عوام دو وقت کی روٹی کے لیے تر س رہے ہیں اور ممبران اسمبلی اپنی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کررہے ہیں،جماعت اسلامی آزاد کشمیرکی مرکزی مجلس شوریٰ کی قرارداد
اسلام آباد:جماعت سلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان کی مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی خاص کر رمضان المبارک میں قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اس ماہ مقدس میں اشیا خودونوش عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں وزیر اعظم آزاد کشمیر کابینہ کے سائز کو کم مراحات یافتہ طبقے کی مراحات ختم کر کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں
3ہزار سے زاہدمیگاوٹ بجلی پیدا کرنے والا خطہ لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے آزاد خطے کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے آزاد خطے میں لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار واپڈا کم اور آزاد کشمیر کا محکمہ برقیات زیادہ ہے محکمہ برقیات بجلی چوری روکنے اور لوڈ مینجمنٹ میں بری طرح ناکام ہے جس کی وجہ سے آزاد کشمیر کے عوام لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے دوچار ہیں
یہ اجلاس حکومت آزاد کشمیرسے مطالبہ کرتا ہے کہ نیلم جہلم میگا پروجیکٹ جو اندرونی طورپرسلائیڈنگ سے بند پڑا ہے اور ماہانہ عربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے کے ذمہ دار کا تعین کرتے ہوئے قرار واقعی سزا دے۔یہ اجلاس بلدیاتی نمائندوں کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ اگر حکومت نے بلدیاتی نمایندوں کو آئین میں ترمیم کر کے بااختیار اور باوسائل نہ بنایا تو جماعت اسلامی بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ مل کر بڑی کال دینے پر مبجور ہوگی۔آزاد کشمیر میں سی پیک کے منصوبوں پر کام کا آغاز نہیں ہوا اس پر فوری کام شروع کیا جائے
بیس کیمپ میں منشیات جیسی لعنت تیزی سے پھیل رہی ہے اس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں حکومت ریاست کو خود کفین بنانے کے لیے سیاحت کو فروغ دے اور سیاحت میں پرائیویٹ انوسٹرز کو بھی دعوت دے حکومت طلبہ یونیز کو بحال کرے تاکہ قوم کو مخلص اور باصلاحیت قیادت میسر آئے جو ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔موروثی قیادت عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کررہی ہے۔یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ریاست کے ہر محکمے میں بھرتی این ٹی ایس کے ذریعے کی جائے تاکہ غریب کے بیٹے کے لیے بھی سرکاری نوکری کے دروازے کھلیں۔حکومت آزاد کشمیر گورننس کے نظام کو بہتر کرے تاکہ آزاد کشمیر اندر پایا جانے والا اضطراب ختم ہواور عوام سکھ کا سانس لیں یہ اجلاس حالیہ دونوں میں میرپور میں خاتون کی پولیس آفسر کی ہراسمنٹ کی مذمت کرتا ہے اور وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے کر واقعے کی تحقیقات کر کے ملزم کو قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ اس طرح کے سانحات کا تدارک ہو سکے نیز خواتین کے لیے الگ پولیس اسٹیشن قائم کیے جائیں جن میں خواتین اپنے مسائل لے کر جاسکیں اور ان کے مسائل حل ہو سکیں۔عوام دو وقت کی روٹی کے لیے تر س رہے ہیں اور ممبران اسمبلی اپنی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کررہے ہیں جو تشویش ناک ہے۔