تازہ خبریں

library

Islamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic Library
 
spinner

دورہ سعودی عرب....مشاہدات و تاثرات

تحریر :عبدالرشید ترابی

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


عالم اسلام میں حرمین شریفین کے تقدس اور عقیدت کی وجہ سے سعودی عرب کومنفرد مقام و مرتبہ حاصل ہے۔سعودی حکومت یہاں کے ادارے اور علمائے کرام اپنی حیثیت کا ادارک کر تے ہوئے عالمِ اسلام کے ساتھ بالخصوص مسئلہ کشمیر اجاگر کر نے میں قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔سعودی عرب کی حکومت اور عوام نے پاکستان کے مسائل کو ہمیشہ اپنے مسائل سمجھتے ہوئے فراخدلانہ تعاون کیا ۔ متاثرین زلزلہ اور سیلاب کی بحالی اور تعمیر نو میں سعودی عرب کے عوام اور حکومت نے بے مثال کردار ادا کیا۔پاکستان کے دولخت ہو نے کے سانحہ نے سارے عالمِ اسلام کوصدمے سے دوچار کیا،لیکن شہید شاہ فیصل کا درد اور غم سب سے سوا تھا، جس کا اظہار انھوں نے لاہور کی اسلامی سرابراہی کانفرنس کے موقع پر کیا اور ان کے درد کا احساس ہوا۔مسئلہ کشمیر پر بھی سعودی حکومت نے ہمیشہ بہت جاندار کردار ادا کیا اور پورے عالمِ اسلام کو کشمیریوں کی پشت پر لا کھڑا کیا۔O.I.C کا ہیڈ کواٹر جدہ میں ہونے کی وجہ سے اس کے پلیٹ فارم سے کشمیریوں کے حق میں پاکستان کی طرف سے پیش کردہ قراردادوں کو متفقہ طور پر منظور کر وانے میں سعودی حکومت نے اہم کردار ادا کیا ۔
مجھے یاد ہے کہ 1990 ءمیں محترم قاضی حسین احمد صاحب کی قیادت میں ایک پارلیمانی وفد نے تمام خلیجی ممالک کا دورہ کیا ۔یوں تو اس وفد کو ہر ملک کے دارلحکومت میں پذیرائی ملی ،لیکن ترکی اور سعودی عرب کی گرم جوشی منفرد تھی۔سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل سے جب ملاقات ہوئی تو مسئلہ کشمیر پر ہر لحاظ سے انہیں با خبر پایا۔ انہوں نے فرمایا کہ میری لائبریری میں کشمیر پر ایک الگ سیکشن موجود ہے اور میں خود وہاں کی صورت حال کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہا ہوں۔در حقیقت انہیں مسئلہ کے مختلف پہلوﺅں کے حوالے سے پاکستانی وزرائے خارجہ سے بھی زیادہ با خبر پایا ۔ بعد ازاں متعددمرتبہ سعودی عرب کے دوروں کے دوران میراسرکاری حکام،ر ابطہ عالم اسلامی جیسے بین الاقوامی اداروں ،علماءاورسکالرز سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔وہاں سے ہمیشہ ہی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ایک حوصلہ افزا پیغام ملا۔سابق مفتی اعظم شیخ عبداللہ بن باز جو ایک بڑے مجتہد اور فقہیہ بھی تھے نے تو جہاد کشمیر کی حمایت میں ایک ایمان افروز فتویٰ بھی جاری کیا جس میں انہوں نے سعودی عوام، حکومت اور دینا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ مظلوم کشمیری بھائیوں کی جائز اور بر حق جدو جہد کو دینی فریضہ سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ آئمہ حرمین الشریفین نے اپنے خطبات میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے کی تلقین کی۔رابطہ عالمِ اسلامی جو مرحوم شاہ فیصل کے دور سے عالمِ اسلام کے مسائل پر مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے ، نے بھی مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ بڑا جاندار کردار ادا کیا ۔ 1987 ءسے راقم رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنسوں میں شریک ہو تا رہا۔ بالخصوص 2000 ءکے بعد رابطہ عالمِ اسلامی مساجد کونسل کے ممبر کی حیثیت سے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ محسن ترکی اور ان کے رفقاءکو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ہمیشہ انہیں مسئلہ فلسطین کے بعد مسئلہ کشمیر کے حوالے سے فکر مند پایا اور کانفرنسوں کے موقع پر راقم کی ہر قرارداد اور تجویز کی تائید کی۔
اس تسلسل کے ساتھ موجودہ دورہ سعودی عرب کا بھی ہدف یہی تھا کہ ان تمام اداروں کے ذمہ داران کے علاوہ وہاں کے علماءکرام ، اہل دانش اور میڈیا کو کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ بھی کیا جائے اور بھارتی لا بی کے پروپگینڈے کے توڑ کا اہتمام بھی کیا جائے جو وہاں پر پروپیگنڈا کر رہی ہیں کہ کشمیر میں امن اورچین کی بانسری بج رہی ہے اور یہ کہ کشمیر کی آزادی کے نتیجے میں 16 کروڑ بھارتی مسلمانوں کا وجود خطرے میں پڑ ھ جائے گا ۔ گزشتہ عرصے میں سعودی عرب اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تجارتی تعلقات کی وجہ سے مذکورہ لابی کوپروپیگنڈا تیز کر نے کا مزید موقع بھی مل گیا ہے۔اس لئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس کا توڑ بھی ایک اہم محاذ ہے جس پر مختلف حیثیتوں سے کام ہو نا چاہیے ۔ دورے کے دوران میں مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیزآل شیخ جو رابطہ عالمِ اسلامی کے سرپرست اور عرفات میں حج کا خطبہ بھی ارشاد فرماتے ہیں ، سے بھی مفید ملاقات ہوئی۔ ان تک اہلِ کشمیر کا سلام پہنچایا اور وہاں ہو نے والے مظالم سے ان کو آگاہ کیا اور عالمِ اسلام بالخصوص سعودی عرب سے ان کی توقعات کے مطابق حمایت کی فراہمی کے لئے متوجہ کیا ۔ جس پر انہوں نے مسئلہ کشمیر کو پوری امت مسلمہ کا اہم مسئلہ قراردیا اور فرمایا کے یہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی مدد کریں ،انہوں نے تحریک کی کامیابی کے لئے دعاﺅں اور بھرپور تعاون سے نوازا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ حرمین میں اور عیدین کے موقع پر پہلے ہی کی طرح کشمیری مسلمانوں کے لئے دعاﺅں کااہتمام کیا جائے گا۔ رابطہ عالمِ اسلامی کے سیکرٹر جنرل ڈاکٹر عبدالمحسن ترکی سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی ۔انہیں بھی کشمیرکی تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ کیا ۔پاکستان اور کشمیری قیادت کی طرف سے بھارت سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے لئے کی جانے والی کاوشوں کے باوجود بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ بھارت کے اس رویے پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے اور ارون دتی رائے جیسے دانشوروں نے سخت احتجاج کیا ہے۔ بالخصوص تین ہزارکے قریب گم نام شہداءکی قبروں کی دریافت پر انسانی حقوق کے ادارں کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور برطانوی پالیمنٹ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث رہا ۔بھارتی مظالم کی مذمت کی گئی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی گئی۔ اس پس منظر میں کشمیری توقع رکھتے ہیں کہ عالم اسلام حکومت ، عوام اور رابطہ عالمِ اسلامی جیسے ادارے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیں اور بھارت پر سفارتی دباﺅ بڑھائیں تاکہ وہاں فوجی مظالم میں کمی کے ساتھ ساتھ کشمیری بنیادی حق خود اردیت کے حصول میں کامیاب ہو سکیں۔ڈاکٹر ترکی نے مسئلہ کشمیر کو عالم اسلام کا ہی نہیں عالم انسانیت کا سنگین مسئلہ قراردیا اور رابطہ کی طرف سے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور ہماری تجاویز اور فیڈ بیک حکومت اور پالیسی ساز حلقوں تک بھی پہنچانے کا وعدہ بھی کیا۔اسی طرح کی ملاقاتیں ندوة الشباب اسلامی العالمیWAMY کے مرکزی اور علاقائی ذمہ داران سے بھی ہوئیں جنہوں نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ریڈیو اور اخبارات کے ساتھ بھی 5 انٹرویوز ہوئے جن میں کشمیر میں بھارتی ریاست دہشت گردی کے علاوہ بھارت ‘اسرائیل گٹھ جوڑ اور مسلم امہ کے حوالے سے ان کے عزائم کے بارے میں آگاہ کیا ۔
ایک اہم ملاقا ت O.I.C کے ڈپٹی سیکر ٹری جنرل عبداللہ عبدالرحمن العام سے ہوئی جو O.I.C کے سیاسی امور کے ذمہ دار بھی ہیں۔ملاقا ت تو سیکر ٹری جنرل صاحب سے مطلوب تھی لیکن وہ ہیڈ کوارٹر سے باہر ہو نے کی وجہ سے دستیاب نہ تھے ، اس لئے ان کے ڈپٹی سے جن کا اپنا تعلق بھی سعودی عرب سے ہی ہے تفصیلی ملاقا ت ہوئی ۔ان تک محترم سید علی شاہ گیلانی صاحب کا خط بھی پہنچایا جس میں انہوں نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کی تفصیلات بیان کی تھیںاور O.I.C سے اہل کشمیر کی توقعات کا اظہار بھی کیاگیاتھا ۔راقم نے ملاقا ت کے موقع پر گزشتہ چند سال سے جاری عوامی پرامن تحریک کو کچلنے کے بھارتی اقدامات کا تذکرہ کیا، کالے قوانین اور فوجی تسلط کے ذریعے کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ وہاں مسلمانوں کی عددی برتری کو ختم کر نے اور کشمیر کے دریاﺅں کارخ موڑ کر یا پانی روک کر آزاد کشمیر اور پاکستان کو صحرا اور بنجر بنا دینے کے اقدامات کی تفصیلات بیان کیں۔بھارتی مظالم پر عالمی سطح پرانسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی اداروں کی سطح پر ہو نے والے رد عمل سے آگاہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ مظالم روکنے کے لئے بھارت پر سفارتی دباﺅ بڑھایاجائے ۔O.I.C کی منظور شدہ قراردادوں کی روشنی میں کشمیر پر رابطہ گروپ کو فعال کیا جائے ، کشمیر پر قائم شدہ فنڈ کو متحرک کیا جائے ‘نیز ایمنٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ جیسی تنظیموں کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر جس طرح جامع رپورٹس آئی ہیں ‘اس طرح کی رپورٹ O.I.C کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے بھی آنی چاہئے ۔ اس سلسلے میں O.I.C کے سیکر ٹر ی جنرل اور کمیشن کو مقبوضہ کشمیر کادورہ کر نا چاہئے۔قبل ازیں بھی حقائق جاننے کے لئے ایک کمیشن بھیجنے کا فیصلہ ہوا ۔اس پر بھی فالو اپ ہو نا چاہئے ‘نیز کشمیری طلبہ اور افرادی قوت کے لئے تعلیم اور روز گار کے حوالے سے O.I.C کے ممبر ممالک خصوصی اہتمام کریں ۔نیز بھارت پر سفارتی دباﺅ بڑھانے کے لئے O.I.C کا خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا جائے۔ ڈاکٹر عبداللہ عالم نے تجاویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ O.I.C نے اس مسئلے کو ہر بین الاقوامی فورم پر اجاگر کیا ہے۔ نیز سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اوغلو اس مسئلے کو امت مسلمہ اور عالمی امن کے لئے اہمیت کے پیش نظر سفارتی اور اکیڈمیک سطح پر ہمیشہ پر زور طریقے سے اٹھاتے رہے ہیں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مفید سفارتی اقدامات کے لئے حکومت پاکستان اور دیگر ممالک کو بھی تحریک کر نا چاہئے۔پاکستان اس مسئلہ کا بنیادی فریق اور وکیل ہے ہم اس کی صوابدید پر ہیں ۔ قبل ازیں بھی حکومت پاکستان نے جو لائحہ عمل اپنایا O.I.C نے اسی کو اپنا لائحہ عمل اختیار کیا ۔ اس لئے O.I.C کی قراردادوں پر عمل در آمد یا مزید سفارتی اقدامات کے لئے حکومت پاکستان مؤثر فالو اپ رکھے گی تو ہماری کار کردگی بھی اسی قدر مؤثر ہو گی نیز ہمارے دورے کو سراہاتے ہوئے خود کشمیریوں کے وفود کے سفارتی دوروں کے اہتمام پر زور دیا۔ہم نے یہ تجویز بھی دی کہ حریت قائدین کو O.I.C ہیڈ کوارٹر مدعو کیا جائے اور سید علی گیلانی صاحب اور دیگر جن قائدین کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں یا بھارت انہیں یہ سہولت فراہم کر نے کے لئے تیار نہیں ہے O.I.C بھارت کو مجبور کرے کہ انہیں یہ سہولت فراہم کی جائے، جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ سیکرٹر ی جنرل سے مشورہ کر کے اس کا اہتمام کیا جائے گا۔
اسی عرصے میں بھارتی وزیر دفاع کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی بھارتی وفد نے بھی دورہ کیا جس میں وزیر دفاع اور دیگر سرکاری حکام سے ملاقاتیںکیںاور دونوں حکومتوں کے درمیان دستاویزات مفاہمت پر اتفاق ہوا۔ جن کی رو سے بھارت نے ہائیڈرو گرافی اور وارفیئر (Mountain Warfare) میں تعاون کی پیش کش کی جس پر پاکستانی کمیونٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جن کے بارے میں سعودی حکام اور رائے بنانے والے حلقوں تک احساسات پہنچائے اور تقاضا کیا کہ کشمیر کے تناظر میں ہماری خواہش ہے کہ مسلم دنیا ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھارت پر سفارتی دباﺅ بڑھانے کے لئے تجارتی اور سفارتی تعلقات محدود کئے جائیں چہ جائیکہ مسلم ممالک دو طرفہ تعلقات میں اضافہ کریں ،نیز مسلم ممالک کے حوالے سے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ اور ان کے مذموم عزائم کے بارے میں بھی متوجہ کیا۔ہمارے اس احتجاج پر ہر جگہ ہمیں دفاعی پوزیشن اختیار کرنی پڑی جب یہ جواب دیا گیا کہ جب پاکستان بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک قرار دے کر دو طرفہ تجارت میں اضافہ کرے گا تو کوئی دوسرا ملک بھارت سے کس طرح تعلقات محدود یا منقطع کرے گا‘ اس لئے کہ مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق اور وکیل تو پاکستان ہے مدعی سست اور گواہ چست دنیا کا وطیرہ نہیں ہے ۔البتہ یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ کشمیر اور پاکستان کی قیمت پر بھارت سے دو طرفہ تعلقات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔یہ دلیل بھی دی گئی کہ بھارت سے تعلقات کا ایک پہلو وہاںکروڑوں مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ بھی ہے۔ بہرحال سعودی عرب اور عالمی سطح پر دیگر ہمدرد حلقے جہاں سے ہمیں مزید مؤثر سفارتی حمایت مل سکتی ہے ،حکومت پاکستان کی کشمیر پر کمزور پالیسی اور داخلی کمزوریوں کے باعث امکانی حمایت سے کشمیری محروم رہ جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے جامع حکمت عملی طے کی جائے۔نیز اس سلسلے میں پاکستان کی دینی شخصیات جن کے وہاں موثر روابط ہیں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔سعودی عرب جیسے دوست ملک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو بھی بھارت پر دباﺅ بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے تاکہ وہ کشمیر میں مظالم ختم کرے ‘کشمیر سے فی الفور فوجی انخلاءکرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کا وعدہ پورا کرے ۔
نئے منظر نامہ میں عرب ممالک میں انقلابات کے بعد عرب دنیابین الاقوامی سطح پر مسلم مسائل کے حوالے سے مزید موثر اور ہم آہنگ کردار ادا کر سکے گی۔ اس لیے کہ سارے انقلابات اخوان المسلمون تحریک کی نصف صدی سے زائد عرصہ کی قربانیوں اور استقامت کا نتیجہ ہیں ۔ان سارے ممالک بالخصوص عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک مصر میں جو تہذیبی اور فکری اعتبار سے گزشتہ نصف صدی سے عرب دنیا پر اپنے اثرات مرتب کرتا رہا ہے میں اخوان کی اسلامی تحریک کی کامیابی کے بعد خطہ کا نقشہ تبدیل ہو رہاہے۔پچاس کی دہائی میں عرب ممالک میں موروثی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کر کے جو نام نہاد انقلابی لیڈر بن کر اپنے اپنے ممالک میں مسلط ہوئے انہوں نے موروثی حکمرانوںسے زیادہ استبداد یت اور شخصی آمریت قائم کر نے کی کوشش کی ۔ اخوان نے اس سارے عرصے میں حزب اختلاف کا کردار ادا کیا ،ان ظالم حکمرانوں نے مرشد عام حسن البناء،اخوان کے فکری رہنما سید قطب سمت ہزاروں قائدین کو شہید یا جلا وطن کیا گیا ۔ابتلاءکے اس دور میں اسلامی تحریک کے لئے سعودی عرب کے حکمرانوں با لخصوص شہید شاہ فیصل نے اپنے دروازے کھول دئے یوں عرب انقلابات کے بعد سعودی عرب اور اسلامی تحریکوں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی کے امکانات ہیں ۔اگرچہ امریکہ بہادر کو قبول نہ ہوگا اور وہ رخنہ اندازی کی بھی کوشش کرے گا لیکن سعودی عرب کی دینی فضا انشاءاللہ ایسی سازشوں کا بھر پور توڑ کر سکے گی ۔ اس لئے حکومت پاکستان اور پالیسی ساز وں کو اس بدلتے ہوئے تناظر کی روشنی میں اپنی حکمت عملی طے کر نی چاہئے۔ فی الفور نئے حکمرانوں‘ ممبران پارلیمنٹ اور اخوان کی فکری قیادت سے اعلیٰ سطحی روابط استوار کرنا چاہئیں ۔وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اور پارلیمانی وفود کے دورے مفید ہو سکتے ہیں ابھی تک جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت نے یہ فرض کفایہ ادا کیا ہے کہ سید منور حسن صاحب نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ مصر کا دورہ کیا۔ حکومت فرض عین نبھانے کا اہتمام کرے اور حکومت اور پارلیمان بھی اپنے کردار ادا کریں ۔
ان ممالک میں ماضی کی حکومتیں فوج کے سائے میں مسلط رہی ہیں ‘جن کے مفادات مغربی دنیا سے وابستہ تھے۔ جنہوں نے سٹریٹیجی اور سازو سامان بھی ان ہی ممالک سے مستعار لیے تھے ۔ نئے عرب بہار کے نتیجے میں انقلابات کے بعد ان کی عسکری اور دفاعی حکمت عملی میں بھی ایک جوہری تبدیلی کا امکان ہے ۔اس خلاءکو پرکرنے کے لیے بھارت نے ابھی سے وفود بھیجنے شروع کر دیے ہیں ۔ ہمارے دفاعی اداروں کو اس پر نظر رکھنا ہوگی اور بھارتی نفوذ کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔
دورے کے دوران میں یہ بھی محسوس ہو اکہ سعودی عرب کی رائے عامہ میں شام اور بحرین کے بارے میں ایران کی پالیسی پر سخت تحفظات ہیں۔تجزیہ نگاروں کے مطابق شام کی بعثی اقلیتی حکومت کی انسانیت کش پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب میں شام کی تحریک مزاحمت جسے وہ تحریک جہاد بھی کہتے ہیں کے ساتھ ہمدردی کی زبردست لہر موجود ہے ۔ تمام بڑی مساجد میں اہتمام بعثی اقتدار کے خاتمہ کے لیے قنوط نازلہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ حکومت اور عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر ریلیف بھی جمع کیا جا رہا ہے ۔یہ فضا سعودی عرب کے علاوہ ترکی سمیت باقی عرب دنیا میں بھی اسی سطح پر موجود ہے ۔ شام کی حکومت کی استبدادی پالیسیوں کی وجہ سے اس کے ساتھ ساتھ ایران کی پالیسی کے بارے میں غم وغصہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسی طرح بحرین کی اپوزیشن اور سعودی عرب کے منطقہ شرپسند میں اہل تشیع کے مطالبات کی کھلم کھلا حمایت پر بھی ایران پر نکتہ چینی کی جا رہی ہے ۔عرب تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کی اس پالیسی کی وجہ سے شیعہ سنی اختلافات کی خلیج وسیع ہو رہی ہے ۔اس صورت حال میں مزید بگاڑ پوری مسلم دنیا بالخصول پاکستان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے ۔اس حوالے سے بھی حکومت پاکستان اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ وہ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرتے ہوئے خلیج کو کم کرنے کے لیے حکمت عملی طے کرے۔
دورہ میں پاکستان اور کشمیر ی کمیونٹی کے درمیان بھی بھر پور نشستیں ہوئیں ‘تحریک آزادی کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے اگاہ کیا اور اس حوالے سے انہیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیااور پاکستان کے حوالے سے مایوسی دور کر نے کی کوشش کی ، اس طرح کی 47 نشستیں ہوئیں۔سعودی حکام ،اداروں ، میڈیا اور اہم افراد کے ساتھ 25 مفید نشستیں ہوئیں ،یونیورسٹی اساتذہ کے ساتھ بھی نشستیں ہوئیں ۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ نے سعودی عرب میں تعلیمی انقلاب بر پا کردیا ہے ۔ چند سالوں میں یونیورسٹیوں کی تعداد 7 سے بڑھ کر 27 ہو گئی ہے جبکہ آٹھ پرائیویٹ یونیورسٹیاں بھی قائم ہو چکی ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں تدریسی عملہ درکار ہے ۔ یہ جان کر مسرت ہوئی کہ سعودی حکومت کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ پاکستانی اساتذہ ان کی نئی نسل کی تربیت میں کردار ادا کریں ۔ اس لئے کہ ابھی تک جامعات میں موجود پاکستانی اساتذہ نے بہت متاثر کن ساکھ قائم کی ہے یہ ایک اہم موقع ہے اس سے استفادہ کے لئے حکومت کو جامع حکمت عملی اختیار کر نی چاہئے۔
سعودی حکومت نے بہت جرات اور تدبر سے 9/11 کے بعد امریکہ دباﺅ کا مقابلہ کیا ،امریکی رپورٹس کے مطابق 9/11 کے واقع کے مبینہ ملزمان میں 19 میں سے 14 کا تعلق سعودی عرب میں سے تھا۔ اس تناظر میں سعودی عرب پر دباﺅ فطری امر تھا اس حوالے سے سب سے اہم مطالبہ یہ کیا گیا کہ امریکہ کو مطلوب افراد اس کے حوالے کئے جائیں ،لیکن سعودی حکومت نے اپنے کسی بھی شہری کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا بلکہ یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارا اپنا عدالتی نظام شفاف ہے اس میں مقدمات قائم کریں گے۔اسی طرح سعودی نظام تعلیم پر بھی بہت دباﺅ تھا کہ اسے تبدیل کیا جائے لیکن اس حوالے سے بھی سعودی حکومت اس دباﺅ کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے اپنی ضروریا ت اور قومی امنگوں سے ہم آہنگ نصاب تعلیم میں کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی ۔ انہوںنے کمال دانش مندی سے انتہا پسندی کی لہر کو بھی خوش اسلوبی سے فرد کر لیا۔وہ عناصر جو بندوق کی نوک پر تبدیلی لانا چاہتے تھے انہیں پکڑ کر غائب کر نے یا حراست میں قتل کر نے کے بجائے ان سے مکالمہ کا طریقہ اختیار کیا ۔بڑے قابل احترام علماءاور سکالرز سے مذاکرات اور مکالمہ سے انہیں باور کرایا کہ ان کا یہ لائحہ عمل دعوت کے عمل کے لئے بھی اور مجموعی طور پر اسلام کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔چنانچہ بڑی دانشمندی سے انہوں نے خانہ جنگی کے ماحول سے بچاتے ہوئے ایسے عناصر کو دعوت کے عمل میں لگا دیا ۔ہماری حکومت اور اداروں کو سبق حاصل کرنا چاہئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض طاقت ہی مسائل کا حل ہے ، امریکہ نے یہ کر کے دیکھ لیا اب وہ ایک ذلت امیز شکست سے دو چار ہے ۔ بھارت نے یہ حربہ کشمیر میں آزمایا اس کے جبر وتشدد کے ہر حربے کے نتیجے میں رد عمل کے طور پر تحریک آزادی کو جہت ملی ۔یہاں بھی ناراض نوجوانوں کو غائب کر نا یا حراست میںقتل کے ذریعے انتقام کی آگ ٹھنڈا کر نے کا نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں سامنا آرہا ہے جو ملک و قوم اور دفاعی اداروں سب کے لئے تباہی کا باعث بن رہا ہے۔اس حوالے سے بھی سعودی تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ سعودی عرب میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا شعبہ بھی عالم استعمار کا خصوصی ہدف رہا اور یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ اسے ختم کیا جائے لیکن سعودی حکومت نے اس حوالے سے بھی اپنے عصاب بحال رکھے اسے اسلامی حکومت کا ایک بنیادی فریضہ قرار دیتے ہو ئے اسے برقرار رکھا ۔یوں ان سارے تجربات میں یہ سبق ہے کہ اگر کسی قوم کی قیادت اپنی قوم کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو تو وہ نا مساعد حالات میں بھی اپنی قومی اثاثوں کی حفاظت کرسکتی ہے جنہیں 9/11 کے بعد جنرل مشرف اور اس کی ٹیم اور اس کے تسلسل میں موجودہ حکومت اور ان کے حالی وموالی تباہ کر نے پر تلے ہوئے ہیں۔سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ اور سوسائٹی میں پہلے سے زیادہ اظہار رائے کی آزادی کا اہتمام نظر آیا ۔ بالخصوص خواتین کی تعلیم کی شرح گزشتہ کچھ عرصے میں بہت بلند ہوئی ہے ۔ انہیں اختلاط مردو زن سے بچاتے ہوئے خصوصی خدمات کے شعبوں میں کھپانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔ سعودی عرب کے نظام نے یہ ثابت کیا کہ اشتہارات کی زینت اور جنس بازار بنائے بغیر بھی عورت ترقی کر سکتی ہے اور کاروبار تجارت بھی فروغ پا سکتا ہے۔
دورے کے دوران میں ایک طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے موجودہ سفیر جناب نعیم خان کے بارے میں کمیونٹی نے اچھے تاثرات کا اظہار کیا ۔ او آئی سی سیکرٹریٹ میں ہماری میٹنگ کے انعقاد میں انہوں نے خصوصی دلچسپی لی ۔ وائس کونسلر جنرل جدہ عمران صدیقی جو ایک با صلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سفارت کار ہیں کو یہ مشن سونپا جو انہوںنے بہت خوش اسلوبی سے نبھایا۔اس طرح جدہ کونصلیٹ میں تعینات ٹریڈ سنٹر حجاب گل نے حیرت انگزی انکشافات کیے کہ ان کی کاوشوں سے گزشتہ مختصر عرصے میں او آئی سی ممبر ممالک کے ساتھ تجارتی حجم میں چونتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک اچھی حکمت عملی کے ساتھ اس میں مزید بھی بے پناہ اضافے کی گنجائش موجود ہے ۔ مسلم دنیا ہماری فطری حلیف اور وسیع مارکیٹ ہے جس پر امریکہ سے لے کر بھارت للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ مغرب سے مرعوب پاکستانی سیاسی و انتطامی اشرافیہ کی غفلت کی وجہ سے اس فطری مارکیٹ سے بھر پور استفادہ نہیں کیا جا رہا جو لمحہ فکریہ ہے ۔ پالیسی سازوں ‘ سیاسی خلفشار‘ کرپشن اور نا اہلی کی داستانوں کی وجہ سے بھی بیرون ملک پاکستانی اور مسلم دنیا میں پاکستان دوست حلقوں کو سخت تشویش ہے ۔ چھوٹے چھوٹے مسائل کو بے مہار الیکٹرانک میڈیا جس طرح بریکنگ نیوز کی شکل میں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اس سے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پوری امت مسلمہ کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں ۔اب یہ پاکستانی قیادت ‘حکومت اور پالیسی ساز اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کی صف بندی ٹھیک کریں ۔ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کے چنگل سے نکلیں اور اسلام کے عادلانہ نظام پر مبنی فلاحی معاشرہ قائم کریں ۔اس سے پاکستان مستحکم ہوگا ۔اس کا سفارتی مقام بلند ہوگا اور امت مسلمہ کی قیادت کر سکے گا جسے ایک قائد کی ضرورت ہے۔

Add comment


Security code
Refresh