اسلامک مشن کی مجلس شوریٰ کے ساتھ بھی نشست ہوئی جس میں ان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کیا گیا ۔تحریک آزادی کشمیر کی رواں صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ یو کے اسلامک مشن برطانیہ ہی واحد پلیٹ فارم ہے جو مسالک اور فرقوں کے دائروں سے بالا قرآن و سنت کی روشنی میں مسلم تشخص کی بحالی اور نئی نسل کی تربیت کا اہتمام کر رہا ہے۔اس کے پچاس کے قریب مراکز اور ادارے ہزاروں مخلص دینی کارکنان جن میں علمائے کرام اور جدید پڑھے لکھے ہر سطح کے احباب متحرک ہیں ۔ مسلم کمیونٹی کے علاوہ برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں اس کی ایک ساکھ ہے ۔اول روز سے تحریک کشمیرکی پشتیبانی کا حق ادا کر رہا ہے ۔ شوریٰ کو اپنے دورے کے مشاہدات اور تجاویز سے آگاہ کیا ۔ کشمیر ‘ پاکستان اور امت مسلمہ کے حوالے سے ان سے وابستہ توقعات سے آگاہ کیا ۔ جارج گیلوے کے مارچ کے بارے میں بھی مشن کی شوریٰ سے مشاورت ہوئی اور انہیں مناسب ہوم ورک کے لیے متوجہ کیا۔ نیز کشمیر کمیونٹی میں مشن کی دعوت کے نفوذ کے لیے بھی تجاویز دی گئیں ۔ دورے کے دوران میں ریلیف کے حوالے سے کام کرنے والی این جی اوز مسلم ایڈ برطانیہ کے مرکزی قائدین جناب تنظیم واسطی اور شرف الدین اور یو کے اسلامک مشن ریلیف سید شوکت سے بھی ملاقات ہوئی اور کشمیر میں ریلیف انچارج کی سرگرمیاں بڑھانے پر متوجہ کیا ۔ بلکہ مقبوضح کشمیر کا دورہ کرنے کی تحریک کی ۔ورلڈ کشمیر فریڈم موومنٹ کے نائب صدر برادر نذیر قریشی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ۔ انہوںنے سفارتی محاذ اور مرسی یونیورسل کے پلیٹ فارم سے ریلیف کی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی ۔ ان کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔
اس عرصے میں ایک ملعون امریکی کی ناموس رسالت کے حوالے سے مذموم فلم کی خبریں منظر عام پر آئیں ۔ ساری دنیا کی طرح برطانیہ میں بھی مسلمانوں میں شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ۔ ایک بڑا احتجاجی پروگرام لندن میں منعقد ہونے کے علاوہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں احتجاجی پروگرام منعقد ہوئے ۔ برطانوی پریس میں عمومی طور پر اس کی مذمت کی گئی ۔ لیکن ساتھ ساتھ اظہار آزادی کے نام پر ایسے واقعات کا جواز بھی فراہم کرنے کی کوشش نظر آئی ۔ نیز برطانوی پریس میں افغانستان کی صورت حال پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ طالبان افغانستان میں روز بروز مضبوط ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں ناٹو کی شکست نوشتہ دیوار ہے ۔ ڈرون حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے ۔ نیز ان کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں ۔ رائے عامہ مطالبہ کر رہی ہے کہ برطانیہ فی الفور افغانستان سے اپنی افواج واپس بلائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے سیاسی و دینی قائدین وہاں جا کر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کے بجائے کشمیر کاز پر اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا کریں اور برطانوی میڈیا سیاسی اداروں اور رائے عامہ کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے مربوط کاوشوں کا اہتمام کریں تو نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ بھر میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بالخصوص کشمیر کمیونٹی میں متوازی سرگرمیوں کومربوط کرنے کے لیے آزاد خطے میں لوٹ ماراور برادری ازم کا کلچر ختم کرکے ایک نظریاتی حکومت قائم ہو جو بیس کیمپ کے کردار کو بحال کرنے کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیوں کو مربوط اور منظم کر سکے جو موجودہ حالات کا سنگین تقاصا ہے۔

Add comment


Security code
Refresh