لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس متفقہ طور پربھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں پاکستان کی شاندار فتح پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتاہے۔یہ اجلاس اللہ کا شکر ادا کرتا ہے جس نے پاکستان کودشمنوں کے سامنے سرخرو کیا۔یقیناً یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس نے ریاست جموں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مایوسیوں کو ایک امید میں بدل دیا ہے۔ اس موقعے پر ہم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے قوم کی امنگوں کے عین مطابق بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔یہ اجلاس حالیہ جنگ میں شہادت کا اعزاز حاصل کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتاہے اوران گھرانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتاہے۔ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے کہ جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اس بات پر فخر کا اظہار کرتا ہے کہ پوری قوم نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کامقابلہ کیا ہے اور کسی بھی سیاسی یا مسلکی اختلاف سے بالاتر ہو کر قومی و ملی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔یہ اجلاس ترکیہ‘چین‘آذربائیجان‘ بنگلہ دیش سمیت تمام برادر ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس موقعے پر کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت اور تعاون کیا۔مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس اس موقعے پر اس امر کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 77برسوں سے واحد بڑا مسئلہ،مسئلہ کشمیر ہے۔بھارت نے جموں کشمیرکے مظلوم انسانوں کو ایک بڑی جیل میں بند کر رکھا ہے۔ ایک مدت سے جموں کشمیرکے عوام کو بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں،سیاسی قائدین اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہے۔گزشتہ ستتر برسوں میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں کا قتل کیا گیاہے,لاکھوں بے گھر اورہزاروں معذور کردیے گئے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اداروں کے احتجاج کے باوجود بھارت نے طاقت کے زور پر اہل کشمیر کو ان کا حق نہیں دیا۔یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ
کشمیر کا تنازعہ محض زمین و پانی کا مسئلہ نہیں، یہ ایک قوم کے وجود، انسانوں کے بنیادی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کا سوال ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی، دینی، جغرافیائی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ہر فورم اور مذاکراتی عمل کو کشمیریوں کی آزادی اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرے۔بھارت لاتوں کا بھوت ہے جو کبھی باتوں سے نہیں مانتا۔حالیہ جنگ میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بھارت طاقت کے نشے میں چور ہوکر کشمیر سے دنیاکی نظریں ہٹانا چاہتا تھا لیکن پاکستان کی طرف سے بروقت جواب نے اسے نہ صرف ہزیمت سے دوچار کیا بلکہ عالمی سطح پر بری طرح بے نقاب ہوا ہے۔اس لیے پاکستان ایسے حالات میں کسی طرح کی کمزوری دکھانے کی بجائے کشمیریوں کے جائزحق کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر جدوجہد تیز کرے۔یہ وہ موقع ہے جسے پانے کے لیے قومیں برسوں جدوجہد کرتی ہیں۔اللہ نے پاکستان کو جو شاندار موقع دیا ہے اس کی وجہ سے اہل کشمیر کی توقعات بڑھ چکی ہیں۔اس لیے کسی بھی سطح کے مذاکراتی عمل میں پہلا اور غیر متزلزل مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ بھارت 5 اگست 2019 سے پہلے والی آئینی حیثیت (آرٹیکل 370 اور 35A) بحال کرے، تاکہ مسئلہ کشمیر کی حیثیت ایک ”متنازعہ مسئلہ“کے طور پر دنیا کے سامنے برقرار رہے۔
پاکستان کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ اگر عالمی امن، اصول اور انصاف کا احترام مطلوب ہے تو پھر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے، جس کی ضمانت سلامتی کونسل دے چکی ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتاتوجنوبی ایشیا کا امن دوجوہری طاقتوں کی کشمکش کی وجہ سے برباد ہوجائے گا‘جس کے اثرات مدتوں قائم رہیں گے۔بین الاقوامی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے اس وقت پاکستان اور بھارت نے وقتی طور پر سیزفائر کیا ہے لیکن بھارت ایک ناقابل اعتبار ملک ہے جس نے کبھی اپنے وعدوں کی پاس داری نہیں کی‘اس لیے پاکستان کسی بھی طرح کے مذاکراتی عمل میں جاتے وقت مطالبہ کرے کہ بھارت جموں کشمیر کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہوئے فوجی محاصرہ ختم کرے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں اورآزاد میڈیا کو ریاست میں داخلے کی اجازت دے۔برسوں سے عقوبت خانوں میں محصورکشمیری قیادت کو رہا کرے۔بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کے پانی کو محدود کرنے کی کوششیں بند کرے۔ مذاکرات میں
اس معاہدے کی بین الاقوامی نگرانی اور ثالثی پر زور دیا جائے۔پاکستان کو دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا کہ کوئی بھی حل کشمیری عوام کی شمولیت اور مرضی کے بغیر قابلِ قبول نہیں۔ اصل فریق کی شرکت سے مذاکرات موثر اور حل طلب ہوں گے۔اجلاس امید رکھتا ہے کہ پاکستان جموں کشمیر کی آزادی کا یہ بہترین موقع ضائع نہیں ہونے دے گا۔