تازہ خبریں

library

Islamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic LibraryIslamic Library
 
spinner

جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کا 45واں یوم تاسیں اور وثرن

raja zakir

راجہ ذاکرخان


جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیرگلگت بلتستان کا قیام 13جولائی 1974 ء کو عمل میں آیا،اپنی تاسیس سے لے کراب تک جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے قیام ،عوامی خدمت اور تحریک آزادی کشمیرکو منزل سے ہمکنارکرنے کے لیے جوکارہائے نمایان سرانجام دیے وہ تاریخ کے درخشندہ اور شاندار باب ہیں۔جماعت اسلامی کے قیام کے لیے 13جولائی کے دن کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ اسی دن سرینگر میں اذان مکمل کرتے ہوئے ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں 22مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اللہ کی کبریائی بلند کی تھی اوراپنی منزل کا تعین کردیاتھا۔جماعت اسلامی اسی منزل کی جانب گامزن ہے اور قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کررہی ہے۔جماعت اسلامی کے قیام کے موقع پر مولانا عبدالباری مرحوم جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرگلگت بلتستان کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔ان کے بعد کرنل (ر)رشید عباسی مرحوم امیر منتخب ہوئے۔ان کی وفات کے بعد عبدالرشید ترابی اور بعد ازاں سردار اعجاز افضل خان اورپھرعبدالرشید ترابی اس کاروان سخت جاں کے امیر رہے۔ اراکین جنرل کونسل نے سیشن 2017تا 2020ء کے لیے ڈاکٹر خالد محمود کو اپنا امیر چنا ہے جو اس وقت اس کاروان کی قیادت کررہے ہیں۔
جماعت اسلامی وہ واحد جمہوری جماعت ہے اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تاسیس سے لے کر اب تک دستور کے مطابق ایک دن کی تاخیر کیے بغیر اپنے امیر کا انتخاب کرواتی چلی آرہی ہے اور امیر جماعت کا انتخاب ہر تین سال بعد اراکین جنرل کونسل خفیہ رائے دہی سے کرتے ہیں۔مرکزی مجلس شوریٰ سہولت کے لیے تین نام تجویز کرتی ہے۔لیکن اراکین جنرل کونسل ان ناموں کے علاوہ بھی اگر کسی کو چاہیں تو امیر منتخب کر سکتے ہیں۔اس لحاظ سے اگر کہاہے کہ یہ حقیقی جمہوری جماعت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔اس لیے اس ملک اور ریاست میں اگر کوئی تبدیلی اور حقیقی جمہوریت لاسکتی ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے ۔باقی تقریبا ساری پارٹیاں خاندانی پارٹیاں ہیں۔جماعت اسلامی میں کارکن کو تقویٰ اور کام کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے جب کہ باقی جماعتوں میں سرمائے اور خاندانوں کی بنیاد پر آگے لایا جاتاہے۔
جماعت اسلامی میں امیر کے انتخاب کے لیے جو اوصاف مدنظر رکھے جاتے ہیں ان میں تقویٰ ،پرہیزگاری ،فہم وفراست اور ٹیم کو لے کر چلنے کی صلاحیت۔ان اوصاف کو سامنے رکھ کر ہر رکن جنرل کونسل دستور کے مطابق ووٹ دیتاہے نہ کہ علاقائی ، قبیلائی یا لسانی تعصبات پردیتاہے بلکہ اللہ کے سامنے جوابدھی کے نقطہ نظر سے ووٹ دیتا ہے۔انتخاب کے دوران کوئی فرد لابنگ یادخل اندازی نہیں کر سکتا۔دستور کے مطابق ایسا کرنے والا فرد چاہے مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن ہو یا رکن جنرل کونسل وہ معطل کر دیا جاہوتاہے ۔ مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور دستور پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انتخابی عمل صاف اور شفاف ہوتا ہے ، جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کا تصور کسی دوسری جماعت یا پارٹی میں نہیں کیا جاسکتا۔اس کاتنظیمی ڈھانچہ اتنا مضبوط ہے اگر کوئی فرد ایسا کرے گا تو بچ نہیں سکتا اور جماعت اسلامی کی تربیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کا کام نہیں کرسکتا۔
جماعت اسلامی چونکہ جمہوری جماعت ہے اور مشاورت پر یقین رکھتی ہے اس لیے مرکزی مجلس شوریٰ کی مشاورت سے پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن کو امیر جماعت اسلامی اور مرکزی ٹیم لے کر چلتی ہے۔مرکزی مجلس شوریٰ کے تیس میں سے 25ممبران براہ راست منتخب ہوتے ہیں اور ان کو بھی اراکین جنرل کونسل منتخب کرتے ہیں ان کانصاب اراکین کی تعداد پر طے کیا جاتاہے اور وہ بھی مرکزی شوریٰ طے کرتی ہے۔ جماعت اسلامی میں فیصلے انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں ہر فرد کو کھل کراپنی رائے کااظہارکرنے کی آزادی ہوتی ہے اور اجتماعی طورپر جو فیصلے ہوجائیں ان کوتسلیم کیاجاتاہے اسلام کی روح بھی یہی ہے۔
جماعت اسلامی باقی پارٹیوں سے اس لیے منفرد ہے کہ یہ ایک انقلابی تحریک ہے جو فرسودہ نظام کو تبدیل کرکے اس کی جگہ وہ نظام لانا چاہتی ہے جو اللہ نے دیاہے اور نبی ﷺ نے مدینے میں قائم کرکے دیکھایاہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجااس کے ذمہ یہ کام لگایاکہ وہ زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرے گا اور انسان اللہ کے دیے ہوئے قانون کے مطابق اپنی زندگیا ں بسر کریں گے،جو ایسا کرے گا وہ موت کے بعد ہمیشہ رہنے والی جنت میں جائے گا اور جو نہیں کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔یہ دو راستے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعے انسانوں کو بتائے۔جن لوگوں نے انبیاء کی بات مان لی وہ کامیاب ہوگئے او رجنھوں نے انکار کردیاوہ ناکام اور نامراد ہوگئے۔
یہی پیغام نبی آخرالزمان کا تھا۔ نبی ﷺ نے اس نظام کو قائم کرکے دیکھایا،مدینے کی ماڈل ریاست جو نبی ﷺ نے قائم کی دنیا کے لیے ایک مثال تھی۔ اس جیسی ریاست آج تک کوئی قائم نہ کرسکا،یہ نظام خلفاء راشدین تک اور کچھ عمر بن عبدالعزیز نے قائم کیاجو مثالی تھا،اس کے بعد اس نظام کی عمارت گرگئی جس کی وجہ سے امت مسائل کاشکارہوگئی ،نبی ﷺچونکہ آخری نبی ﷺ ہیں ان کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا اس لیے اب وہ کام جو بنی ؑﷺکا تھا وہ کام اب اس امت کا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس امت کے بارے میں فرمایا کہ یہ امت وسط ہے اور اس کا کام نیکی کا حکم دینا ہے اور برائی سے منع کرنا ہے،اس کو بہترین امت قراردیاگیاہے۔آج ہمارا دین بطور نظام حیات مغلوب ہے اور جماعت اسلامی اسی لیے اٹھی ہے کہ وہ دین کو بطور نظام حیات قائم کرے۔
جماعت اسلامی کی ذمہ داری مختلف ادوار میں جن قائدین کے کندھوں پر رہی ، انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں لگاکر ان کی آبیاری کی۔ جماعت اسلامی نے زمام کار کی تبدیلی ،اصلاح معاشرہ ،عوامی خدمت اورتحریک آزادی کشمیرمیں گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور دے رہی ہے۔
جماعت اسلامی نے سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کے پیش نظر نسل نوکے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کے لیے آزاد کشمیربھر اور گلگت بلتستان میں 4سو سے زائد سکولز اور کالجز قائم کیے۔ان سکولوں میں لاکھوں بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد کے قریب زیر تعلیم ہیں۔تعلیم کے میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے،بورڈمیں ہمیشہ پوزیشنز ریڈفاؤنڈیشن کی ہوتی ہیں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا جارہاہے۔تربیت کے بغیر تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے ریڈ فاؤنڈیشن نے تعلیم کے ساتھ تربیت پر کام کیاہے تاکہ بچے ایمان دار دیانتدار اور والدین کاادب کرنے والے بن جائیں۔اس محاذ پر اگر کسی نے کام کیاہے تو ہ صرف جماعت اسلامی ہے،جماعت اسلامی نوجوان کی تربیت کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو نوجوانوں کی تربیت کرتی ہے۔آزاد کشمیرمیں نوجوانوں کی تربیت کا واحد ادارہ اسلامی جمعیت طلبہ ہے۔
جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قرآن کی تدریس اور فہم قرآن کے لیے 150سے زائد دینی ادارے قائم کیے جن میں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔جماعت اسلامی ان اداروں کے ذریعے ایسے علماء تیار کیے جو مسلکی اور فرقہ واریت سے بالاترہوکر دین کاابلاغ کررہے ہیں جو امت کو امت واحدہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور دور جدید کے چیلنجز سے آگاہ ہیں اور ان چیلنجیز سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عوامی خدمت کے میدان میں جماعت اسلامی نے کارہائے نمایاں سرانجام دے ہیں۔ 17ہزار یتیم بچوں کی کفالت جماعت اسلامی اور اس کے ادارے کررہے ہیں۔ان بچوں کی تعلیم کے سارے اخراجات اور دیگر مسائل بھی جماعت کے ذمہ ہیں۔اس کے علاوہ سینکڑوں بیواؤں ور بے سہارا لوگوں کی کفالت جماعت اسلامی اور اس کے ادارے کررہے ہیں۔زلزلہ ،سیلاب یااور قدرتی آفت میں جماعت اسلامی کے رضا کار سب سے آگے نظر آئیں گے۔
صحت کے شعبے میں بھی جماعت اسلامی نے گرں قدرخدمات سرانجادیں غریب اور نادار مریضوں کو مفت علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔آزاد کشمیراور گلگت بلتستان میں ہسپتال اورڈسپنریاں اس مقصد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔زلزلے کے موقع پر لاکھوں افراد کا مفت علاج کیاگیا۔اسی طرح عوامی فلاح کے دیگر منصوبہ جات جن میں صاف پینے کے پانی اور دیگر سینکڑوں منصوبے مکمل ہو چکے اور سینکڑوں زیر تکمیل ہیں۔جماعت اسلامی غریب اورنادار بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا بندوبست بھی کرتی ہے۔ان بچوں کو بیرون ملک سکالرشپ پر داخلے کروائے جاتے ہیں جبکہ یتیم بچیوں کی شادی کے اخراجات بھی برداشت کیے جاتے ہیں۔جماعت اسلامی عوامی خدمت بلا تخصیص کر رہی ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے ہیں۔
جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا عبدالباری مرحوم نے تحریک آزادی کشمیرکو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا،مقبوضہ کشمیرکے دورے کیے اور وہاں کے عوام اور قائدین کو آزادی کی تحریک کے لیے کام کرنے پر امادہ کیا،یہاں قومی قیادت اور ذمہ داران سے ملاقاتیں کروائیں،آزاد کشمیراو ر مقبوضہ کشمیرکے عوام کو ایک پیچ پر لایا۔ان کی ضروریات کا اہتمام کیا،اندورن ملک اور بیرون ملک دورے کیے اور ایک فضاء تیار کی۔اس حوالے سے جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جس نے تحریک آزادی کشمیرکے لیے سب سے زیادہ عملی کام کیا۔مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آ کر ہجرت کرنے والوں کی بے مثال خدمت کی اور ابھی بھی ان کی خدمت کی جا رہی ہے۔مہاجرین کے کیمپوں میں ان کے مسائل کے حل اور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ROKMسمیت دیگر ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ان کے بعد کرنل رشید عباسی مرحوم نے یہ بیڑا اٹھایا اور کام کو آگے بڑھایا۔ان کی اچانک رحلت کے بعد اس کام کابیڑا ٹھایا،عبدالرشید ترابی نے دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ، اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد ہوتا رہا جن میں مختلف ممالک کے سینکڑوں کی تعداد میں مندوبین اور سربراہان مملکت شریک ہوتے رہے جنہوں نے عبدالرشید ترابی کی تحریک پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعلان کیا اور متفقہ قراردادیں بھی منظور کیں۔ان ہی کوششوں اور کاوشوں کے نتیجے میں او آئی سی میں کشمیر کنٹیکٹ گروپ کا قیام عمل میں آیا اور برطانیہ کی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا ، یورپی یونین ، عرب لیگ اور دیگر فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیاگیا۔ابلاغ کے محاذ پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتب اور میگزین شائع ہو رہے ہیں ان سے دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور مسئلہ کشمیر سے آگاہی حاصل کر رہی ہے۔
مسئلہ کشمیر کو تحلیل کرنے کے لیے جب چارنکاتی فارمولا پیش کیا تھا تو جماعت اسلامی کے سوا سب ڈھیر ہو گئے۔اس وقت بھی جماعت اسلامی اور اس کی قیادت ہی کھڑی رہی چاہے وہ سردار اعجااز افضل خان ہوں یا عبدالرشید ترابی۔باقی ساری آزادکشمیرکی قیادت چار نقاطی فارمولے کی ٹرین پر چڑگئی تھی۔جماعت اسلامی اور اس کی قیادت نے تحریک آزادی کشمیر کو اس حادثے سے بچایا۔
آزاد کشمیرسے جن لوگوں نے مقبوضہ کشمیرمیں جاکر جہا دمیں عملی حصہ لیا ان کاتعلق بھی جماعت ا سلامی سے ہے۔مقبوضہ کشمیرکے ہر قبرستان میں آزاد کشمیرکے شہداء موجود ہیں۔آزادی کی منزل تک جماعت اسلامی کشمیری بھائیوں کے ساتھ رہے گی یہ ہمارا یمانی اور دینی فریضہ بھی ہے اور جماعت اسلامی کے دستور کاحصہ بھی ہے۔
جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کے ہاتھوں سے کروڑوں نہیں اربوں روپے مختلف منصوبوں پر خرچ ہوئے۔مگر کیا مجال کے کسی قیادت اور کارپرکوئی انگلی اٹھائے،یہاں ایک بات ذہین نشین رہنی چاہیے کہ جماعت اسلامی کی قیادت اورکارکن بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں او راسی طرح انسانی خواہشات رکھتے ہیں جس طرح دوسرے افراد ہیں۔یہ کوئی فرشتوں کی جماعت نہیں ہے،نہ ہی کوئی یہ دعویٰ کرسکتاہے۔کوتاہیاں اور کمزوریاں ہیں لیکن خیرغالب ہے۔ان لوگوں کے دامن صاف ہیں اس کا اعتراف آج دشمن بھی کررہے ہیںَ
جماعت اسلامی کے اس شاندار کردار کااعتراف پاکستان کی علیٰ عدلیہ نے بھی کیاہے۔یہ نہیں ہے کہ جماعت اسلامی کے پاس کچھ تھا ہی نہیں تو کرپشن کیا کرتے ؟امیر جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیرعبدالرشید ترابی ممبراسمبلی رہے۔ ایک دفعہ جیت کے نتیجے کو دوسرے دن تبدیل کروایا گیاوہ الگ بحث ہے،جب ممبر اسمبلی تھے تو پہلی مرتبہ کسی کو پتہ چلا کہ ایم ایل اے فنڈز بھی ہوتاہے،محکمہ لوکل گورنمنٹ نے عبدالرشید ترابی کے حلقے کو ماڈل حلقہ قراردیاتھا یہ ریکارڈ پر موجود ہے،365سیکمیں بلاتخصیص دیں یہ نہیں دیکھاکہ کس علاقے کے لوگوں نے ووٹ دیے تھے کہ نہیں دیے تھے سب کو برابر حق دیا،بلکہ جس علاقے کے لوگوں نے زیادہ ووٹ دیے اور دوسرے علاقے کے لوگوں نے کم ووٹ دیے تھے یہ نہیں دیکھا بلکہ جس کا حق جتنا آبادی کے بنیادبنتاتھا وہ دیا۔عبدالرشید ترابی نے دو بار جماعت اسلامی کو پارلیمانی نمائندگی دلائی اور جماعت کو سیاسی طور پر آگے بڑھایا۔
جماعت اسلامی کی قیادت نے کردار پیش کیاہے،کوئی ہے تو سامنے آئے۔جماعت اسلامی کے ساتھ اس وقت لاکھوں لوگ وابستہ ہیں،ہزاروں ممبران ہیں۔آزاد کشمیرگلگت بلتستان اور مہاجرین کے ہر حلقے میں ایک طاقت کے طو رپر موجود ہے،وقت قریب ہے کہ عوام جماعت اسلامی پر ہی اعتماد کریں گے اس کے علاہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرگلگت بلتستان چونکہ 1974ء میں ہی قائم ہوئی تھی اس لیے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔اس کے بعد 1977ء میں مارشل لاء لگ گیا،1985ء میں پاکستان کی طرف سے ایک شق لاگوہوئی جس کی بنیاد پر جماعت اسلامی نے انتخاب میں براہ راست حصہ نہیں لیا تھابلکہ تین جماعتوں کا اتحاد بناتھا جماعت اسلامی بھی اس کا حصہ تھی۔
اسی اثناء میں مقبوضہ کشمیرکے اندر تحریک آزادی کشمیرپوری قوت کے ساتھ شروع ہوگئی ہزاروں کی تعدا د میں مقبوضہ کشمیرسے لوگوں نے ہجرت کرکے آزاد کشمیرکا رخ کیا،آزاد خطے سے جماعت اسلامی ہجرت کرکے آنے والوں کی رہائش او ردیگر ضروریات کی طرف لگ گئی،جماعت اسلامی نے مشاورت کے بعدتحریک آزادی کشمیرکے اس بڑے چیلنج سے عہدہ برا ء ہونے کے لیے اپنی ساری تونائیاں اس کی کامیابی کے لیے صرف کیں۔جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرنے اس تحریک کی تمام ضروریات پوری کیں۔1990ء کے انتخابات کے موقع پریہ تحریک عروج پر تھی تو جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ نے مشاورت سے فیصلہ کیاکہ اگر اس موقع پر جماعت اسلامی انتخابی میدان میں جاتی ہے تو ساری توجہ اور وسائل انتخابی معرکے میں کامیابی کے لیے لگیں گے تو تحریک آزادی کشمیرمتاثرہوگی،جماعت اسلامی نے انتخابات میں نہ جانے کا فیصلہ کیااوراپنی ساری توانائیاں تحریک آزادی پر صرف کیں۔تحریک کے تقاضوں کے مطابق سارے محاذوں پر کام کرکے تحریک آزادی کشمیر کو ایک تواناآوازاورمسئلہ کشمیرکو عالمی سطح پرفلش پوائنٹ
بنادیا۔
تحریک آزادی کشمیر کو کامیابی کی منزل سے ہمکنار کرنے کے لیے بیس کیمپ کے کردار کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی نے 1996ء میں مشاورت سے پہلی بار پوری قوت کے ساتھ میدان سیاست میں اترنے کا فیصلہ کیا،انتخابات میں جماعت اسلامی کو اچھے ووٹ بنک کے ساتھ پارلیمانی نمائندگی بھی ملی،جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر عبدالرشید ترابی نے اس پارلیمانی نمائندگی کے ذریعے مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق کے لیے جنگ لڑی۔2006ء میں جماعت اسلامی نے ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا،اس مرتبہ عبدالرشید ترابی 2100کی لیڈ سے جیت گئے تھے مگر رات کو نتائچ تبدیل کروائے گئے۔دوسرے دن عبدالرشید ترابی کی ہار کا اعلان کروایا گیا، ان انتخابات میں جماعت اسلامی کے دیگر امیداروں نے اچھے ووٹ حاصل کیے تھے۔ان انتخابات میں بھی ایک سازش کے تحت جماعت اسلامی کو اسمبلی سے باہر کیاگیا۔
جماعت اسلامی نے 2011ء میں ایک نومولود جماعت ن لیگ آزاد کشمیر کی پیش کش پر مشاورت کے بعد سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے انتخابات میں جانے کا فیصلہ کیا،اس بار بھی جماعت اسلامی کی جیتنے والی سیٹ عبدالرشید ترابی کے حلقے میں بغاوت کروائی گئی اور ایک فرد کو کھڑا عبدالرشید ترابی کے خلاف تاکہ ایک تو جماعت اسلامی کو اسمبلی میں نہ آنے دیاجائے اوردوسرا راجہ فاروق حید ر اور نومولود مسلم لیگ ن کا سرکچلاجائے۔جماعت اسلامی مخالف لابیز اپنے اہداف میں کامیاب ہوئیں اور جماعت اسلامی پارلیمانی نمائندگی حاصل نہ کرسکی۔
جماعت اسلامی نے 2016ء میں بھی مسلم ن آزاد کشمیر نے پھر پیش کش کی کہ مل کر سیاسی حکمت عملی اپناتے ہیں ، جماعت اسلامی نے اس پیش کش پر مشاورت کی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے انتخابات میں جانے کافیصلہ کیا،مسلم لیگ ن نے جماعت اسلامی کو دوبراہ راست سیٹیں ،دومخصوص سیٹیں ،مشیر حکومت اور حکومت بننے کی صورت میں اداروں میں بھی نمائندگی دینے کامعاہدہ کیا۔جماعت اسلامی نے اس پراتفاق کیااور جماعت اسلامی نے اخلاص کے ساتھ ہر حلقے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی مہم چلائی اور جیت کا فیصلہ جماعت اسلامی کے فیصلہ کن ووٹ سے ہی ہوا۔اس کے نتیجے میں جماعت اسلامی کو دوسیٹیں دیں۔مگر معاہدے کے مطابق کچھ اور وعدوں پرابھی تک عمل نہیں ہوا۔
اس وقت جماعت اسلامی دوسیٹوں کے ساتھ اسمبلی میں موجود ہے تحریک انصاف کی قیادت اسمبلی سے باہر ہے اور پیپلزپارٹی جس کی حکومت تھی وہ محض تین سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی۔اس حوالے سے جماعت اسلامی کی کامیاب حکمت عملی تھی۔موجودہ اسمبلی میں پیپلزپارٹی ،مسلم کانفرنس ،تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی برابربرابر نمائندگی ہے۔جماعت اسلامی کو یہ نمائندگی ووٹ دینے کے عوض ملی ہے۔جب سے جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن کی قیادت حکومت میں آئی ہے اسمبلی اور حکومت تحریک آزادی کی پشتیبان بن گئی ہیں۔قومی وقار میں اضافہ ہواہے نظام کی اصلاح کاکام شروع ہوا ہے۔میرٹ کی بحالی کے لیے این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ کرام کی بھرتیوں اور پبلک سروس کمیشن کی تشکیل نوجیسے اقدامات سے بہتری پیدا ہوئی ہے ۔شریعت اپلیٹ بینچ اور ختم نبوت کے قانون کی منظوری اور آئینی ترامیم کے حوالے سے جماعت اسلامی نے اہم کردار ادا کیا اورکررہی ہے۔جماعت اسلامی خیر کے کاموں میں تعاوں کرے گی اور مسائل کی نشان دہی کرتی رہے گی۔
16جولائی 1917ء سے 2020ء تک اس کاروان کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان ہیں جو کاروان کو آگے لے کرچل رہے ہیں،ان کی قیادت میں مشاورت سے جماعت اسلامی نے وثرن 2030 کے نام سے کام کا آغاز کیاہے،وارڈ کی سطح تک موثر تنظیم قائم کرنے کے ہدف پر کام جاری ہے،بلدیاتی انتخابا ت کی تیاری ہورہی ہے،ممبرسازی اور تنظیم کو مضبوط کیا جارہاہے،قرآن وسنت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی کوشش ہورہی ہے،جماعت اسلامی نے کشمیرکی آزادی اور بیس کیمپ کی خوشحالی کے لیے مخلص،دیانت دار پرعزم اور جرات مند قیادت کی تیاری کا عمل شروع کیاہواہے،ہر سطح پر لیڈر شپ کی تیاری اور نئے ممبرننے والوں کی تربیت کا اہتمام کیا جارہاہے،جماعت اسلامی خطے کا مستقبل ہے۔اگر ایک سیاسی جماعت ہوکر جماعت اسلامی نے عوام کے لیے یہ سب کچھ کیاہے اگر اس کے پاس اختیارات اور وسائل ہوں تو یہ اس خطے کو ماڈل اسلامی فلاحی ریاست بناسکتی ہے۔